تعلیمی ادارے بند کرنے کا مطالبہ کیوں زور پکڑنے لگا؟


کرونا وائرس کے کیسز میں کمی کے پیش نظر وفاقی حکومت نے 7 جون سے تعلیمی ادارے تو کھول دیے لیکن قیامت خیز گرمی کی وجہ سے اب پنجاب میں فورا گرمی کی چھٹیاں شروع کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ بچوں کو گرمی سے بچایا جا سکے۔
یاد رہے کہ ہر سال پنجاب میں جون سے لے کر اگست کے وسط تک مجموعی طور پر ڈھائی ماہ کی گرمیوں کی چھٹیاں دی جاتی تھی لیکن اس مرتبہ کرونا وائرس کی وجہ سے پہلے سے دی گئی چھٹیوں کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا کہ تعلیمی اداروں کو جون کے مہینے میں کھول دیا جائے اور جولائی سے گرمیوں کی چھٹیاں شروع کی جائیں۔ لیکن پھر ایک دم پنجاب میں گرمی کی شدید ترین لہر آگئی جس کے بعد اسکولوں میں روزانہ سینکڑوں بچے گرمی سے بے ہوش ہونے لگے۔ 9 جون کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شدید گرمی کے ساتھ ساتھ بجلی نہ ہونے کے باعث گورنمنٹ فیڈرل اسکول کے 25 بچے بے ہوش ہوگئے تھے۔ اسی طرح کے درجنوں دیگر واقعات میں لاہور گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں بھی گرمی سے بچوں کے بے ہوش ہونے کی خبریں سامنے آئیں جس کے بعد والدین نے شدت سے حکومت پنجاب سے یہ مطالبہ کرنا شروع کر دیا ہے کہ فوری طور پر گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان کر دیا جائے۔
ملک میں شدید گرمی کی اس لہر کے بعد تعلیمی ادارے بند کرنے کے لیے ٹوئٹر پر ‘HEATWAVE’ کا ہیش ٹیگ بھی ٹاپ ٹرینڈ کررہا ہے۔ راحیلہ نامی ایک خاتون صارف نے لکھا کہ اب یونیورسٹی جانے اور واپس آنے کے بھی حالات نہیں رہے ہیں۔ گرمی اتنی زیادہ ہے کہ انسان سر سے پاؤں تک پسینے میں شرابور ہو جاتا ہے۔ ایک اور صارف نے کہا کہ 44 ڈگری سینٹی گریڈ کا درجہ حرارت اور لوڈشیڈنگ جاری ہے جبکہ عمران خان کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں ہے۔ لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ اتنی گرمی میں بچوں کا کیا قصور ہے جنہیں سکولوں میں بلوایا جارہا ہے۔ اپنے بچوں کی حالت دیکھ کر ہمارا گھبرانا بنتا ہے لہذا فوری طور پر تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیاں کی جائیں۔
ایک اور ٹوئٹر ہینڈل ڈی آر نے لکھا کہ حال ہی میں اسکولز کھولے گئے ہیں لیکن اب درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ ہو جانے سے سکول کے بچوں کو ڈی ہائیڈریشن اور ہیٹ اسٹروک ہو رہا ہے، میں نے سرکاری اسکول سے پڑھا ہے مجھے معلوم ہے وہاں پنکھے بھی نہیں ہوتے، برائے مہربانی فوری طور پر تعلیمی اداروں کو بند کیا جائے۔
اسی طرح رانا زین نے کہا کہ 2018 تک گرمیوں کی چھٹیاں 25 یا یکم جون سے 15 اگست تک ہوتی تھیں، لیکن موجودہ تبدیلی حکومت نے جون میں تعلیمی ادارے کھول دیے، بھلا۔کوئی پوچھے کہ 45 ڈگری سینٹی گریڈ گرمی میں آپ کونسا تعلیمی قلعہ فتح کرنا چاہتے ہیں؟
محمد حذیفہ نے اسلام آباد میں سکول بچوں کے بے ہوش ہونے کی خبر شیئر کرتے ہوئے سب کو محفوظ رہنے کی تاکید کی اور تعلیمی ادارے بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ رائز آف اسٹوڈنٹس نامی ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا کہ مجھے معلوم ہے کہ کرونا کی وجہ سے طلبہ کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے لیکن اب شدید گرمی طلبہ اور تعلیم میں رکاوٹ بن رہی ہے مگر طلبہ صرف اس وقت تعلیم حاصل کرسکتے ہیں جب ماحول اچھا ہو۔ لہذا انہیں سزا دینے کی بجائے چھٹیاں دی جائیں۔ ابراہیم ملک نامی صارف نے لکھا کہ جلد از جلد اسکولز بند کریں، یہ نہ ہو کہ کرونا کی بجائے ہیٹ اسٹروک سے صورتحال ذیادہ بگڑ جائے۔

Close