کپتان کی آنکھ کا تارا واجد ضیا اچانک کیوں فارغ ہوا؟


سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف پاناما پیپرز کی تحقیقات سے شہرت اور بدنامی کمانے والے عمران خان کے لاڈلے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیا کی اچانک اتنے اہم عہدے سے فراغت اور کھڈے لائن پوسٹنگ کے بعد سے افواہوں کا ایک طوفان برپا ہے کہ آیا انہیں جہانگیرترین کے مطالبے پر ہٹایا گیا ہے یا شہزاد اکبر سے اختلافات پیدا ہو جانے کی وجہ سے۔
یاد رہے کہ واجد ضیا سے پہلے ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو بھی اسی طرح اچانک ان کی ریٹائرمنٹ سے چند مہینے پہلے مجھے فارغ کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ وزیراعظم کے ساتھی چاہتے تھے کہ ایف آئی اے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف منی لانڈرنگ کا کیس بنائے۔ جب انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو ان کو فارغ کردیا گیا۔
اسلام آباد میں کئی وزراء بھی واجد ضیا کی یکدم فراغت پر حیران ہیں کیوں کہ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ وزیراعظم عمران خان کے کافی قریب ہیں اور سیاستدانوں کے خلاف ان کا احتسابی ایجنڈا لے کر کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اسی لیے واجد ضیا پر اپوزیشن کی جانب سے یہ الزام عائد ہوتا تھا کہ وہ ایف آئی اے کو مس یوز کر کے عمران خان کے لیے سیاسی انجینئرنگ کرتے ہیں۔ کچھ اسی طرح کا الزام عمران خان کے سابقہ ساتھی جہانگیر خان ترین نے بھی واجد ضیا اور ان کی ٹیم پر عائد کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کو ایک ایجنڈے کے تحت شوگر سکینڈل میں ان کے خلاف رپورٹس دینے کو کہا گیا جس میں مرکزی کردار واجد ضیا کا تھا۔ چنانچہ اس طرح کی افواہیں بھی سننے میں آ رہی ہیں کہ واجد ضیا کی بجٹ سے پہلے اچانک فراغت کے پیچھے جہانگیر ترین کا ہاتھ ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان نہیں چاہتے کہ بجٹ کے موقع پر ان کی حکومت کے لئے کوئی بڑی مشکل پیدا ہو۔ یاد رہے کہ جہانگیر ترین کے خلاف چینی سکینڈل میں بھی تحقیقات واجد ضیا کی سربراہی میں ایف آئی اے ہی کر رہی ہے اور ابھی انوسٹی گیشن جاری ہے۔
تاہم دوسری جانب اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین میں خلیج اور فاصلے اتنے بڑھ چکے ہیں کہ اب ان دونوں کا اکٹھا ہونا ممکن نہیں ہے لہذا واجد ضیا کے تبادلے کو ترین کے مطالبے سے جوڑنا لایعنی لگتا ہے۔ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ اصل معاملہ اس کے بالکل الٹ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ واجد ضیا پر ترین کو گرفتار کرنے کے لیے دباؤ تھا ایک سرکاری ذریعے کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے میں اعلیٰ ترین افسر کی تبدیلی کے بعد بجٹ پاس ہوتے ہی شوگر مافیا کے کچھ ارکان گرفتار کی گرفتاری ہو سکتی ہے۔ ذرائع کہتے ہیں کہ شہزاد اکبر نے لاہور میں ایف آئی اے کے حالیہ دورے میں ایجنسی کی حوالات کا معائنہ بھی کیا تھا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ واجد کے تبادلے کی بڑی وجہ ان کے مشیر احتساب شہزاد اکبر کے ساتھ بڑھتے ہوئے اختلافات تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایف آئی اے میں زیر تفتیش کچھ اہم ترین کیسوں کے حوالے سے واجد ضیاء شہزاد اکبر کی بات ماننے سے انکاری تھے اور دونوں کی کئی مرتبہ تلخ کلامی بھی ہو چکی تھی۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کے ایک سینئیر عہدیدار کا کہنا ہے کہ ’واجد ضیا کا تبادلہ ایک معمول کی کارروائی ہے اور یہ کسی مطالبے یا خواہش کا نتیجہ نہیں ہے۔‘ اس نے کہا کہ 9 جون کو صرف ایک تبادلہ نہیں ہوا بلکہ واجد ضیا کے علاوہ تین دیگر سینئیر سرکاری ملازمین کی ذمہ داریاں بھی تبدیل کی گئی ہیں۔
8 جون کو جاری ہونے والے چار سرکاری نوٹیفیکیشنز کے مطابق واجد ضیا کو ایف آئی اے کے سربراہ کے عہدے سے ہٹاکر ڈائریکٹر جنرل نیشنل پولیس بیورو تعینات کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ خیبر پختونخوا کے سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس ثنا اللہ عباسی اب یہ ذمہ داری سنبھالیں گے، اسی طرح ثنا اللہ عباسی کی جگہ معظم جاہ انصاری کو خیبرپختونخوا پولیس کا سربراہ بنا کر بھیجا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان پولیس سروس اور سول سروسز سے تعلق رکھنے والے واجد ضیا نومبر 2019 سے ڈی جی ایف آئی اے تعینات تھے۔ اس سے پہلے وہ آئی جی ریلویز پولیس تھے۔ لیکن یہ طے ہے کہ تقریبا ہر ڈی جی ایف آئی اے کو بہت بے آبرو ہو کر اپنے کوچے سے رخصت ہونا پڑتا ہے۔
یاد رہے کہ 2016 میں شروع ہونے والے مشہور زمانہ پاناما پیپرز سکینڈل میں سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے ملوث ہونے سے متعلق تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم جے آئی ٹی تشکیل دی تھی، جس کی سربراہی واجد ضیا کے حصے میں آئی۔ اسی جے آئی ٹی کی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ نے سزا سنائی، جس کے باعث وہ نا اہل بھی قرار پائے تھے۔ یہ بھی خیال رہے کہ نواز شریف کے بیرون ملک اثاثوں کی تحقیقات کی ذمہ داری واجد ضیا نے اپنے کزن کی فرم کے ذمہ لگائی تھی اور خیال کیا جاتاہے کہ وہ شریف خاندان سے ذاتی پرخاش بھی رکھتے ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کے مطابق تمام تبدیلیاں بشمول واجد ضیاء معمول کے اقدامات ہیں۔ تاہم، کچھ سینئر عہدیداروں کے مطابق واجد ضیاء کو ہٹایا جانا اچانک اور ناخوشگوار ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ’’ہم توقع کر رہے تھے کہ وہ آئندہ سال ڈی جی ایف آئی اے کے عہدے سے ریٹائر ہوں گے لیکن انہیں ہٹا کر غیر اہم عہدہ دیدیا گیا ہے۔‘‘ لیکن شہزاد اکبر نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ واجد ضیا کو ہٹانے کی کوئی ناخوشگوار وجہ ہے۔ ان کا تو اصرار تھا کہ ضیاء کو ہٹایا نہیں گیا بلکہ ان کا نئے عہدے پر تبادلہ کیا گیا ہے کیونکہ حکومت ایف آئی اے کو نئی قیادت کے سپرد کرنا چاہتی تھی۔ شہزاد اکبر نے واجد ضیا کی خدمات کی تعریف کی اور کہا کہ وہ بہت اچھے ادمی ہیں اور انکی نیک تمنائیں انکے ساتھ ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ واجد ضیا کو بطور ڈی جی ایف آئی اے انتظامی لحاظ سے کچھ ’’مشکلات‘‘ کا سامنا تھا۔ یاد رہے کہ انتظامی لحاظ سے ایف آئی اے وزارت داخلہ کے ساتھ منسلک ادارہ ہے لیکن فی الوقت یہ وزیراعظم کے معاونینِ خصوصی اور وزیراعظم ہائوس کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ شیخ رشید یا سیکریٹری داخلہ کی بجائے شوگر سکینڈل جیسے اہم معاملات بارے ایف آئی اے براہ راست وزیراعظم آفس سے رابطے میں ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم کے مشیر احتساب شہزاد اکبر براہِ راست ایف آئی اے کے ریجنل ڈائریکٹر نارتھ (پنجاب اور کے پی) ابوبکر اور ڈائریکٹر لاہور ڈاکٹر رضوان کو احکامات جاری کرتے ہیں۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ شیخ رشید کئی مرتبہ یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ ایف آئی اے کے معاملات براہِ راست مشیر داخلہ شہزاد اکبر دیکھتے ہیں۔
دوسری جانب نئے ڈی جی ایف آئی اے ثناء اللہ عباسی نے اپنی ملازمت کا زیادہ تر حصہ اپنے آبائی صوبے سندھ میں گزارا ہے اور اب انہیں ڈی جی ایف آئی اے لگایا گیا ہے۔ آئی جی کے پی کی حیثیت سے وہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے۔ اگرچہ وزیراعظم نے عباسی کو مشکلات سے بھرپور عہدہ دیا ہے لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا وہ اپنے پیش رو کو پیش آنے والے ’’انتظامی مسائل‘‘ سے نمٹنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ ایف آئی اے سے بے آبرو ہو کر نکلنے والے واجد ضیا کو نیشنل پولیس فائونڈیشن کا ڈی جی بنایا گیا ہے۔ یہ بائیس گریڈ کا عہدہ ہے لیکن اسے پرکشش نہیں سمجھا جاتا۔

Close