کیا سیاسی مخالف کو تھپڑ مارنا PTI کلچر کا غماز ہے؟


اپنی بدزبانی اور اوچھے پن کی وجہ سے بدنام فردوس عاشق اعوان ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہیں، وجہ انکا ایک لائیو ٹی وی شو کے دوران پیپلزپارٹی کے ایم این اے قادر مندوخیل کو تھپڑ مارنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فردوس اعوان کا ایک سیاسی مخالف کو تھپڑ مار دینا اصل میں تحریک انصاف کے اس کلچر کا غماز ہے جسے وزیراعظم عمران خان نے خود فروغ دیا ہے۔
ایکسپریس ٹی وی پر ہونے والا جاوید چودھری کا یہ پروگرام نشر ہونے کے بعد اس کے کئی کلپس سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگے جن میں نظر آتا ہے کہ بدزبانی کا آغاز حسب معمول فردوس عاشق اعوان نے کیا اور قادر مندوخیل پر کرپشن کے الزامات عائد کر دیے۔ جب مندوخیل نے جواب دیتے ہوئے یاد دلوایا کہ تمہیں تو پچھلی مرتبہ وزیراعظم عمران خان نے خود وفاقی کابینہ سے کرپشن کے الزام پر نکالا تھا تو فردوس سیخ پا ہو گئی اور بحث اور تکرار کے بعد مندو خیل کو ایک تھپڑ دے مارا۔سوشل میڈیا صارفین نے جہاں اس لائیو جھگڑے اور فردوس کے تھپڑ مارنے کی مذمت کی، وہیں کچھ لوگوں نے اس پر طنزیہ تبصرے کیے اور میمز بھی بنائیں۔ بدھ کی شب نشر ہونے والے ٹاک شو میں بات جلی کی کمی اور بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ سے شروع ہوئی اور ہوتے ہوتے ٹرین حادثے تک آ پہنچی۔
فردوس عاشق اعوان نے سندھ کے وزیر اعلی کے جائے حادثہ پر نہ جانے پر تنقید کی تو قادر مندوخیل نے کہا وفاقی وزیرِ ریلوے اعظم سواتی بھی تو نہیں پہنچے۔ اس کے بعد دونوں ایک دوسرے کی حکومتوں کو ‘کرپٹ’ گردانتے رہے۔ تاہم بات تب بڑھ گئی جب قادر مندوخیل نے خود کو کرپٹ کہنے پر فردوس کو ذاتی طور پر ‘کرپٹ’ کہہ دیا اور طعنہ دیا کہ کرپشن ہی کی وجہ سے پچھلی مرتبہ ان سے وزرات لے لی گئی اور یہ خبر حکومت نواز ٹی وی چینل اے آر وائے نے بریک کی تھی۔
اس کے بعد دونوں رہنماؤں میں مزید تلخ کلامی ہوئی اور فردوس عاشق اعوان نے مڑ کر شو کے میزبان جاوید چوہدری کو کہا، جو خاموشی سے یہ منظر تک رہے تھے، ‘چوہدری صاحب، آپ نے یہ تماشا لگوایا ہے۔’
وائرل ہونے والے کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قادر مندو خیل کچھ کہتے ہیں جس پر فردوس عاشق اعوان سیخ پا ہو جاتی ہیں۔ پھر دونوں اپنی اپنی نشتوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد پھر سے دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ کلامی ہوتی ہے اور پھر ایک ’بیپ‘ کی آواز آتی ہے جب فردوس اعوان نے مندوخیل کو ایک گندی گالی دی۔ جب مندوخیل نے فردوس کو شٹ اپ کال دی تو اس نے جواب میں تھپڑ جڑ دیا۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا: ‘ٹاک شو کے دوران قادر مندوخیل کی جانب سے انہیں دھمکیاں دی گئیں۔ قادر مندوخیل نے بدزبانی اور بدکلامی کرتے ہوئے میرے مرحوم والد۔کو اور مجھے گالیاں دیں۔ لہازا اپنے دفاع میں مجھے یہ انتہائی قدم اٹھانا پڑا۔انکا کہنا تھا کہ قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد مندوخیل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔’ یعنی ایک منتخب ایم این اے کو تھپڑ مارنے والی وزیر اعلی پنجاب کی غیر منتخب مشیر چوری کے بعد اب سینہ زوری بھی کر رہی ہیں۔ چونکہ وائرل کلپ میں صرف فردوس کی جانب سے عدم برداشت کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا اس لیے بونگی آنٹی کہلانے والی سیالکوٹی پہلوان کا کہنا تھا کہ یہ تصویر کا محض ایک رخ ہے۔ قادر مندوخیل کی غلیظ زبان اور گالیوں کو اس ویڈیو کا حصہ نہ بنا کر یکطرفہ پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔’
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مکالمے سے ہٹ کر قادر مندوخیل کی جانب سے ان کے والد اور انھیں غلیظ گالیاں دی گئیں۔ انھوں نے کہا کہ ‘ایسے بدتہذیب افراد کا سیاست اور اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ لوگ سیاست اور معاشرے کے چہرے پر بدنما دھبے ہیں۔’ انھوں نے ایکسپریس ٹی وی سے درخواست ہے کہ معاملے کی مکمل ویڈیو سامنے لائیں۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما قادر مندوخیل کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا گیا تھا کہ فردوس اعوان اپنے سامنے کسی کو بولنے نہیں دیتیں تاہم وہ پہلی مرتبہ ان کے ساتھ کسی ٹاک شو میں شریک ہوئے تھے۔ ان کے بقول انھوں نے کوئی ایسی نازیبا بات نہیں کی تھی جس پر فردوس تیش میں آ جاتیں۔ انکا کہنا تھا کہ فردوس مسلسل ذاتی حملے کرتی رہی اور میں دفاع کرتا لیکن بالآخر جب ان کے پاس میرے دلائل کا کوئی جواب نہ رہا تو انہوں نے تشدد کا راستہ اپنایا، لیکن میں نے پھر بھی برداشت کا مظاہرہ کیا۔ مندوخیل کہتے ہیں کہ ’وہ آدھا گھنٹا بولتی رہیں، میں خاموش رہا لیکن جب میں بولنے لگا تو وہ بیچ میں ٹوکنے لگیں کہ آپ کیا بولیں گے، آپ تو سر سے پیر تک کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں، جس میں پر میں نے ان سے کہا کرپٹ تو آپ ہیں۔ آپ کو آپ کی حکومت نے کرپشن پر عہدے سے الگ کیا۔ اس پر وہ گالم گلوچ پر آگئیں۔‘
قادر مندوخیل کا کہنا تھا ’میں گالم گلوچ برداشت کرتا رہا تو وہ ہاتھا پائی پر اتر آئیں، میرا گریبان پکڑا اور مجھے تھپڑ مارنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد مجھے چائے کا کپ مارنے کی کوشش کی۔ میں بچنے کی کوشش کر رہا تھا، وہ میرے پیچھے بھاگیں تو میں نے دروازہ بند کر کے جان بچائی۔ ‘
مندوخیل کا مزید کہنا تھاکہ ’میری تربیت ایسی نہیں کہ میں کسی خاتون پر ہاتھ اٹھاؤں۔ میرے تصور میں بھی نہیں تھا کہ وہ ایسی حرکت کر سکتی ہیں۔‘ اپنے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی کے جواب میں پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا ’موسٹ ویلکم! میں خود سپریم کورٹ کا وکیل ہوں، میڈیا لاز میں پی ایچ ڈی ہوں، پاکستان کا پہلا انسانی حقوق ایرواڈ یافتہ ہوں۔ میرا بے داغ ماضی ہے۔ وہ قانونی کارروائی کرنا چاہتی ہیں تو انھیں نہ صرف شکست ہوگی بلکہ الٹا ان کے لیے اور عذاب بنے کا جب میں کارروائی کروں گا۔‘
سوشل میڈیا پر ایک طرف فردوس اعوان کے ایکشن سے بھرپور میمز گردش کر رہی ہیں تو دوسری طرف مذمتی کمنٹس کا انبار ہے۔ ان کے مخالفین ان پر عورت ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھانے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما تنقید اور مخالفت برداشت ہی نہیں کر سکتے۔ اسامہ خلجی کا کہنا ہے کہ ’پی ٹی آئی کے ارکان کا سارا موقف ہی دوسروں پر بدعنوانی کا الزام عائد کرنے پر مبنی ہے لیکن اگر کوئی یہی کام ان کے ساتھ کرے تو اسے ٹیلی وژن پر تھپڑ ریسد کر دیتے ہیں۔‘
لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بات کو اس نہج پر پہنچے سے روکا جا سکتا تھا۔ صارف عثمان سرفراز ملک کا کہنا تھا کہ ’سارا قصور شو کے میزبان جاوید چوہدری کا ہے کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ گفتگو تلخ ہو رہی ہے لیکن وہ صرف دیکھتے رہے اور معاملہ سنبھالنے کی کوشش نہ کی تاکہ انکے پروگرام کو ریٹنگ ملے۔‘
ایک صارف نے شو کے میزبان کی تصاویر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’اس سارے قصے میں صرف ایک شخص لطف اندوز ہو رہا تھا، جس نے لڑائی روکنے کی رتی بھر کوشش نہ کی۔
یاد رہے کہ لائیو شو میں جب دونوں سیاستدان تلخ کلامی کر رہے تھے تو میزبان جاوید چوہدری پہلے تو خاموشی سے دونوں کو دیکھتے رہے پھر وقفے وقفے سے انھیں ٹوکنے کی بھی کوشش کی۔ تاہم زیادہ تر وہ دونوں کی لڑائی کو بے بسی کی تصویر بنے دیکھتے رہے۔ اس حوالے سے سینیئر صحافی مبشر زیدی کا کہنا تھا ’ چونکہ بیشتر اینکرز روزانہ بے معنی سیاسی موضوعات پر بات کرتے ہیں اور عوام سے متعلق معاشرتی امور پر گفتگو سے پرہیز کرتے ہیں اسے لیے فردوس عاشق اعوان اور قادر مندوخیل کے مابین تلخ کلامی جیسے واقعات پیش آتے ہیں۔‘ سینیئر خاتون صحافی اور اینکر پرسن نسیم زہرہ کا کہنا تھا جہاں تک صحافتی اقدار کی بات ہے تو یہ سو فیصد اینکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ بات کو اس نہج تک پہنچنے ہی نہ دے۔ ان کا کہنا تھا ‘میں اپنی بات کروں تو میں نے سخت اصول بنا رکھے ہیں جونہی مجھے لگتا ہے کہ تُو تُو میں میں شروع ہوجائے، الفاظ تک غلط ہو جائیں۔ لہجہ ہی غلط ھو جائے تو میں سختی کے ساتھ اسے روکتی ہوں۔’
ان کا کہنا تھا کہ ‘چینل اور پروگرام کی ٹیم چاہتی ہے کہ شو کی ریٹنگ اچھی ہوں، اکثر بات ہوتی ہے کہ تھوڑا سا تو جانے دیں۔ لیکن میرے ساتھ کام کرنے والے سمجھتے ہیں کہ صرف ریٹنگ کے لیے ایسی چیز نیں ہونے دی جا سکتی۔’ ان کا مزید کہنا تھا ‘ہمیں پتا ہے کہ غصے میں انسان کیسی حرکتیں کرتا ہے لیکن ایکسپوز کرنے کے اور بھی طریقے ہیں یہ سب میری نظر میں مناسب نہیں۔‘
نسیم زہرہ کا کہنا تھا ‘میری نظر میں یہ بات بہت واضح ہے کہ یہ سب ہماری ذمہ داری ہے۔ اینکر لوگوں کی سوچ کے پائلٹ ہوتے ہیں۔ آپ لوگوں کی سوچ سمجھ اور احساس کو پائلٹ کر رہے ہوتے ہیں۔’
‘یہ سو فیصد اینکر کی ذمہ داری ہے کہ آپ روکیں۔’ سینئر صحافی ضیا الدین بھی اس رائے سے متفق نظر آئے۔ انھوں نے بتایا کہ ‘یہ اینکر کا کام ہوتا ہے کہ وہ پروگرام کو مینیج کریں مگر عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ جب آپ دو مخالفین کو پروگرام میں بلاتے ہیں تو اینکر کی کوشش ہوتی ہے کہ انھیں لڑوایا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پروگرام کی ریٹنگ بڑھ جاتی ہے، لڑائی کا کلپ وائرل ہوجاتا ہے۔ ‘ ضیا الدین کا کہنا تھا کہ ‘یہاں پر لوگ سمجھتے یہ ہیں کہ آپ کا کلپ اگر وائرل ہوگیا ہے تو یہ بہترین پرفارمنس ہے۔’ ان کا کہنا تھا کہ ‘جو سٹینڈرڈ پروسیجر ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ کسی قسم کا بحران ہو تو فوراً اینکر پرسن اشارہ دیتا ہے کیمرہ مین کو اور وہ فوراً اسے روک دیتے ہیں۔ عام طور پر یہی ہونا چاہیے کہ جب تک یہ کرائسس ختم نہ ہو جائے اسے روکے رکھا جائے۔ کیونکہ یہ میڈیم ویژوئل ہے تو یہ سب ایک منظر بن جاتا ہے۔ اس میں صحافتی تنظیموں کے تمام اخلاقی معیار کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ‘ ان کے بقول ‘اینکر کو فوراً پروگرام روک دینا چاہیے تھا۔ وہ کیمرہ مین کو اشارہ کرتے کہ اس کو بند کر دو۔’ لیکن
ایم ضیا الدین کے مطابق ‘ہمارے ہاں سیاسی یا اہم موضوعات کی سمجھ بوجھ لوگوں میں کم ہوتی ہے تو یہاں جھگڑوں کے مناظر زیادہ مقبول ہو جاتے ہیں۔’

Close