جسٹس عیسیٰ کو فارغ کروانے کے لیے مخالفین کی نئی چال تیار


پاکستان میں آزاد عدلیہ کی علامت سمجھے جانے والے سپریم کورٹ کے سنیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نکالنے کی سازش میں ناکامی ہونے والوں نے اب مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی کیجانب سے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کروانے کی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ انہیں مستقبل میں چیف جسٹس بننے سے روکا جا سکے۔ تاہم ایک انتہائی اہم آئینی شخصیت کی جانب سے اس معاملے میں گرین سگنل ملنے کا انتظار کیا جارہا ہے۔
قانونی حلقوں میں اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ آئندہ دنوں میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ مقتدر قوتوں کی جانب سے انہیں ہر حال میں اعلی عدلیہ سے سے باہر نکالنے کے لیے کوششیں اپنے عرج پر ہیں۔ یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حال ہی میں سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک مقدمہ جیتا ہے جس میں عدالت عظمیٰ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کی برطانیہ میں جائیدادوں کی چھان بین کرنے سے روک دیا ہے اور ان کے خلاف دائر ریفرنس کو بدنتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔ دس رکنی لارجر بینچ نے 26 اپریل کو جسٹس قاضی فائز عیسی کے حق میں فیصلہ دیا مگر اس کے فوراً بعد وفاقی حکومت نے انکے خلاف کیوریٹو ریویو پٹیشن دائر کردی جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت ہر صورت انہیں 2023 میں چیف جسٹس پاکستان کی کرسی پر بیٹھنے سے روکنا چاہتی ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے رجسٹرار نے وفاقی حکومت کی جانب سے دائر کردہ کیوریٹیو ریویو پٹیشن کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے مسترد کر دیا رھا اور کہا کہ کسی ریو پر ہونے والے فیصلے کے خلاف مزید ریویو یعنی نظر ثانی کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
دوسری جانب حکومتی حلقوں میں اس حوالے سےصلاح مشورے جاری ہیں کہ آخر جسٹس فائز عیسی کو کو عدلیہ سے کس طرح نکالا جائے؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتدر حلقوں کی جانب سے ایک بڑے آئینی عہدے پر بیٹھے ہوئے شخص پر اس مقصد کے حصول کے لے غیر معمولی کردار ادا کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق فی الحال اس اہم شخصیت نے فائز عیسی کے خلاف کسی سازش کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ شخصیت اس وقت اپنے کیریئر کی سب سے اونچی پوزیشن پر براجمان ہے اور اس کا ماننا ہے کہ اس موڑ پر انہیں اپنا کریئر داغدار نہیں کرنا چاہیے۔
کہا جا رہا ہے کہ پچھلے تمام منصوبے فلاپ ہونے کے بعد حکومت اور مقتدر حلقوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیے جائیں گے۔ پھر کونسل سے درخواست کی جائے گی کہ ایف بی آر کی رپورٹ کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی اور ان کے اہل خانہ کی لندن فلیٹس کے حوالے سے چھان بین کی جائے ۔ کہاجا رہا ہے کہ اگر کسی طرح یہ ریفرنسز دائر ہو گئے تو پھر مدعیان کی جانب سے عدالت سے درخواست کی جائے گی کہ ان ریفرنس کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے مقتدر قوتوں نے منصوبہ بندی کی ہے کہ آئندہ سال فروری تک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنسز دائر کروا کے جلد از جلد ان پر جسٹس عیسی کے خلاف فیصلہ بھی لے لیا جائے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں بارکونسلز نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ساتھ دیا جس کے باعث حکومت کو انھیں ہٹانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا لہذا اب یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ بار کونسلز میں تقسیم پیدا کرکے فائز عیسیٰ کے معاملے میں ان کا کردار محدود کردیا جائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نئی سازش کو کامیاب بنانے کے لیے ایک بڑے کھلاڑی یعنی بڑے آئینی عہدے پر بیٹھی شخصیت کی ہاں کا انتظار کیا جارہا ہے کیونکہ وہاں بھی اس معاملے میں تذبذب کا شکار ہے۔
خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اٹھارہ ستمبر 2023 کو 13 مہینوں کے لئے چیف جسٹس پاکستان بننے جارہے ہیں۔ 2023 الیکشن کا سال ہے اور تحریک انصاف حکومت کی قسمت کا فیصلہ بھی اسی برس ہونا ہے لہذا حکومت چاہتی ہے کہ 2023 میں جسٹس قاضی فائز عیسی کسی بھی طرح چیف جسٹس پاکستان نہ بن پائیں۔ ادھر وزیراعظم عمران خان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ کپتان نجی محافل میں اکثر یہ کہتے ہیں کہ اگر عدلیہ ان کی راہ میں رکاوٹ نہ بنی 2023 میں وہ دو تہائی اکثریت سے دوسری مدت کے لیے اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

Close