حکومت اور اپوزیشن اپنے اتحادیوں کو نوازنے میں پیش پیش

حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن بھی ان آزاد اراکین اور اتحادیوں کو ایوانِ بالا کی کمیٹیوں کی چیئرمین شپ دے کر نوازنے میں پیش پیش ہے جنہوں نے انہیں سینیٹ انتخابات، چیئرمین سینیٹ کے چناؤ اور اپوزیشن لیڈر کے تقرر میں مدد کی۔
سینیٹ کی تمام 39 قائمہ اور فنکشنل کمیٹیوں کے سربراہان کی فہرست کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر یوسف رضا گیلانی کی حمایت کرنے والے 6 میں سے 5 اراکین کو نوازا۔ پیپلز پارٹی نے جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی کو بھی کمیٹیوں کی چیئرمین شپ دی جن کا ایوان میں صرف ایک ایک سینیٹر تھا، اس حقیقت کے باوجود کہ کسی پارٹی کو ہر 3 سینیٹرز پر چیئرمین شپ دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سابق فاٹا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر شمیم آفریدی جنہوں نے سینیٹ انتخابات سے چند ہفتے قبل ہی پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی انہیں بھی نجکاری کمیٹی کا چیئرمین بنادیا گیا۔ اسی طرح حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنی اتحادیوں بشمول مسلم لیگ (فنکشنل) اور مسلم لیگ (ق) کو کمیٹیوں کی چیئرمین شپ دی جن کا ایوان میں ایک، ایک سینیٹر ہے۔ علاوہ ازیں دوسری بڑی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) نے بھی اپنے کوٹے میں سے مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے پروفیسر ساجد میر اور جے یو آئی (ف) کے 2 سینیٹرز کو چیئرمین شپ دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق قبائلی علاقے فاٹا سے تعلق رکھنے والے تمام چاروں آزاد سینیٹرز اب اہم عہدوں پر براجمان ہیں، ان میں مرزا محمد آفریدی سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین جب کہ دیگر 3 اراکین متعدد کمیٹیوں کے چیئرمین بن چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے دلاور خان جنہوں نے حکومتی بینچز پر بیٹھنے والے 5 دیگر آزاد اراکین کے ساتھ یوسف رضا گیلانی کی بطور اپوزیشن لیڈر حمایت کی تھی وہ قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار کے چیئرمین بن گئے ہیں۔ اسی طرح کہدہ بابر کو قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات، آزاد سینیٹر ہدایت اللہ خان کو کمیٹی برائے ہوا بازی، نصیب اللہ بازئی کو تخفیف غربت اور ہلال الرحمٰن کو کمیٹی برائے ریاستی و سرحدی امور کا چیئرمین بنایا گیا۔ جماعت اسلامی کے واحد سینیٹر مشتاق احمد کو فنکشنل کمیٹی برائے ورثہ کا چیئرمین جب کہ اے این پی کے واحد سینیٹر ہدایت اللہ کو کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کا چیئرمین بنایا گیا۔ متفقہ فارمولے کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کو 22 کمیٹیوں کی چیئرمین شپ جبکہ حکمراں اتحاد کو 17 کمیٹیوں کی چیئرمین شپ ملی، تاہم ذرائع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اپوزیشن کو مزید 2 کمیٹیوں کی چیئرمین شپ کی پیشکش کی ہے۔ اپوزیشن میں موجود ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت 3 اہم کمیٹیوں بالخصوص کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرمین شپ ہاتھ سے نکلنے پر پریشان ہیں اور اب دونوں جماعتیں اس نقصان پر ایک دوسرے کو الزام دے رہی ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے اپوزیشن کے اندرونی اختلافات کا فائدہ اٹھایا اور وہ کمیٹی برائے قانون و انصاف، انسانی حقوق اور داخلہ کی چیئرمین شپ حاصل کرنے پر نہایت خوش ہے، جو کہ اس سے قبل اپوزیشن کے پاس تھیں۔ پی ٹی آئی کے محسن عزیز کو کمیٹی برائے داخلہ کا چیئرمین بنایا گیا جب کہ ولید اقبال اب کمیٹی برائے انسانی حقوق کی سربراہی کریں گے۔ وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شبلی فراز اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی جماعت صرف کمیٹی برائے قانون و انصاف کی سربراہی میں دلچسپی رکھتی تھی، لیکن دن کے اختتام پر دیگر 2 اہم کمیٹیوں کی چیئرمین شپ ملنے پر خوش ہے۔انہوں نے کہا کہ قانون و انصاف کمیٹی میں حکومت کی دلچسپی کی وجہ یہ تھی کہ حکومت آئندہ آنے والے دنوں میں بڑی انتخابی، عدالتی اور دیگر اصلاحات متعارف کروانے والی ہے۔ اس ضمن میں جب پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کمیٹی اپوزیشن کو ملی تھی اور پی پی پی اس کی سربراہی کرنا چاہتی تھی۔ تاہم مسلم لیگ (ن) نے یوسف رضا گیلانی سے خاص طور پر کہا کہ وہ انسانی حقوق کمیٹی کی چیئرمین شپ چاہتی ہے کیوں کہ قومی اسمبلی میں اس کمیٹی کی سربراہی پی پی پی کے پاس ہے۔ فرحت اللہ بابر کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے انہیں بتایا کہ اس نے انسانی حقوق کمیٹی کی سربراہی کےلیے مشاہد حسین کو نامزد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی دن کی صبح تک مشاہد حسین مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار تھے تاہم باضابطہ الیکشن سے ایک گھنٹہ قبل (ن) لیگ نے کمیٹی برائے دفاع کی چیئرمین شپ سے اس کا تبادلہ کر لیا، اب یہ مشاہد حسین نے خود کیا یا ان کی پارٹی نے کہا تھا یہ وہی بتا سکتے ہیں لیکن ایک چیز واضح ہے کہ پیپلز پارٹی کو اس فیصلے سے آگاہ نہیں کیا گیا اور ہم حیران تھے۔ سیکریٹری جنرل پی پی پی کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کمیٹی حکومت کے پاس جانا اس ملک میں حقوق کے ایجنڈے کو پہنچنے والا ایک سنجیدہ دھچکا ہے کیوں کہ زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں حکومتی اداروں اور عہدیداروں کی جانب سے اختیارات کے غلط یا ناجائز استعمال کے باعث ہوتی ہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت پر پارٹی قیادت بھی پریشان ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ایک سینیٹر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ مشاہد حسین کی جانب سے قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر انسانی حقوق کمیٹی کے بدلے کمیٹی برائے داخلہ کی چیئرمین شپ لینے کے معاملے پر ناراضگی پائی جاتی ہے۔ سینیٹر کا کہنا تھا کہ پارٹی نے یہ معاملہ چیئرمین سینیٹ کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے کہ پارٹی کے پارلیمانی رہنما اعظم نذیر تارڑ کی فراہم کردہ فہرست میں کس طرح ردو بدل ہوسکتا ہے۔ دوسرے سینیٹر نے اس معاملے کی ذمہ داری پیپلز پارٹی پر ڈالتے ہوئے کہا کہ پی پی پی انسانی حقوق کمیٹی کی چیئرمین شپ دوبارہ مصطفیٰ نواز کھوکھر کو نہیں دینا چاہتی تھی کیوں کہ وہ اب پارٹی قیادت کی گڈ بک میں نہیں۔ تاہم فرحت اللہ بابر نے اس بات کی تردید کی کہ پارٹی مصطفیٰ نواز کھوکھر کو انسانی حقوق کمیٹی کی چیئرمین شپ نہیں دینا چاہتی تھی اور دعویٰ کیا کہ ان کی کاردگی دیکھتے ہوئے قیادت انہیں دوبارہ نامز کرنا چاہتی تھی۔ مذکورہ صورت حال پر مشاہد حسین سے بھی رابطہ کیا گیا تاہم انہوں نے یہ کہتے ہوئے اس پیش رفت پر تبصرے سے انکار کیا کہ ‘سب کو حقائق معلوم ہیں’۔

Close