دوبارہ چیئرمین نادرا لگنے والے طارق ملک کون ہیں؟


آٹھ برس پہلے نواز شریف دور میں چوہدری نثار سے چپقلش کے بعد چئیرمین نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نادرا کے عہدے سے مستعفی ہونے والے طارق ملک کو اب اسی عہدے کے لیے دوبارہ نامزد کردیا گیا ہے، جس کی وفاقی کابینہ نے منظوری بھی دے دی ہے۔طارق ملک 2013 میں سابق حکومت سے تناؤ بڑھ جانے پر چیئرمین نادرا کے عہدے سے استعفیٰ دے کر امریکہ چلے گئے تھے، تاہم اب انہیں دوبارہ اس عہدے کے لیے نامزد کرلیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ طارق ملک معروف دانشور اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر فتح محمد ملک کے بیٹے ہیں۔
یاد رہے کہ طارق ملک کو تب سابق حکومت کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں نے 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف انتخابی عذرداریوں میں کئی حلقوں سے ووٹرز کے انگوٹھوں کی نشاندہی نہ ہونے کی رپورٹس عدالتوں کو فراہم کر دی تھیں۔ اس معاملے پر تب کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان طارق ملک پر سیخ پا ہوگئے تھے جس کے بعد انہوں نے استعفی دے دیا۔ طارق ملک اس دوران نیو یارک میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ایڈوائزر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ موجودہ حکومت کی طرف سے چیئرمین نادرا کی تقرری کی اطلاع کے بعد طارق ملک نے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ انہیں ذمہ داریوں سے فارغ کیا جائے۔
اس سے پہلے حکومت پاکستان نے نادرا کے نئے چیئرمین کے لیے ایک اشتہار دیا تھا، جس کے جواب میں 109 افراد نے کاغذات جمع کروائے۔ حکومت نے ان میں سے پانچ آئی ٹی لیڈرز کا انٹرویو کیا اور انہیں شارٹ لسٹ کیا، ان میں طارق ملک کا نام سر فہرست رہا لہذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی تعیناتی بظاہر تو میرٹ پر ہی ہوئی ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت کس طرح ان کے کام پر اپنا ردعمل ظاہر کرے گی۔
یاد رہے کہ پانچ سال قبل اقوام متحدہ نے طارق ملک کو بین الاقوامی مقابلے میں 178 آئی ٹی ماہرین میں سے منتخب کیا تھا، وہ اس وقت 130 سے زائد ممالک کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے حکومتی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ طارق ملک کا تعلق اسلام آباد سے ہی ہے، وہ معروف دانشور اور ماہر تعلیم اور ماہر اقبالیات پروفیسر فتح محمد ملک کے صاحبزادے ہیں، جو اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر بھی رہے ہیں۔
دوسری جانب ترجمان نادرا فائق احمد نے بتایا کہ ابھی تک نادرا چیئرمین کا چارج بریگیڈیئر خالد کے پاس ہے۔ان کا کہنا تھا: ’کابینہ نے طارق ملک کو تعینات کرنے کی منظوری تو دے دی ہے لیکن ان کی تقرری کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہونا باقی ہے، جیسے ہی نوٹیفکیشن ہوگا تو وہ اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیں گے۔‘
نواز شریف حکومت طارق ملک سے خوش کیوں نہیں تھی؟اس سوال کا جواب کچھ عرصہ قبل ایک انٹرویو میں طارق ملک نے خود دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’2013 کے انتخابات سے متعلق عدالتوں میں معاملہ اٹھایا گیا اور کئی حلقوں سے شکست کھانے والے امیدواروں نے عدالتوں سے رجوع کیا تو عدالتی ہدایات پر نادرا نے ووٹرز کے انگوٹھوں کے نشانات کی نشاندہی کرنی تھی کہ وہ اصلی ہیں یا جعلی۔‘ بقول طارق ملک: ’کافی حلقوں میں ہزاروں ووٹرز کے انگوٹھوں کے نشانات میچ نہ کیے، جس کی بنیاد پر انہوں نے حقیقت پر مبنی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی، اس پر سابق حکومت کے وزرا نے ناگواری کا اظہار کیا اور ان سے ناراض ہوگئے تھے۔‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ’وہ عہدے پر موجود ہوتے اور 2018 میں آر ٹی ایس سسٹم بیٹھنے سے متعلق جو معاملہ آیا تو وہ کسی کے کہنے پر سسٹم بند نہ کرتے، ہاں کوئی فنی خرابی ہوتی تو وہ بھی سب کے سامنے لے اتے۔ لیکن یاد رہے کہ جب سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے طارق ملک کو عہدے سے ہٹایا تو سپریم کورٹ نے اگلے ہی روز انہیں بحال کر دیا۔ ’بعد میں چوہدری نثار نے میڈیا کو بیان دیا کہ طارق ملک من مانی کر رہے ہیں اور اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کابینہ اور وزارت داخلہ کو اعتماد میں لیے بغیر اقدامات اٹھا رہے ہیں، جیسے وہ کسی کو جواب دہ ہی نہیں۔‘
لیکن ایک ماہ کے دوران ہی طارق ملک کو سپریم کورٹ سے بحالی کے باوجود اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا، تب بھی یہ معاملہ کافی اچھالا گیا تھا۔ خاص طور پر موجودہ حکمران جماعت پی ٹی آئی جب اپوزیشن میں تھی تو طارق ملک کے حق میں عمران خان خود بیان دیتے رہے اور انہیں ہٹانے اور پھر دباؤ ڈال کر استعفی لینے کی بھی شدید مخالفت کی گئی تھی، جس سے یہ تاثر ابھرا کہ شاید پی ٹی آئی حکومت انہیں ماضی کے کردار کی وجہ سے تعینات کرنا چاہتی ہے، لیکن حیران کن بات ہے کہ اب ان کی تقرری پر مسلم لیگ ن کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔‘

Close