’اس سال کا پہلا سورج گرہن‘

رواں سال کا پہلا سورج گرہن آج ہورہا ہے۔ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سربراہ ڈاکٹر جاوید اقبال کا کہنا ہےکہ سورج گرہن روس،گرین لینڈ ،شمالی کینیڈا، شمالی ایشیا، یورپ، امریکا اور دیگر ممالک میں دیکھا جاسکے گا تاہم سورج گرہن کا نظارہ پاکستان میں نہیں کیا جاسکےگا۔سورج گرہن پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر 12 منٹ پر شروع ہوا اور 3 بجکر 42 منٹ پر اپنے عروج پر ہوگا جب کہ 4 بجکر 34 منٹ پر سورج گرہن ختم ہوجائے گا، سورج گرہن کے دوران رنگ آف فائر دیکھا جائے گا۔
خیال رہے کہ بھارت کی ریاست راجستھان کے گزشتہ برس دسمبر میں ہونے والے سورج گرہن کا براہ راست نظارہ کرنے والے 15 افراد بینائی سے محروم ہوگئے۔ جے پور میں 10 سے 20 سال تک کی عمر کے لوگوں نے 26 دسمبر کو ہونے والے سورج گرہن کا براہ راست نظارہ کیا تھا۔ان افراد کو آنکھوں میں درد کی شکایت اور اندھیرے (کچھ نظر نہ آنے) کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا، ڈاکٹرز نے انہیں آئی سی یو میں رکھنے کے بعد چند ٹیسٹ کیے۔
ٹیسٹ کی رپورٹس آنے کے بعد ڈاکٹرز نے خدشہ ظاہر کیا کہ مذکورہ افراد کی بینائی کبھی واپس نہیں آسکتی۔ ڈاکٹر کے مطابق سورج گرہن کو خصوصی چشموں کے بجائے براہ راست دیکھنے سے متاثرہ افراد کی ’سولر ریٹ نیٹس‘ یعنی آنکھوں کی نازک جھلی متاثر ہوگئی ہے۔رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ متاثرہ افراد کی آنکھوں میں موجود ’ریٹینا‘ کی تہہ بھی جل گئی جس کے باعث اُن کی بینائی بالکل ختم ہوچکی ہے۔

Close