پاکستانی طلباء کو واپس چین جانے کی اجازت کب ملے گی؟


ہزاروں پاکستانی طلبا اس وقت شدت کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے واپس چین جانے کی اجازت کے منتظر ہیں۔ چین قریب قریب کورونا وبا پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے اور غیر ملکی طلبا کو تعلیم مکمل کرنے کی اجازت بھی دے چکا ہے۔
زیادہ تر پاکستانی طلبا کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے گزشتہ برس کے آخری مہینوں میں واپس چین پہنچ جانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ تاخیر کی وجہ سے ان میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ان متاثرہ طلبا نے پاکستانی اور چینی حکام سے بارہا درخواست کی ہے کہ وہ ان کی واپسی کے نظام الاوقات کو حتمی شکل دیں لیکن ابھی تک دونوں جانب سے کوئی پیش رفت نہیں دیکھی گئی۔
یاد رہے کہ ان میں سے زیادہ تر پاکستانی طلبا چینی حکومت کے وظیفوں پر تعلیم مکمل کرنے چین گئے ہوئے ہیں۔ اب ان کے وظیفے بھی بیجنگ حکومت نے گزشتہ ایک برس سے روک رکھے ہیں۔ ایک پاکستانی طالب علم کو ہر ماہ اوسطا چین کی جانب سے نوے ہزار پاکستانی روپے بطور وظیفہ دیا جاتا ہے۔ لاہور کی ایک طالبہ حنا فاطمہ نے بتایا کہ اس نے اپنی پاکستان میں ملازمت چھوڑ کر بیجنگ ٹیکنالوجی اور بزنس یونیورسٹی میں اسکالرشپ پر فوڈ سائنسز میں پی ایچ ڈی شروع کر رکھی ہے اور اب وہ پاکستان میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ فاطمہ کے مطابق ایک طرف وہ کوئی نوکری نہیں حاصل کر پا رہی تو دوسری جانب چینی حکومت نے وظیفہ بھی روک دیا ہے، اس طرح اس کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
چین میں تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبا میں تعلیمی سلسلہ ادھورا رہنے پر شدید اضطرابی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔ ایسے کئی طالب علموں نے مختلف سطح پر اپنی گہری تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔ ندا نواز نے بتایا کہ وہ گزشتہ برس اپنی ڈگری کا فرسٹ سمیسٹر مکمل کر کے پاکستانی لوٹی تھیں اور اس کے بعد ابھی تک واپس چین جانے کی کوئی امید دکھائی نہیں دے رہی۔ ندا کے مطابق اب ان کو پاکستانی یونیورسٹیوں میں بھی داخلہ نہیں مل رہا اور انہیں تعلیم نامکمل رہنے کی پریشانی لاحق ہے۔
دوسری جانب ایک پاکستانی سرکاری ملازم نے بتایا کہ وہ دفتر سے طویل رخصت حاصل کر کے انجینیئرنگ کی تعلیم کے لیے چین گئے اور اب وہ اپنا پراجیکٹ مکمل کرنے کی راہ دیکھ رہے ہیں اور اگر سفری پابندیاں یونہی رہی تو وہ مقررہ وقت میں اسے مکمل نہیں کر سکیں گے۔ لیکن اندازوں کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان سفری پابندیاں رواں برس ستمبر سے قبل اٹھائے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ایسے میں طلبا پاکستانی اور چینی حکام کے رویے پر بھی شاکی دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طالب علم احمد علی کے مطابق اس گھمبیر مسئلے پر بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے نے ایک کھلی میٹنگ کا اہتمام کیا تو ہے لیکن یہ بھی زیادہ مفید ثابت نہیں ہوئی۔ ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی چینی یونیورسٹی اور پاکستانی حکام کو خط لکھے ہیں لیکن جواب میں صرف اتنا کہا گیا کہ اس معاملے پر غور کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق چین میں ایک سو چھیانوے ملکوں کے چار لاکھ بانوے ہزار سے زائد طلبا تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان میں سے بارہ فیصد کو چین کی جانب سے اسکالر شپ دیا جاتا ہے اور بقیہ خود سے تعلیم کے اخراجات برداشت کرتے ہیں۔

Close