گرمی میں لوڈشیڈنگ سے تنگ عوام کیسے نہ گھبرائیں؟


ایک ایسے وقت میں کہ جب پورا پاکستان شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور ہر کوئی گرمی سے پریشان ہے، طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے اور لوگ اپنی بھڑاس سوشل میڈیا پر نکال رہے ہیں۔ کچھ لوگ کپتان حکومت کی نااہلی کی دہائی دیتے نظر آتے ہیں تو کچھ طنز و مزاح سے بھرپور پوسٹیں کررہے ہیں۔
ملک بھر میں ہونے والی مسلسل لوڈ شیڈنگ پر تنقید کی زد میں آنے کے بعد وزارت توانائی نے کہا ہے کہ ‘تربیلا اور منگلا کے پاور پلانٹس سے اس وقت 3300 میگاواٹ کم بجلی پیدا ہو رہی ہے لیکن یہ صورتحال کچھ دنوں میں بہتر ہو جائے گی جس سے لوڈ شیڈنگ بھی قابو میں آ جائے گی۔ وزارت توانائی کے مطابق اس وقت ملک کی کل بجلی کی طلب 24100 میگاواٹ جب کہ سسٹم میں موجود بجلی کی پیداوار 22600 میگاواٹ ہے۔ یعنی بجلی کا موجودہ شارٹ فال 1500 میگاواٹ ہے۔ اس معاملے پر وزیر توانائی حماد اظہار نے وضاحت پیش کی ہے کہ ‘چند پاور پلانٹس کی تکنیکی بندش کے باعث بجلی کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے جسے دور کرنے کےلیے متبادل ذرائع سے 1100 میگاواٹ بجلی مہیا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ تربیلا ڈیم سے تین ہزار میگاواٹ بجلی چار سے چھ روز میں نظام میں واپس شامل ہوجائے گی۔
لیکن دوسری جانب گرمی کی شدت سے متاثر عوام سوشل میڈیا پر اپنی بھڑاس نکال رہے ہیں۔ ٹوئٹر صارف مریم ملک لکھتی ہیں: ’شدید گرمی میں تو سانس بھی لینا محال ہو چکا ہے۔ دن کو سورج کی تپش جھلساتی ہے تو رات کو واپڈا ستاتا ہے۔ ظلم یہ کہ عین آنکھ لگتے ہی بجلی غائب ہو جاتی ہے۔ ایسے میں عمران خان کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں۔ بھلا کوئی ان سے پوچھے کہ اگر اب بھی عوام نے گھبرانا نہیں تو پھر کب گھبرانا ہے؟
زکی اللہ نامی صارف نے وزیراعظم عمران خان پر طنز کرتے ہوئے لکھا: ’درجہ حرارت 42 ڈگری ہے اور لوڈشیڈنگ زوروں پر، لیکن آپ نے گھبرانا نہیں’۔ اس معاملے پر ریاض نامی صارف نے لکھا کہ ’مسلسل لوڈشیڈنگ نے ملک کو روشن پاکستان بنا دیا ہے۔‘
حسن نامی صارف نے لکھا: ’مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ کیا ہے کیونکہ ایک یا دو ماہ پہلے حکومت دعوہ کر رہی تھی کہ پاکستان میں بجلی کی پیداوار ضرورت سے ذیادہ ہو رہی ہے۔‘
دوسری جانب ایمن کھوسہ نامی صارف نے وزیر اعظم کو بڑھتی ہوئی گرمی اور لوڈ شیڈنگ کے باعث ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں چھٹیاں کرنے اور دوبارہ سے آن لائن کلاسز شروع کروانے کی تجویز دی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شدید گرمی کے ساتھ ساتھ بجلی نہ ہونے کے باعث گورنمنٹ فیڈرل اسکول میں 25 بچے بے ہوش ہوگئے تھے۔ جس کے بعد صارفین دوبارہ سے تعلیمی ادارے بند کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
گرمی کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ کچھ صارفین تو گرمی کو مارنے کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔
حمیرا نامی ایک صارف نے لکھا: ’یا تو میں اس گرمی کو مار دوں گی یا یہ گرمی مجھے مار دے گی۔‘ گرمی کے اس عالم میں صحافی شیراز حسن اسلام آباد کے ان لوگوں کو تلاش کرتے نظر آئے جو سوشل میڈیا پر اپنے شہر کے موسم اور خوبصورتی کی دن رات تعریفیں کرتے نظر آتے ہیں۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا: ’خوبصورت اسلام آباد‘ کی وہ ساری پوسٹس کہاں ہیں؟ جڑواں شہروں سے تعلق رکھنے والی عشنا نامی صارف نے لکھا: ’مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کبھی اتنے گرم تھے۔‘
ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے لکھا: ’کسی کو انٹرنیٹ پر ورچوئل جھپی دیتے ہوئے بھی گرمی لگ رہی ہے۔‘
لیکن ایسے میں کچھ صارفین کو شاعری اور جون ایلیا کی یاد بھی آئی۔
صحافی نزرانہ یوسفزئی نے صارفین سے پوچھا کہ اگر جان ایلیا گرمی پر شعر کہتے تو کیا کہتے۔۔۔؟
جس کے جواب میں صارفین نے ایک سے بڑھ کر ایک شعر پیش کیا۔
موسیٰ نامی صارف ابھی سے موسم سرما کی واپسی کی خواہش کرتے نظر آئے اور انہوں نے لکھا: ’میں ابھی سے چاہتا ہوں کے سردی آ جائے۔‘ ماہ نور نامی صارف نے لکھا: ’میرا خیال ہے کہ دل ٹوٹنا سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے لیکن اس بار گرمی زیادہ تکلیف دے رہی ہے۔‘ لیکن ایسا بھی نہیں کہ سب ہی شدید گرمی سے تنگ ہیں بلکہ چند ایک صارف اس سخت موسم میں بھی کوئی مثبت پہلو نکال لائے ہیں۔ اپنی زیادہ سونے کی عادت سے تنگ ایک صارف نے لکھا کہ اس گرمی کی وجہ سے ایک اچھی چیز یہ ہوئی کہ میرے سونے کا دورانیہ 14 گھنٹے سے کم ہو کر چار گھنٹے ہو گیا ہے۔

Close