جسٹس شوکت بحالی کیس میں جج کیا کرنے والے ہیں؟


اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزول جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بحالی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ جسٹس صدیقی نے جج کے عہدے پر تعینات ہونے کے باوجود غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور عہدے کو نہیں سمجھا۔ تاہم جسٹس شوکت کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ جج کا پہلا فرض حق اورسچ کے لیے کھڑا ہونا ہوتا ہے اور جسٹس شوکت نے ایسا ہی کیا۔
تاہم کیس سننے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے رویے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی بحالی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ 10 جون کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کیس کی دوبارہ سماعت کی۔ ایڈینشل اٹارنی جنرل سہیل محمود نے کہا کہ وفاقی حکومت شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے ند سینئر انٹیلی جینس افسران پر لگائے گے الزامات پر اپنا جواب جمع کروانا چاہتی ہے۔ ہم سابق جج کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہیں، یہ الزامات من گھڑت بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔
جسٹس عمر عطابندیال نے وکیل حامد خان سے کہا کہ جج کو ہٹانے سے پہلے انکوائری کو لازمی قرار دینے کے حوالے سے اپنے موقف پر بھی دلائل مکمل کریں۔ وکیل حامد خان نے کہا کہ انکوائری کے بغیر ریفرنس کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، محض ایک تقریر تو ایشو نہیں تھا، کارروائی سے پہلے مجھے اوپن انکوائری کا یقین دلایا گیا تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے تسلیم حقائق کی بنیاد پر اوپن انکوائری کو مناسب نہیں سمجھا۔
وکیل حامد خان نے دلائل دیے کہ جج کے پاس تو سپریم جوڈیشل کونسل کے علاوہ اور کوئی فورم نہیں، ممکن ہے انکوائری میں اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے جنرلز کو بلاتا اور ان سے سوالات کرتا، میں بغیر انکوائری اپنے الزامات کو کس طرح ثابت کرتا۔
جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیے کہ شوکت صدیقی نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور اپنے عہدے کو نہیں سمجھا، کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق بھی آپ نے عدلیہ کا دفاع کرنا تھا۔ اس پر حامد خان نے کہا کہ ہم نے آئی ایس آئی افسر کے جج سے رابطوں کے بارے میں تحقیقات کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط بھی لکھا۔ اس پر جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ آپ نے پہلے تقریر کی بعد میں خط لکھا۔ یاد رہے کہ اس کیس کی پچھلی سماعت پر سپریم۔کورٹ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا بیان پڑھا گیا تھا جس میں انہوں نے ایس آئی کے موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے بارے میں دعوی کیا تھا کہ وہ میرے گھر آئے اور مجھ پر نواز شریف کے نا اہلی کیس میں اپنی مرضی کا فیصلہ مانگا جس سے میں نے انکار کر دیا۔
10 جون کو اسی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عمر عطابندیال کی جانب سے یہ شعر بھی پڑھا گیا۔ کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ۔ ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 جون تک کے لیے ملتوی کردی۔ اس سے پہلے 8 جون کو شوکت عزیز صدیقی نے اپنے بحالی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے سامنے انکشاف کیا تھا کہ انہیں آئی ایس آئی کے سربراہ نے نواز شریف نااہلی کیس میں آرمی چیف کا حوالہ دے کر ریاست کی مرضی کا فیصلہ سنانے کے لیے کہا لیکن جب انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو جنرل فیض نے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ان کی دو سال کی محنت ضائع ہوجائے گی۔ بقول شوکت صدیقی کے جنرل فیض کا کہنا تھا کہ ویسے بھی ان پر جنرل باجوہ کی طرف سے دباو ہے کہ تم ایک جج کو ہینڈل نہیں کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ ایسی ہی کچھ بات جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے راولپنڈی بار ایسوسی ایشن سے اپنے خطاب کے دوران بھی کی تھی جس کی پاداش میں انہیں تب کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے بذریعہ سپریم جوڈیشل کونسل نہایت پھرتی کے ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ سے فارغ کر دیا تھا۔ لیکن اب بطور جج فارغ ہونے والے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنی بحالی کی درخواست کی سماعت کرنے والی پانچ رکنی بینچ کو جمع کروائے گئے تفصیلی جواب میں خفیہ والوں کو بڑی طرح رگڑ دیا ہے۔ انہوں نے موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی کا ایک فقرہ کوٹ کرتے ہوئے بتایا کہ جب جنرل فیض حمید نے ایک ملاقات کے دوران مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ نواز شریف کی احتساب عدالت سے سزا کو برقرار رکھیں گے تو میری جانب سے ہر صورت آ ئین اور قانون پر عمل کرنے سے متعلق جواب سن کر جنرل نے یکدم کہا کہ اس طرح تو ہماری دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی۔

Close