بحریہ ٹاون کے ملک ریاض کا اصل جرم کیا ہے؟


سینئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چودھری نے ارب پتی بزنس ٹائیکون اور بحریہ ٹاون کے کرتا دھرتا ملک ریاض حسین کے ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا اس شخص کا جرم یہ یے کہ اس نے پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کو باقاعدہ انڈسٹری بنایا، مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کو لائف اسٹائل دیا اور ملک کی 60 انڈسٹریز چلا دیں۔
جاوید چودھری کہتے ہیں کہ دراصل ملک ریاض ایک سیلف میڈ انسان ہے جو چند سو روپے کی ٹھیکے داری سے اٹھا اور اپنی محنت اور لگن سے ملک کا سب سے امیر شخص بن گیا۔ لہازا یقینا ملک ریاض کے جرائم ناقابل معافی ہیں۔ سینئر صحافی کہتے ہیں کہ میں اس شخص کا فین ہوں۔ میں نے اس فین شپ میں بے تحاشا نقصان اٹھایا۔ مجھے گالیاں بھی پڑیں اور مجھے اس کا ملازم اور بینی فیشری بھی قرار دیا گیا۔ میرے خلاف تحقیقات بھی ہوئیں لیکن میں نہ تو کل باز آیا تھا، نہ آج باز آ رہا ہوں اور نہ ہی کل باز آؤں گا۔ اسکی وجہ بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ میں کم از کم احسان فراموشوں اور ترقی کو جوتے مارنے والوں میں شامل نہیں ہونا چاہتا لہٰذا میں ایک بار پھر یہ سوال کرتا ہوں آخر اس شخص کا جرم کیا ہے؟ یہ آدمی 26 برس سے مختلف عدالتوں، تھانوں اور سڑکوں پر ذلیل کیوں ہو رہا ہے؟ اس کی عزت اور صحت تک برباد ہو گئی لیکن یہ اس کے باوجود روزانہ 18 گھنٹے کام کرتا ہے۔ آپ اس پر کوئی بھی پابندی لگا دیں، آپ اس کی پراپرٹی جلا دیں، اس کے راستے بند کر دیں، آپ اسے فرش پر بٹھا کر اس کے کندھے پر سٹک رکھ دیں، لیکن یہ اس کے باوجود کام کرتا ہے اور پہلے سے زیادہ ڈیلیور کرتا ہے۔
جاوید چودھری کہتے ہیں کہ میرا ملک ریاض سے 26 سال پرانا تعلق ہے لیکن کل میں نے اس شخص کو پہلی بار پریشان دیکھا۔ اس نے مجھے فون کیا اور کہا کہ میں اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں۔مجھے یہاں تک نہیں آنا چاہیے تھا، میری ضرورتیں آج سے چالیس سال پہلے پوری ہو گئی تھیں، میں خوش حال اور مطمئن تھا، مجھے چاہیے تھا میں وہاں رک جاتا، بچوں اور ان کے بچوں کو انجوائے کرتا اور مزے سے زندگی گزارتا، مجھے آگے سے آگے بڑھنے اور دوسرے لوگوں کے بارے میں سوچنے کی کیا ضرورت تھی؟
ملک ریاض کا کہنا تھا کہ کراچی میں بحریہ ٹاؤن کے دائیں بائیں 39 ہاؤسنگ اسکیمیں ہیں، تمام ہاؤسنگ اسکیموں نے 1974ء سے 2018ء تک ایک ہی قانون کے تحت زمینیں خریدیں، ریاست 38 کو نہیں پوچھ رہی لیکن مجھ پر چٹان پر چٹان گرائی جا رہی ہے۔میں نے کون سا ایسا قانون توڑا ہے اور دوسروں نے کیا کمال کیا ہے؟ کیا میرا جرم صرف اتنا ہے کہ میں نے نے ڈیلیور کر دیا اور دوسرے سڑکیں تک نہیں بنا سکے؟ جاوید کے مطابق میں نے ان سے کہا ’’آپ لوگوں کی زمینوں پر کیوں قبضہ کر رہے ہیں، لوگ اپنی ملکیت نہیں چھوڑنا چاہتے، آپ انھیں کیوں بے دخل کر رہے ہیں؟ اس پر ملک صاحب فوراً بولے کہ صرف میں نہیں ہوں، 39 دیگر ہاؤسنگ اسکیمیں بھی ہیں، ان سب نے بھی زمینیں خریدیں اور قبضے لیے لیکن احتجاج اور حملے صرف مجھ پر ہی ہو رہے ہیں۔ باقی 38 سے کیوں نہیں پوچھا جا رہا؟ ہم نے اگر غلطی کی تو آپ تمام ہاؤسنگ اسکیموں کی زمینیں کینسل کر دیں، سب بند کر دیں، آپ دوسری ہاؤسنگ اسکیموں کی قیمتیں بڑھانے کے لیے مجھے کیوں ٹارگٹ کر رہے ہیں؟
ملک ریاض کا کہنا تھا کہ یہ سارا علاقہ ویران تھا، یہاں پانی تھا، سڑک تھی، اسپتال تھا اور نہ ہی اسکول تھا، میں نے وہاں یہ ساری سہولیات پہنچائیں۔ لوگ کل تک گدھوں پر پانی ڈھو کر لاتے تھے، آج وہاں پانی بھی ہے اور لوگ گاڑیوں اور بنگلوں کے مالک بھی ہیں، ہم وہاں گئے تو یہ زمینیں مہنگی ہوئیں، ہم نہ جاتے تو آج بھی یہ زمینیں کوڑیوں کے بھاؤ بکتیں، آپ ہمارے پراجیکٹ سے آدھا کلو میٹر دائیں بائیں چلے جائیں، آپ کو وہاں ریت اور بٹوں کے سوا کچھ نہیں ملتا، کل ہم اس جگہ کو بھی ڈویلپ کر لیں گے تو وہاں کے لوگ بھی ہم پر حملے شروع کر دیں گے‘‘۔
جاوید چودھری کہتے ہیں کہ میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ ملک ریاض درست کہہ رہے ہیں، ہو سکتا ہے کہ وہ غلط ہوں لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس ملک میں ایک ہی بار فیصلے کیوں نہیں کر لیتے؟ ہاؤسنگ اگر حکومت یا ریاست اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہے تو یہ پرائیویٹ کمپنیوں کو بین کر دے اور خود بنائے اور خود چلائے اور اگر یہ حکومت کے بس کی بات نہیں تو پھر یہ سسٹم بنا دے اور تمام سٹیک ہولڈرز کو برابر مواقع فراہم کر دے۔ کمپنیاں آئیں، اپنی اسکیمیں شروع کریں اور لوگوں کو پلاٹس اور گھر ڈیلیور کریں اور جو کمپنی وقت پر ترقیاتی کام پورے نہ کرے یا اپنے گاہکوں کے ساتھ وعدے پورے نہ کرے تو ریاست درمیان میں آ جائے اور عوام کے حق میں فیصلہ دے دے۔ تاہم کسی گروپ یا کسی جتھے کو کسی کی پراپرٹی پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
کیا یہ ظلم نہیں گستاخی فرانس میں ہوتی ہے اور ہجوم یہاں عام لوگوں کی گاڑیوں، گھروں اور دکانوں پر حملے کرنا شروع کر دیتے ہیں یا پھر وہ سیاسی جماعتوں کے جھنڈے اٹھاتے ہیں اور عام لوگوں کی اربوں روپے کی پراپرٹیز کو آگ لگا دیتے ہیں۔ لیکن ریاست کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔
جاوید چودھری سوال کرتے ہیں کہ کیا ملک ریاض جیسے لوگوں کو پاکستان میں کام نہیں کرنا چاہیے؟ آپ یقین کریں اگر ملک ریاض کسی ترقی یافتہ ملک میں ہوتا تو یہ آج بل گیٹس کی طرح سیلے بریٹی ہوتا لیکن ہم نے اسے پاکستان میں گبر سنگھ بنا دیا ہے۔ یہ مندر کا گھنٹہ بن کر رہ گیا ہے۔ جاوید چودھری کہتے ہیں کہ یہاں جو بھی حکومت آتی ہے اسے بجانا شروع کر دیتی ہے اور نقصان عام آدمی کا ہوتا ہے۔ ہم ایک طرف دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں، ہم اوورسیز پاکستانیوں کو تحریک دیتے ہیں کہ آپ آئیں اور اپنے ملک میں سرمایہ کاری کریں لیکن دوسری طرف جو لوگ سرمایہ کاری کر لیتے ہیں، ہجوم ان کی پراپرٹی ڈنڈوں سے کچل دیتا ہے اور ریاست چوں بھی نہیں کرتی، ہم ایک طرف لوگوں سے کہتے ہیں کہ آپ کام کریں، آپ سرمایہ کاری کریں اور دوسری طرف جو لوگ اپنی جمع پونجی لگا بیٹھتے ہیں، جو کام کر لیتے ہیں ہم انھیں عدالتوں، تھانوں اور جیلوں میں ذلیل کر کے رکھ دیتے ہیں اور اگرڈیلیور کرنے والے اس کے بعد بھی سروائیو کر جائیں تو ہم انھیں اس طرح ہجوم کے حوالے کر دیتے ہیں۔ لوگ آتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں، ڈنڈوں سے عمارتوں کے شیشے توڑتے ہیں اور آگ لگا کر رقص کرتے ہیں۔ یہ سب کہنے کے بعد جاوید چودھری سوال کرتے ہیں کہ یہ کوئی ملک ہے یا تماشا ہے؟

Close