مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید لطیف کوٹ لکھپت جیل سے رہا

لاہور کی مقامی عدالت سے ضمانت حاصل کرنے کے بعد ریاست مخالف بیانات کے مقدمے میں قید مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کر دیا گیا۔
لاہور کی سیشن کورٹ نے گزشتہ روز جاوید لطیف کی ضمانت منظور کی تھی اور انہوں نے آج ضمانتی مچلکے جمع کرائے، جس کے بعد ان کے روبکار جاری کر دیے گئے۔ایڈیشنل سیشن جج نے جاوید لطیف کی رہائی کے روبکار جاری کیے اور انہیں تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد جیل سے رہا کردیا گیا۔
خیال رہے کہ لاہور کی سیشن عدالت نے گزشتہ روز ریاست مخالف تقریر کے مقدمے میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف کی ضمانت منظور کرلی تھی۔ایڈیشنل سیشن جج حفیظ الرحمٰن نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید لطیف کی درخواست ضمانت پر سماعت کی تھی اور فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ فیصلہ سناتے ہوئے رکن قومی اسمبلی کی ضمانت منظور کرلی تھی۔سیشن عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید لطیف کو 2،2 لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف کے خلاف ریاست کے خلاف بغاوت کے لیے اکسانے اور غداری سمیت سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔میاں جاوید لطیف کے خلاف مقدمہ لاہور کے شہری جمیل سلیم کی درخواست پر ان ہی کی مدعیت میں تھانہ ٹاؤن شپ میں درج کیا گیا تھا۔ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ ‘رکن قومی اسمبلی نے ٹی وی پر ملکی سلامتی اور ریاستی اداروں کے خلاف بیان دے کر فوجداری، ملکی اور آئینی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔مزید کہا گیا تھا کہ ‘میاں جاوید لطیف نے حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف بیان دے کر مجرمانہ فعل کا ارتکاب کیا ہے’۔ مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 120، 120 بی، 153، 152 اے، 500، 505 (1) (بی)، 506 شامل کی گئی ہیں۔
رہنما مسلم لیگ (ن) جاوید لطیف نے ایک ٹی وی پروگرام میں مریم نواز کو مبینہ دھمکی کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ‘اگر خدانخواستہ مریم نواز شریف کو کچھ ہوا تو ہم پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگائیں گے’۔بعد ازاں لاہور کی مقامی عدالت نے جاوید لطیف کو ریاست مخالف بیان کیس میں 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

Close