ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع

اپوزیشن جماعتوں نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے خلاف متفقہ طور پر تحریک عدم اعتماد جمع کرادی ہے۔اس کے متن میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی سپیکر نے کئی بار جانبداری کا مظاہرہ کیا، انہوں نے کہا وہ آئین کو نہیں مانتے، ایسے شخص کا کوئی حق نہیں وہ اس سیٹ پر بیٹھے۔ تحریک میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈپٹی سپیکر نے 10 جون کے اجلاس کے دوران قواعد و ضوابط اور جمہوری اقدار کو پامال کیا۔مشترکہ اپوزیشن کی طرف سے جمع کرائی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی سپیکر نے اپوزیشن کو عوام کی نمائندگی کرنے اور بولنے کے حق سے محروم کیا۔اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ قانونی بلز جو قائمہ کمیٹیوں کو اب تک نہیں بھیجے گئے، ان کو براہ راست منظور کیا گیا۔
اس طرح ڈپٹی سپیکر نے حکومت کو فائدہ پہنچاتے ہوئے بلوں پر ہونے والی گنتی اور کورم کی نشان دہی پر بھی قواعد کو بلڈوز کیا۔ اس لیے اپوزیشن سمجھتی ہے کہ وہ اس عہدے پر رہنے کا حق کھو چکے ہیں۔
تحریک عدم اعتماد مسلم لیگ (ن)،پاکستان پیپلز پارٹی، ایم ایم اے، بی این پی، عوامی نیشنل پارٹی سمیت محسن ڈاوڑ نےمتفقہ طور پر جمع کرائی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے کئی بار جانبداری کا مظاہرہ کیا، آج قاسم سوری نے کہا کہ وہ آئین کو نہیں مانتے، ایک ایسا شخص جو نو ماہ سے اسٹے کے اوپر ڈپٹی اسپیکر کی سیٹ پر بیٹھا ہے وہ آئین و قانون کی پاسداری نہیں کررہا۔مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ ایسے شخص کا کوئی حق نہیں کہ وہ اس سیٹ پر بیٹھے،ہم جمہوری طریقے سے آئین کے مطابق کام کریں گے، یہ فیصلہ مشاورت سے ہوگا کہ اگلا ڈپٹی اسپیکر کا امیدوار کون ہوگا۔
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جمیعت علماء اسلام، بی این پی مینگل، عوامی نیشنل پارٹی اور محسن داوڑ نے دستخط کر دیے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی ہے بلکہ اس سے قبل نومبر 2019 میں بھی اپوزیشن نے قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی تاہم اس وقت حکومت نے آرڈینینسز کے حوالے سے اپوزیشن کا موقف تسلیم کرتے ہوئے اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد واپس لینے پر قائل کر لیا تھا۔
ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی کے طریقہ کار کے قواعد کی روشنی میں لائی جا سکتی یے، جہاں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کو عہدے سے ہٹانے کا طریقہ کار موجود ہے۔ قواعد کے تحت ڈپٹی سپیکر کو عہدے سے ہٹانے کی تحریری قرارداد سیکریٹری قومی اسمبلی کے پاس جمع کرائی جائے گی۔ قرارداد میں ڈپٹی سپیکر کے خلاف الزامات وضاحت کے ساتھ شامل کیے جائیں گے۔ سیکریٹری قومی اسمبلی نوٹس ممبران اسمبلی کو بھجوائیں گے۔
قواعد کے مطابق نوٹس وصولی کے سات دن مکمل ہونے کے بعد پہلے دن ڈپٹی سپیکر کو ہٹانے کی قرارداد کی تحریک قومی اسمبلی کے ایجنڈا میں شامل کی جائے گی۔ اس روز ڈپٹی سپیکر کو عہدے سے ہٹانے کی تحریک کے علاوہ ایجنڈے میں کوئی اور چیز شامل نہیں ہو گی۔متعلقہ ڈپٹی سپیکر اس روز اجلاس کی صدارت نہیں کر سکتا جس روز اس کو عہدے سے ہٹانے کی قرارداد زیر غور ہو گی۔ ڈپٹی سپیکر کو عہدے سے ہٹانے کی تحریک پیش کرنے کے لیے چیئرپرسن اس کی حمایت کرنے والے ارکان کو نشست پر کھڑا ہونے کا کہیں گے۔
ڈپٹی سپیکر کو عہدے سے ہٹانے کی تحریک کی حمایت میں اگر ایوان کی کل تعداد میں سے ایک چوتھائی ارکان کھڑے نہیں ہوتے تو تحریک پیش کرنے کی اجازت نہیں ملے گی۔ تحریک کے حق میں ایک چوتھائی ارکان کھڑے ہو گئے، تو قرارداد پیش کی جائے گی۔
قرارداد پیش کرنے والے شخص اور ڈپٹی سپیکر کو پندرہ منٹ یا زیادہ کے لئے بات کرنے کی اجازت ہوگی۔ قرارداد پر دستخط کرنے والے دیگر افراد کو بھی بات کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
قواعد کے تحت جب تک تحریک نمٹا نہیں دی جاتی، یا قرارداد پر ووٹ نہیں ہوتا اسمبلی اجلاس اگلے روز کے لیے ملتوی نہیں کیا جائے گا۔ ڈپٹی سپیکر کو عہدے سے ہٹانے کی قرارداد پر ووٹنگ خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہو گی۔اگر اجلاس سپیکر قومی اسمبلی نے طلب کیا ہے تو اجلاس تب تک غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی نہیں ہوگا جب تک تحریک نمٹا نہیں دی جاتی اور قرارداد پر ووٹنگ نہیں ہو جاتی۔
اگر ووٹنگ کے دوران قومی اسمبلی کی کل ممبرشپ کی اکثریت ڈپٹی اسپیکر کو ہٹانے کے خلاف قرارداد منظور کرتی ہے تو انھیں عہدے سے ہٹا دیا جائے گا بصورت دیگر تحریک عدم اعتماد ناکام ہو جائے گی۔ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے اپوزیشن کو 172 ارکان کی حمایت درکار ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے ممبران کی تعداد 160 کے لگ بھگ ہے۔

Close