خالی کُرسی

چار جولائی کی رات واشنگٹن کا آسمان پھلجڑیوں سے روشن تھا۔ پٹاخوں اور روشنیوں سے منور آسمان خوبصورت نظارہ پیش کر رہا تھا۔ پٹاخوں کے بے ہنگم شور میں عین اُس وقت نہ جانے کیوں آنکھوں کے سامنے بغداد پر گِرے ڈیزی کٹر میزائلوں اور افغانستان پر گرے لاتعداد بم لہرانے لگے۔ خیر طاقت کی اپنی ہی زبان ہے اور اپنا ہی انداز۔
گذشتہ ہفتے کے اختتام پر پاکستان میں کچھ اچھا بھی ہوا ہے اور یہ اچھا ہوتا رہے تو بہت اچھا ہو گا۔ ایک چھت اور ایک ایجنڈے کے ساتھ قومی اداروں کا پارلیمان کو اعتماد میں لینا اور قومی پالیسی کی تشکیل کے لیے اجتماعی دانش سے رجوع کرنا بہر حال خوش آئند ہے۔
ایک چھت کے نیچے بیٹھے اداروں کے سربراہ پاکستان کے خارجہ اور بالخصوص افغانستان سے متعلق پالیسی پر متفکر اور پریشان۔ اہم عوامی نمائندے اہم سوال پوچھ رہے تھے اور ’خاص حکام‘ مخصوص جواب دے رہے تھے۔
سوال جواب کا یہ سیشن پالیسی سازوں اور عوامی نمائندوں کے درمیان تھا۔ پارلیمانی جمہوریت میں بہرحال پالیسیاں پارلیمان میں بنتی ہیں اور ملک کا وزیراعظم یا اُس کا کوئی حکومتی نمائندہ پالیسیوں کے بارے میں بریفنگ دیتا ہے۔
ظاہر ہے کہ وطن عزیز میں معاملات اس سے مختلف ہیں اور مثالیت پسندی کو ایک جانب رکھ کر حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ کام عسکری قیادت کو ہی کرنا تھا سو ’ذمہ دار ادارے‘ نے یہ کام کیا۔
قومی اسمبلی کے ہال میں ایک جانب اپوزیشن تو دوسری جانب حکومتی نمائندے اور درمیان میں موجود عسکری قیادت نے کئی ایک اشارے بھی دیے جو عقل والوں کے سمجھنے کے لیے بہت ہیں۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے کئی جواب تو ملے لیکن کیا یہ اجلاس نتیجہ خیز بھی تھا؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ فیصلوں کے بارے بتایا گیا یا فیصلہ سازی کے لیے راہنمائی لی گئی، یہ بھی اہم ہے تاہم فی الحال سب کا اکھٹے بیٹھ جانے کو ہی غنیمت سمجھا جائے۔
افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد کی صورتحال میں ہماری پالیسی کیا ہو گی اور امریکہ کی جانب سے ڈرون حملوں کی صورت ہمیں کیا کرنا ہے اس بارے میں بھی جوابات نہیں تھے تاہم ایک بات اہم ہے کہ عسکری قیادت نے اچھے اور بُرے طالبان کی حد تک پالیسی واضح کر دی۔
اجلاس میں افغان طالبان اور تحریک طالبان کے گٹھ جوڑ کو پہلی بار ایک اور نظر سے دیکھا گیا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے جیسا کہ بریفنگ میں بتایا گیا تو یہی وہ ’پیراڈائم شفٹ‘ ہے جو آنے والے دنوں میں افغان پالیسی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ مستقبل میں ہم اچھے اور بُرے طالبان کے منترے سے نکل پائیں گے یا نہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
امریکی افواج کے انخلا کے بعد ہم چین کی طرف کس حد تک دیکھ سکتے ہیں؟ غیر جانبدار خارجہ پالیسی اختیار کرنے کی صورت کیا قیمت چکائے جا سکتی ہے۔۔ اس بارے میں ہماری تیاری کیا ہے؟ معاشی مسائل کے ساتھ ہم کس حد تک امریکہ کے ساتھ ’صرف امن‘ میں پارٹنرز بن سکتے ہیں یہ بھی زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر دیکھنا ہو گا۔
خطے میں طالبان ایک نئی قوت کے طور پر جنم لیں گے، ہمارے رولز آف انگیجمنٹ کیا ہوں گے؟ ہمیں افغانستان کے تمام دھڑوں میں کس حد تک توازن رکھنا ہے؟ اور طالبان کے ہندوستان سمیت ’عالمی روابط‘ ہمارے لیے کیا مشکلات پیدا کر سکتے ہیں؟ یہ اور اس جیسے کئی اہم سوال ہماری افغان پالیسی کا حصہ ہیں یا نہیں؟
کچھ اہم اشارے اور بھی تھے کہ ادارے پر تنقید برداشت نہیں کی جائے گی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہاں موجود سیاسی قیادت نے اس اہم اعلان کو نہ صرف سماعت کیا بلکہ سمجھ بھی لیا ہے۔
اہم اشارہ تو یہ بھی ہے کہ ملک کی اہم ترین قیادت موجود تھی تاہم وزیراعظم کی کرسی خالی تھی، خیر اس سے کیا فرق پڑتا ہے، وزیراعظم کا وہاں ہونا یا نہ ہونا کیا معنی رکھتا، اسی لیے شاید مناسب سمجھا گیا کہ اجلاس میں پالیسی ساز اور فیصلہ ساز ہی جوابدہ ہوں۔
’جس کا کام اُسی کو ساجھے‘ کی یہ پالیسی تحریک انصاف کے لیے کوئی نئی نہیں ہے بلکہ مستقبل کے فیصلوں سے فرار کا آسان فارمولہ بھی مہیا کرتی ہے۔
سرکاری وضاحتیں اپنی جگہ کہ وزیراعظم کی اس اہم ترین پالیسی ساز اجلاس سے عدم حاضری دراصل حزب اختلاف کی ضد کا نتیجہ تھی، بہر حال خالی کُرسی ایک علامت بھی ہے اور اشارہ بھی۔ سوال بھی ہے اور جواب بھی۔۔۔ اختیار کہاں ہے اور اقتدار کس کا۔۔۔ خالی کُرسی نے ایک بار پھر مہر ثبت کر دی۔

تحریر: عاصمہ شیرازی
بشکریہ بی بی سی اردو

Close