وکیل، کتوں کے مالک کا عدالت سے باہر تصفیہ

ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں گزشتہ ماہ حملہ کر کے وکیل کو زخمی کرنے والے کتوں کے مالک اور مذکورہ وکیل کے درمیان عدالت سے باہر تصفیہ ہوگیا۔
‘تصفیہ کے سمجھوتے میں کچھ شرائط شامل ہیں جس میں کتوں کو مارنا اور جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کو 10 لاکھ روپے عطیہ دینا شامل ہے’۔

اس تصفیے کی تصدیق کرتے ہوئے ایس ایس پی انویسٹیگیشن عمران مرزا نے کہا کہ پولیس اس (تصفیے) کے تحت کیس خارج کردے گی۔

خیال رہے کہ 16 جون کو ڈیفنس فیز 4 میں ایڈووکیٹ مرزا اختر پر 2 کتوں نے حملہ کردیا تھا جس پر ملزم ہمایوں علی خان کو ان کے بیٹے اور کتے سنبھانے والے ملازمین فہد اور علی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

مذکورہ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی جس میں سینئر وکیل کو کتوں کے حملے کا شکار ہوتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا۔

یہ واقعہ سی سی ٹی وی کیمرے میں ریکارڈ ہوا تھا جس میں دیکھا گیا کہ مذکورہ وکیل جب چہل قدمی کررہے تھے توکتوں نے حملہ کر کے ان کو زمین پر گرادیا اور لوگوں کے چھڑانے سے قبل وہ شدید زخمی ہوچکے تھے۔

حالانکہ اس کیس میں قانونی کارروائی جاری ہے لیکن وکیل اور کتے کے مالک کے درمیان معاملہ حل ہوگیا ہے۔

6 جولائی کو ہونے والے سمجھوتے کے مطابق ایڈووکیٹ اختر مرزا کچھ شرائط پر ہمایوں علی خان کو ‘اللہ کی رضا کے لیے معاف کرنے’ پر رضامند ہوگئے ہیں۔
اس میں کہا گیا کہ کتوں کے مالک نے ایڈووکیٹ اختر مرزا سے انہیں پہنچنے والی تکلیف پر غیر مشروط معافی مانگی ہے۔

سمجھوتے کے مطابق ہمایوں خان اور ان کے اہلِ خانہ اپنے گھر میں کسی ‘خطرناک یا مشتعل’ کتے کو پالتو بنا کر نہیں رکھیں گے۔

اس کے علاوہ پالتو رکھے گئے کتوں کو کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن سے رجسٹرڈ کروانا ہوگا اور انہیں تربیت یافتہ فرد کے ساتھ کے بغیر باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی اور جب بھی انہیں باہر رکھا جائے گا انہیں مصروف رکھا جائے۔

وکیل پر حملے میں ملوث دونوں کتوں کو فوری طور پر جانوروں کے ڈاکٹر موت کی نیند سلادیں گے جبکہ ہمایوں خان اس طرح کے دوسرے کتوں سے بھی دستبردار ہوجائیں گے۔

علاوہ ازیں کتوں کے مالک عائشہ چند ریگر فاؤنڈیشن/اے سی ایف اینمل ریسکیو کو 10 لاکھ روپے کا عطیہ دیں گے۔

مذکورہ سمجھوتے پر دونوں فریقین اور گواہان کے دستخط کے بعد اسے عدالت میں جمع کروادیا گیا۔

Close