دہلوی ’قصائی‘ لکھتے ہیں تو لکھنؤی تحریر میں ’قسائی‘ لاتے ہیں

کسی بھی دوسری بات سے پہلے نوٹ کر لیں کہ مصرع ثانی میں وارد ’جو بلی‘ دو الگ الفاظ ہیں انہیں ہرگز ’Jubilee‘ نہ پڑھا جائے۔ اس میں پہلا لفظ ’جَو‘ بمعنی ’اگر‘ ہے جب کہ ’بلی‘ وہی جانور ہے جسے خواب میں کبھی چھیچھڑے دکھائی دیتے ہیں تو کبھی اُس کے بھاگوں چھینکا ٹوٹ گرتا ہے۔
اب ’قصاب’ کا بیاں ہوجائے کہ عید قرباں پر اس کی ڈیمانڈ قربانی کے جانوروں سے زیادہ اور نخرے نئی نویلی دلہن سے سوا ہوتے ہیں جب کہ تُند مزاجی اس پر مستزاد ہے۔
وعدہ، وعید اور عید میں مشترک کیا؟
لفظ ’قصاب‘ کے املا پر اہل زبان متفق ہیں مگر اس کے مترادف لفظ ’قصائی‘ کے املا میں دبستان دہلی و لکھنؤ میں اختلاف ہے۔ دہلوی ’قصائی‘ لکھتے ہیں تو لکھنؤی تحریر میں ’قسائی‘ لاتے ہیں۔
جو ’قصائی‘ کے قائل ہیں وہ اس کی نسبت ’قصاب‘ سے جوڑتے ہیں۔ اب ’قسائی‘ لکھنے والوں کی بھی سنیں جو اسے ’قساوت‘ سے مشتق بناتے ہیں۔ قساوت کے معنی سنگ دل، بے رحم اور ظالم ہیں۔ چوں کہ بُغدا، چُھرا اور کٹار قصاب کے ہتھیار اور جانوروں کا لہو بہانا اُس کا کاروبار ہے اس لیے ‘قساوت’ اس کے مزاج میں در آئی ہے۔ یوں ’قسائی‘ قصاب کی صفت بن جاتی ہے۔
اب اگر گرائمر کی رو سے قساوت سے ’قسائی‘ درست نہ بھی ہو تو بھی الفاظ و معنی کے اشتراک سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
خیر ’قصائی‘ ہو یا ’قسائی‘ بروز عید وہ گوشت بنانا کر چلتا ہوگا۔ اس گوشت سے نوع بہ نوع پکوان خاتونِ خانہ (یا کہیں کہیں مرد حضرات بھی) تیار کریں گے اور اس تیاری میں ’مصالح‘ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

Close