نایاب قتل کیس: سابق ماڈل کو ’گلا دبا کر قتل کیا گیا

لاہور کے علاقے ڈیفنس فیز فائیو میں دو روز قبل پراسرار طور پر قتل ہونے والی 30 سالہ ماڈل نایاب کی ابتدائی فرانزک رپورٹ کے مطابق مقتولہ کو گلا دبا کر قتل کیا گیا ہے جبکہ ان کی گردن پر زخم کے نشان بھی پائے گئے ہیں۔
ہفتے کی شب ون فائیو پر پولیس کو موصول ہونے والی ایک کال میں ایک شخص کی جانب سے بتایا گیا کہ ان کی بہن کو کسی نے قتل کر دیا ہے اور لاش ان کے گھر میں ملی ہے۔ پولیس کے جائے وقوعہ پر پہنچے کے بعد قتل ہونے والی کی شناخت نایاب ندیم کے نام سے ہوئی جو پیشے کے لحاظ سے ماڈل رہ چکی ہیں۔
یہ وہی ماڈل ہیں جنھوں نے سنہ 2015 میں ریلیز ہونے والے ایک مشہور پنجابی گانے ’گڈی تو منگا لے۔۔۔ تیل میں پواواں گا‘ میں ماڈلنگ بھی کی تھی تاہم ماڈلنگ کیرئیر کو انھوں نے کافی عرصہ پہلے ہی خیرباد کہہ دیا تھا۔
پولیس کی جانب سے اس واقعے کا مقدمہ نایاب کے بھائی ناصر کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں انھوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کی بہن 2015 سے ڈیفیس میں اپنے ذاتی گھر میں رہ رہی تھیں اور وہ اپنی بہن کو روزانہ گھر کا ضروری سامان دینے جاتے تھے۔
’لیکن آج جب میں ان کے گھر پہنچا تو میری بہن کے زیر استعمال فون بند تھا اورگھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور میری بہن کی گاڑی بھی گھر میں موجود تھی۔ جب میں گھر میں داخل ہوا تو ٹی وی لاؤنچ میں میری بہن کی لاش برہنہ حالت میں پڑی ہوئی تھی جس پر میں نے کپڑا ڈالا۔ اس کے بعد میں نے باہر آ کر پولیس کو اطلاع دی۔‘
نایاب کے بھائی ناصر کا کہنا تھا کہ اگرچہ نایاب ان کی سوتیلی بہن تھیں لیکن وہ ان کے ہاتھوں میں پلی بڑھی تھی اور ان سے بے حد پیار کرتی تھی۔انھوں نے کہا کہ ’ماڈلنگ چھوڑنے کے بعد میں اپنی بہن کی کفالت کرتا تھا۔ ہمارا ملنا جلنا تھا اور میرے بچوں اور فیملی کے ساتھ وقت بھی گزارا کرتی تھی۔ اس تمام عرصے میں اس نے کبھی مجھ سے کسی دشمنی یا مسئلے کا ذکر نہیں کیا اور نا ہی میرے علم میں ہے کہ اس کے کوئی ایسے دوست تھے۔ اس لیے میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کے میری بہن کو ناحق قتل کیا گیا ہے تاہم پولیس کی تفتیش جاری ہے اور میں نے پولیس کو بھی وہی کچھ بتایا ہے جو میں نے دیکھا۔ اب ہمیں انصاف کا انتظار ہے۔‘
اس کیس کے حوالے سے بات کرتے ہو پولیس کے تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ نایاب کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کو گلا دبا کر قتل گیا تاہم اس بات کا شک ہے کہ انھیں کوئی نشہ آور چیز کھلا کر یہ سب کیا گیا۔
اس لیے اس پہلو پر بھی تفتیش جاری ہے کہ گھر میں کیا کوئی ایسا شخص داخل ہوا جو ان کی پہچان کا تھا۔ مقتولہ نایاب کے موبائل فون سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور نایاب کے ساتھ رابطے میں رہنے والے دوستوں اور رشتے داروں کو شامل تفتیش کیا جائے گا جبکہ پوسٹ مارٹم کی تفصیلی رپورٹ آنے کے بعد ہی معاملہ مزید واضح ہو گا۔
پولیس حکام کا مزيد کہنا تھا کہ مقتولہ کے ساتھ زیادتی ہونے کے پہلو کو جانچنے کے لیے ہم فرانزک ڈیپارٹمنٹ سے بھی رابطے میں ہیں اور حتمی رپورٹ آنے کے بعد ہی اس کے متعلق پتہ چلے گا۔

Close