ویڈیو بنا کر لڑکا، لڑکی سے 11 لاکھ بھتہ وصول کیا گیا

اسلام آباد میں ایک لڑکے اور لڑکی کو گن پوائنٹ پر برہنہ کرکے ان کی ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پر ڈالنے والے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس نے متاثرہ جوڑے سے 11 لاکھ 25 ہزار روپے بھتہ بھی وصول کیا۔ اب تک مختلف موبائل فونوں کے جائزے سے پولیس نے اندازہ لگایا ہے کہ عثمان کے ساتھیوں نے متاثرہ جوڑے کی اڑھائی گھنٹے طویل ویڈیوز بنائیں جو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل کر دی گئیں۔ ان ویڈیوز سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اسلام آباد کے فلیٹ میں گھسنے کے بعد عثمان مرزا نے نہ صرف متاثرہ جوڑے پر آن کیمرہ جنسی عمل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا بلکہ لڑکی کے ساتھ خود بھی زبردستی کی کوشش کی۔
یاد رہے کہ لڑکا اور لڑکی دونوں منگیتر تھے۔ واقعے کے روز لڑکی انٹرویو کے لیے اسلام آباد آئی تھی اور لڑکے نے اسے ایک فلیٹ میں ٹھہرایا تھا جہاں پر یہ افسوسناک واقعہ ہوا۔ اس واقعے کے بعد عثمان مرزا جوڑے کو انکی ننگی ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکی دے کر بھتہ وصول کرتا رہا۔ وصول کردہ بھتے کی کل رقم 11 لاکھ 25 ہزار روپے بنتی ہے جو پولیس اب تک برآمد نہیں کر پائی۔ کار ڈیلر عثمان مرزا نے ظلم یہ کیا کہ بھتے کی رقم وصول کرنے کے باوجود جوڑے کی ویڈیوز وائرل کردیں۔ اس کیس میں اسلام آباد کی ایک عدالت نے ملزم عثمان مرزا اور اس کے ساتھیوں کے ریمانڈ میں چار دن کی توسیع کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ ملزمان کے کردار کا الگ الگ تعین کیا جائے۔ متاثرہ جوڑے نے بھی اب کیس کی باقاعدہ پیروی شروع کر دی ہے جبکہ وکلا صفائی نے مقدمے میں مزید دفعات شامل کرنے پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
اسلام آباد پولیس کی جانب سے لڑکی اور لڑکے کو برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنانے کے جرم میں مرکزی ملزم عثمان ابرار، حافظ عطاالرحمن، فرحان اور ادارس قیوم بٹ کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر 13 جولائی کو اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ وقار حسین گوندل کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملزمان کی پیشی کے دوران سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے۔ عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیس کی تفتیش میں میں اب تک کیا پیشرفت ہے؟
تفتیشی افسر نے آگاہ کیا کہ ویڈیو بنانے والے موبائل فون سمیت دو موبائل برآمد ہو چکے ہیں۔ اسلحہ بھی برآمد کیا جا چکا ہے جبکہ لڑکے اور لڑکی کے دفعہ 164 کے بیانات بھی قلمبند کیے جا چکے ہیں۔
تفتیشی افسر کے مطابق دونوں لڑکا اور لڑکی نے مزید ملزمان کا انکشاف کیا ہے اور بتایا ہے کہ ملزمان نے لڑکی کو برہنہ کر کے ڈھائی گھنٹے تک ویڈیو بنائی۔تفتیشی افسر نے عدالت کو مزید بتایا کہ مقدمے میں دفعہ 375 اے سمیت دیگر نئی دفعات شامل کی گئیں ہیں۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ لڑکی کو برہنہ کر کے زیادتی کروانے کی کوشش کی گئی۔ مقدمے میں بھتہ لینے کی دفعہ بھی شامل کی گئی ہے تاہم ویڈیو وائرل کرنے والے ملزم کو گرفتار کرنا ابھی باقی ہے۔ اس موقع پر عدالت نے ہدایت کی کہ ویڈیو کس طرح وائرل ہوئی اس کا بھی سراغ لگایا جائے۔
دوسری جانب سرکاری وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ملزمان نے گیارہ لاکھ 25 ہزار روپے بھتہ بھی لیا، چھ ہزار وقوعہ کے وقت چھینا گیا تھا اور باقی رقم بلیک میل کر کے وصول کی گئی جو کہ ابھی برآمد کرنی ہے۔ سرکاری وکیل کے مطابق اس کے علاوہ تین موبائل فونز بھی برآمد کرنے ہیں جبکہ باقی ملزمان بھی گرفتار ہونا باقی ہیں۔ دوسری جانب ملزمان کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ویڈیو کی جانچ کے لیے پولیس سائبر کرائم سیل کیوں نہیں جا رہی؟ جس نے بھی ویڈیو وائرل کی اس کو بھی گرفتار کیا جائے۔ معاملے میں تشدد کا نشانہ بننے والے جوڑے کی جانب سے وکیل حسن جاوید شورش عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اپنایا کہ یہ معاملہ سائبر کرائم سیل کی طرف نہیں جائے گا اور ابھی تو فلیٹ کے معاملہ کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔
عدالت کے استفسار پر حسن جاوید شورش نے بتایا کہ انھیں لڑکے اور لڑکی نے وکیل مقرر کیا ہے اور سیکورٹی خدشات کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہو رہے ہیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ ’اس کیس میں پوری سوسائٹی ڈسٹرب ہوئی ہے، ہر شہری خوف میں مبتلا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا کیس ہے اس کو مثال بنانا چاہیے۔ ویڈیو برآمدگی، لیپ ٹاپ اور دیگر چیزیں برآمد کرنا ہیں لہذا ملزمان کو زیادہ سے زیادہ ریمانڈ دیا جائے۔‘

Close