ملالہ کو آئے روز متنازع بنانے والوں کو اصل تکلیف کیا ہے؟

پاکستان کا فخر نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی خود کوئی متنازع بات کریں نہ کریں، ان کے بارے میں آئے روز کسی نہ کسی بنا پر کوئی نہ کوئی تنازع کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ چاہے وہ ان کا کسی غیر ملکی جریدے کو دیا گیا انٹرویو ہو یا اسرائیل فلسطین تنازع پر دیا گیا بیان۔ ایسا ہی کچھ 13 جولائی کے روز ان کی سالگرہ کے دن بھی ہوا جب پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے معاشرتی علوم کی کتابوں کا سٹاک ان کی تصویر شامل ہونے کے باعث ضبط کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔
اس کتاب میں پاکستان کی اہم شخصیات کی فہرست میں جہاں 1965 کی جنگ میں نشانِ حیدر کا اعزاز پانے والے میجر عزیز بھٹی سمیت دیگر نامور افراد کی تصاویر موجود ہیں وہیں 2014 میں نوبل انعام پانے والی ملالہ یوسفزئی کی تصویر بھی موجود ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی ہفتوں سے اس صفحے کی تصویر شیئر کی جا رہی تھی اور رجعت پسندوں کی جانب سے اسے ہٹانے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
یاد رہے کہ یہ کتاب آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے شائع کی گئی تھی۔ ترجمان پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ یا پی سی ٹی بی کے مطابق ’اس کتاب کو این او سی نہیں دیا گیا تھا لیکن پھر بھی شائع کر دی گئی جو پی سی ٹی بی ایکٹ 2015 کی خلاف ورزی ہے جس کے بعد اب اسے کتب فروشوں سے قبضے میں لینا معمول کی بات ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس سے پہلے بھی کئی کتابوں کو این او سی نہ ہونے کی وجہ سے ضبط کیا جا چکا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔‘
دوسری جانب آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی مارکیٹنگ ڈائریکٹر راحیلہ بقائی نے بتایا کہ یہ کتاب پرائمری سے پہلے کی جماعتوں کے لیے سیک اضافی کتاب ہے۔ راحیلہ نے بتایا کہ کتاب میں ملالہ یوسفزئی کی تصویر ’مشہور افراد‘ کے عنوان میں شامل کی گئی ہے کیونکہ وہ دنیا کی کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ شخصیت ہیں اور یہ سوال پوچھا گیا ہے کہ کیا آپ اس لڑکی کو جانتے ہیں؟
کتاب کے این او سی کے حوالے سے سوال پر انھوں نے یہ کہا کہ این او سی کے حصول کے لیے وہ تمام صوبائی ٹیکسٹ بک بورڈز کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔
ملالہ کی تصویر والی کتاب قبضے میں لیے جانے کی خبر آتے ہی سوشل میڈیا پر اکثر افراد اس حوالے سے سخت ردِ عمل دیتے دکھائی دے رہے ہیں۔
لمز یونیورسٹی کے معلم حسن جاوید نے ٹویٹ کیا کہ ‘جب آپ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ ایکٹ 2015 اور نئے سنگل نیشنل کریکولم کو ملائیں تو یہ نتائج سامنے آتے ہیں۔ یعنی ایسے حکام جن کے پاس بہت زیادہ طاقت ہو اور وہ نصابی کتب کوریاستی نظریے کے مطابق سنسر کرتے ہیں۔’یہ سب نیا نہیں ہے، اب اسے صرف قانونی حیثیت حاصل ہو گئی اور یہ مسلسل ہو رہا ہے۔’
ایک صارف نے لکھا کہ ‘یہ عورت دشمن معاشرہ ہے، اسے خود مختار، پڑھی لکھی، سمجھدار، سوال کرنے والی خاتون سے ڈر لگتا ہے، اس تشدد پسند و منافق معاشرے کو امن سے، تعلیم سے، روشنی سے ڈر لگتا ہے۔‘ پریشے نامی صارف کا کہنا تھا کہ ‘ملالہ سے مجھے کوئی خار نہیں پر اس قوم نے ڈاکٹر عبدالسلام جیسے ہیرو کو ریجیکٹ کیا اور ملالہ کو بغیر ایفرٹ کے نوبل انعام مل گیا تو اس پہ فخر کرنے کی بجائے شرمندہ کیوں ہوتے ہیں آخر پاکستانی مسلم نوبل انعام یافتہ ہے منہ کیوں چھپاتے ہو۔’
خیال رہے کہ ملالہ پاکستان کے دو نوبل انعام یافتہ اشخاص میں سے ایک ہیں۔ سنہ 1979 میں فزکس میں خدمات کے عوض ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل انعام دیا گیا تھا۔ ایک اور صارف رطابہ نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ایک جوہری طاقت ایک لڑکی سے اس قدر خوفزدہ ہے جسے طالبان نے 15 سال کی عمر میں گولی ماری تھی۔ یہ ملک صحیح معنوں میں متاثرہ افراد کے خلاف ہے۔’
ایک اور صارف مہناز نے لکھا کہ قومی شعور کی اس سطح کو کیا نام دیا جا سکتا ہے جس کے تحت پاکستان میں اسکول کے بچوں کو ملالہ یوسف زئی کے نام سے نابلد رکھنا ہی قومی مفاد کے عین مطابق سمجھا جاتا ہے۔ اسی مزاج کے عین مطابق وہ کتاب ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں پاکستان کے مشاہیر کے ساتھ ملالہ یوسفزئی کی تصویر شائع کی گئی تھی۔
تاہم سوشل میڈیا پر ملالہ کے مخالف وہ جہلا جنہوں نے کئی ہفتوں تک اس کتاب کے ملالہ کی تصویر والے صفحہ کی تصویریں عام کر کے قومی غیرت کو للکارنے کی بھرپور کوشش کی تھی بالآخر اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے اور اس کا کریڈٹ لینے میں بھی بخل سے کام نہیں لے رہے۔ انکی رائے کے مطابق کئی ہفتوں سے اس طرف حکام کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی جا رہی تھی لیکن اب جاکر انہیں ہوش آیا ہے اور قومی مفاد اور دینی حمیت پر ہونے والے اس ’گھناؤنے حملے‘ کا تدارک کیا جا سکا ہے۔
لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ آخر ملالہ یوسف زئی نے ایسا کیا کیا ہے کہ اس کا نام لینا اور اس کی تصویر کو کسی نصابی کتاب میں شامل کرنا ممنوع قرار پایا ہے۔ کیا اس نے پاکستان کو دہشت گرد کہا ہے، کیا اس نے کبھی پاکستان کے خلاف کوئی بیان دیا ہے، کیا اس نے کبھی پاکستان کو کسی بھی طرح کسی دوسرے ملک سے کم تر کہنے کی کوئی کوشش کی ہے۔ اس کے برعکس وہ تو آج بھی پاکستانی ہونے پر فخر کرتی ہے۔ دنیا کی بڑی سے بڑی تقریب اور اہم ترین موقع پر بھی پاکستانی لباس پہن کر اور سر ڈھانپ کر جاتی ہے۔ وہ تو حجا ب کو اپنی ثقافت اور مذہب کی علامت قرار دیتی ہے اور اس پر فخر کا اظہار کرتی ہے۔ پھر ملالہ کیوں پاکستانیوں کے اعصاب پر یوں سوار ہے کہ اس کا نام لینا ملک و قوم یا عقیدہ سے دوری کا سبب سمجھا جاتا ہے۔
سوال یہ بھی یے کہ کیا وجہ ہے کہ ملالہ جیسی نامور اور باہمت خاتون پاکستان نہیں آ سکتی۔ اپنے ہی علاقے میں اپنے ہی لوگوں کے درمیان رہ کر اپنے وطن کی خدمت نہیں کر سکتی۔ کیا وجہ ہے کہ پاکستانی ریاست نہ تو ملالہ یوسف زئی کی سلامتی کی ضامن بنتی ہے اور نہ ہی اس قابل ہے کہ اگر ملالہ وطن واپس آنا چاہے تو اس کی حفاظت کو یقینی بنا سکے۔ یہی مجبور ریاست گزشتہ کئی برس سے پوری دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کر رہی ہے کہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کا وزیر خارجہ اور وزیر اعظم تواتر سے قوم کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ پوری دنیا دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عزم اور کامیابیوں سے بہت متاثر ہے اور اس کی توصیف کرتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کارناموں کی تعریف کرنے والی یہ ’دنیا‘ کیا کبھی شاہ محمود قریشی سے یہ بھی پوچھتی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ان کا ملک اپنی ہی ایک ایسی شہری کو اپنے ہاں آنے نہیں دیتا جس کی میزبانی کرنا دنیا کا ہر ملک اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہے؟
ملالہ یوسف زئی کو یہ اعزاز دہشت گردوں کے مقابلے میں کھڑا رہنے پر دیا جاتا ہے۔ اکتوبر 2012 میں سوات میں تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گردی کا نشانہ بننے کے بعد جب اس لڑکی نے برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال میں آنکھ کھولی تو اس نے لڑکیوں کی تعلیم کے لئے ڈٹے رہنے کا اعلان کیا۔ جان لیوا حملے سے بچنے کے بعد اس نے دنیا بھر کی لڑکیوں کے لئے تعلیم کے حق کو اپنا مشن بنایا اور مہذب دنیا نے اس کے اس مطالبے کو تسلیم کیا۔
لڑکیوں کی تعلیم کے لئے سینہ سپر رہنے ہی کی وجہ سے اسے 2014 میں دنیا کے سب سے بڑے سول اعزاز نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ سترہ برس کی عمر میں یہ انعام جیتنے والی ملالہ دنیا کی سب سے کم عمر فرد تھی۔ پوچھا جاتا ہے کہ آخر ملالہ ہی کیوں؟ دہشت گردی کے خلاف تو بہت لوگوں نے آواز اٹھائی ہے اور بہت لوگوں نے قربانیاں دی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف مغربی سازشوں کے نظریات فروخت کرنے والے پاکستانی ہی یہ سوال اٹھاتے ہیں اور پھر اس سے ان نامعلوم سازشوں کا سراغ لگاتے ہیں جنہیں ایسے ہی سازشی ذہن پرداخت چڑھاتے ہیں۔
یوں قوم کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جیسے ملالہ پر حملہ بھی ایک سازش تھی اور اس کا زخمی ہونا بھی ڈرامہ تھا۔ ایسی بیمار اور دلیل سے عاری ذہنیت کا کوئی جواب ممکن نہیں ہے لیکن ملالہ یوسف زئی ہمت و استقامت کی علامت بن کر ایسے نظریات کو مسترد کرتی ہے۔ گولی کے مقابلے میں قلم پکڑے رہنے کا اعلان کرنے والی اس لڑکی کی مستقل مزاجی پاکستان کے رجعت پسند، ناکارہ اور ملک و قوم کو بدستور گئے زمانے میں گھسیٹنے کے خواہاں عناصر کے سینے پر مونگ دلنے کا سبب بن رہی ہے۔ اسی لئے کسی نصاب میں ملالہ کا ذکر پاکستان کی قومی غیرت کا سوال بنا لیا گیا ہے۔
پاکستان کی پوری تاریخ میں کسی پاکستانی شہری کو ایسی عالمگیر عزت و شہرت نصیب نہیں ہوئی جو ملالہ یوسف زئی کے حصے میں آئی ہے۔ دنیا کا بڑے سے بڑا لیڈر یا فنکار ملالہ یوسف زئی سے ملنا، اس کے ساتھ بات کرنا اور تصویر بنوانا اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہے۔ جن ایوانوں تک پہنچنے کے لئے ہمارے لیڈر ایڑیاں رگڑتے ہیں، ان کے دروازے ملالہ کی مرضی و منشا کے مطابق کھل جاتے ہیں اور ان کے مکین خندہ پیشانی اور فراخدلی سے اس کا استقبال کرتے ہیں۔ ملالہ دنیا میں پاکستان کی مثبت پہچان کی علامت ہے۔ اس احسان کا بدلہ اسے ملک و دین کے لئے تہمت قرار دے کر ادا کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان نہ اس کی شہرت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور نہ اپنی اس بیش قیمت شہری کو وہ عزت و احترام دینے پر تیار ہے جو ملالہ یوسف زئی سے زیادہ کسی پاکستانی کا حق نہیں ہے۔

Close