کیا شہباز شریف کی نااہلی کا منصوبہ تیار ہو رہا ہے؟

باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کپتان اینڈ کمپنی نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو پارلیمانی سیاست سے باہر کرنے کے لیے کسی ایسے کیس میں پھنسانے کی تیاریاں شروع کردی ہیں جس کے نتیجے میں نہ صرف انہیں سزا ہو جائے بلکہ وہ بطور ممبر قومی اسمبلی نااہل ہو کر سیاسی میدان سے ہمیشہ کے لئے آؤٹ ہو جائیں۔
نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سمجھتے ہیں کہ مریم نواز یا شاہد خاقان عباسی ان کے لئے بڑا سیاسی چیلنج نہیں لیکن اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ان کے متبادل کے طور پر سامنے آ رہے ہیں لہذا اس سے پہلے کے وہ پارلیمنٹ میں ان کے لئے خطرہ بنیں، ضروری یے کہ انہیں سیاست سے ناک آوٹ کروا دیا جائے۔ یاد رہے کہ شہبازشریف پچھلے دو سال میں دو مرتبہ کرپشن کیسز میں نیب کی قید کاٹ چکے ہیں لیکن دونوں مرتبہ ان کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ ان نیب کیس میں شہباز شریف کی پیشیاں اب بھی جاری ہیں لیکن احتساب بیورو ان کے خلاف اپنے الزامات ثابت کرنے میں ابھی تک ناکام ہے۔ قانون کے مطابق اگر کوئی رکن اسمبلی کرپشن کے کیس میں سزا وار قرار پاتا ہے تو وہ صادق اور امین نہیں رہتا اور یوں اسمبلی رکنیت کے لئے نااہل ہو جاتا ہے۔ اسی لئے اب یہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ شہباز شریف کو قومی اسمبلی سے فارغ کروانے کیلئے کوئی تگڑا کرپشن کیس بنا کر سزا دلوانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ اپنی مفاہمانہ سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کی گڈ بکس میں ایک بار پھر جگہ بنا کر عمران خان کے لیے ایک چیلنج بن گے ہیں۔ چنانچہ شہباز شریف کو سیاسی میدان سے مکمل طور پر آؤٹ کرنے کے لئے کہتان نے اپنی قانونی ٹیم کو کسی ایسے کیس میں پھنسانے کا ٹاسک سونپ ہے جس میں وہ بچ نہ پائیں۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ کپتان کو اس پلان کی بھنک پڑ چکی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ان کی حکومت کی ناکامی کے بعد شہباز شریف کو ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے وزیر اعظم منتخب کروانے کے حوالے سے سوچ بچار کر رہی ہے۔ لیکن عمران خان کسی صورت شہباز شریف کو اپنی اپنی کرسی دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ لہازا سیاسی میدان میں شہباز شریف کا مقابلہ کرنے کی بجائے کپتان نے نیب اور ایف آئی اے کے ذریعے شہباز شریف کو میدان سیاست سے آؤٹ کرنے کا پلان بنایا ہے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ شہباز شریف دوسری مرتبہ رہائی کے بعد سے ایک بہت محتاط اننگ کھیل رہے ہیں۔ وہ نہ صرف حالات کا جائزہ لے رہے ہیں بلکہ کسی تنازعہ سے بھی بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم وہ جتنے بھی محتاط ہو جائیں، کپتان کے دشمن نمبر ون ہی رہیں گے۔ وہ خاموش رہیں یا بولیں، وہ حکومت کے نشانہ پر ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ تحریک انصاف…مریم نواز، شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر مسلم لیگ قیادت کو اپنا سیاسی دشمن نہیں سمجھتی۔ عمران خان کے خیال میں انھیں مریم نواز سے کوئی خطرہ نہیں ۔ وہ ان سے اقتدار نہیں چھین سکتیں کیونکہ وہ اسوقت پارلیمنٹ سے باہر ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے یہ درست ہے کہ شہباز شریف کی ضمانت کے احکامات میں ہر دفعہ عدالت نے ان پر لگنے والے الزامات کے جھوٹا ہونے کی بات کی ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ان فیصلوں اور عدالت کے ریمارکس کے بعد بھی ان کی مشکلات کم نہیں ہوئیں بلکہ جیسے جیسے عدالت سے انھیں ریلیف ملتا ہے ویسے ویسے ان پر نئی طاقت اور تیاری سے حملہ ہوتا ہے۔ دوسری جانب تمام تر تحقیق کے باوجود ابھی تک حکومت کو شہباز شریف کے خلاف کوئی ایسا تگڑا کیس نہیں ملا جس پر اسے بھی یقین ہو کہ اب کام ہو جائے گا۔ آجکل ان کی جیل سے ایک مرتبہ پھر رہائی کے بعد حکومت کی جانب سے ایک ماحول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ شہباز شریف کا سیاسی مستقبل مخدوش ہے اور ہو سکتا ہے کہ انہیں ایف آئی کی جانب سے درج کردہ منی لانڈرنگ کیس میں سزا دلوا دی جائے۔
لیکن کپتان اینڈ کمپنی کی نئی سازش کے حوالے سے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شائد ایسا ممکن نہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ابھی پاکستان میں ایسے سیاسی حالات نہیں ہیں کہ شہباز شریف کو نا اہل قرار دیا جا سکے۔ نا اہل قرار دلانے کے لیے جن محرکات کی ضرورت ہے وہ ابھی نظر نہیں آرہے ہیں۔ کسی کو نااہل کروانے کے لیے حکومت کو جس قوت کی ضرورت ہوتی ہے وہ ابھی عمران خان کے پاس نظر نہیں آرہی۔ نیب نے پہلے شہباز شریف پر پاکستان میں پیسے لانے کا کیس بنانے کی کوشش کی ہے۔ ٹی ٹی کو ایک بہت بڑا جرم بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی حالانکہ پاکستان کے قوانین میں ان کی گنجائش موجود رہی ہے۔ قانونی ماہرین کے نزدیک اگر لوگوں نے ٹی ٹی پر سزائیں دی جائیں گی تو پاکستان کے تمام بڑے کاروباری افراد بھی پھنسانے جائیں گے۔ ایسا کرنے سے پاکستان کی کاروباری برادری میں ایک بار پھر خوف کی لہر دوڑ جائے گی۔ اگرچہ حکومت اعلان کرچکی ہے کہ نیب کسی کاروباری فرد کو ہاتھ نہیں لگائے گی تاہم شہباز شریف کے کاروبار کے لیے یہ رعایت نہیں ہے۔ ان کے کاروبار کو نیب نے مسلسل نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ یہ اور بات کہ ابھی تک ان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس بھی ثابت نہیں ہو سکا ہے۔
تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ نااہلی کے لیے صرف حکومت کی خواہش کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے ریاستی اداروں کی حمایت لینا بھی ناگزیر ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ماضی میں نواز شریف کی نا اہلی کے لیے اسٹیبلشمنٹ کو کس قدر محنت کرنا پڑی تھی۔ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنائی، بعد میں اس جے آئی ٹی کی رپورٹ کو نیب کو دینے کیلیے سپریم کورٹ نے حکم دیا۔ اس پر ریفرنس بنانے کے لیے بھی نیب کو خصوصی ہدایت جاری کی گئی۔ لیکن یہ سب بھی کافی نہیں تھا۔ اس کے بعد اس کیس کا مانیٹرنگ جج بھی لگایا گیا۔ اس جج نے احتساب عدالت کو چھٹی والے دن بھی کیس سننے کا حکم دیا۔ لیکن پھر بھی فیصلے میں کئی سقم رہ گئے اور اس کے خلاف اپیلیں آج بھی زیر سماعت ہیں جن میں نواز شریف کے بری ہونے کے امکانات آج بھی موجود ہیں۔ چنانچہ کپتان کی جانب سے شہباز کی نا اہلی کی خواہش پوری ہونا کوئی اتنا آسان نہیں لگتا۔

Close