پاکستانیوں! چاند پر زمین سے بھی سستے پلاٹ خریدو

اس وقت اگر پاکستان کا کوئی شہری 20 ہزار روپے ایکڑ کے حساب سے سستی ترین زمین حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے تو اسکے لیے بریکنگ نیوز یہ ہے کہ چاند پر واقع کوڑیوں کے بھاو بکنے والی یہ زمین اسکے انتظار میں یے۔
جب پہلی بار زمین سے نکل کر انسان نے چاند پر قدم رکھا تو زمین کے باسیوں کے لیے یہ ایک ناقابلِ یقین کارنامہ تھا۔ لیکن اب لگ بھگ پچاس برس بعد کم از کم دو پاکستانی شہری چاند پر زمین خرید چکے ہیں۔ لاہور کے ازرام علی نے مہتاب پر پانچ ایکڑ زمین گذشتہ برس خریدی تھی۔ حال ہی میں انھیں ملکیت کے کاغذات موصول ہوئے ہیں جس میں پلاٹ کی رجسٹری، اس کی سیٹلائٹ تصویر اور مخصوص جگہ کے بارے میں معلومات دی جاتی ہے۔
اس سے قبل راولپنڈی کے رہائشی صہیب احمد چاند کے اسی علاقے میں ایک ایکڑ خرید کر اپنی اہلیہ کو تحفے میں دے چکے تھے۔ انہوں نے یہ زمین 130 ڈالر فی ایکڑ کے حساب سے خریدی ہے جو کہ پاکستانی روپوں میں تقریبا بیس ہزار بنتے ہیں۔ پاکستان بھر میں اس وقت بیس ہزار روپے مرلہ کے حساب سے بھی کہیں زمین دستیاب نہیں جب کہ چاند پر ایک ایکڑ بیس ہزار میں مل رہا ہے۔
اب تک جن دو پاکستانی شہریوں نے چاند پر زمین خریدی ہے وہ چاند کے علاقے ‘سی آف ویپرز’ میں واقع ہے۔ اس علاقے میں فی ایکڑ قیمت سب سے کم ہے لیکن بیچنے والوں کے مطابق ‘یہاں کی لوکیشن پرائم اور نظارے حیرت انگیز ہیں۔’ چاند کے زمین سے نظر آنے والے حصے کے تقریباً وسط کی طرف واقع لگ بھگ 40 کلومیٹر چوڑا گڑھا جسے کریٹر مینیلیئس کہتے ہیں ان کی جائیداد کے قریب ہے۔ سی آف ویپرز نامی جس علاقے میں ازرم علی اور صہیب احمد کی جائیدادیں واقع ہے وہاں سے 600 کلومیٹر جنوب مغرب کی طرف وہ مقام ہے جہاں سنہ 1969 میں پہلی مرتبہ انسان نے چاند پر قدم رکھا تھا۔ ان کے پلاٹس کے قریب ایک جھیل ‘ڈولورس’ اور پہاڑی سلسلہ ‘ہیمس’ بھی ہے، یعنی یہ بظاہر کسی ’پرائم لوکیشن‘ سے کم نہیں۔
ان دونوں جوڑوں کو جائیداد کے کاغذات کے ساتھ اپنی زمین کی تصاویر بھی بھیجی گئی ہیں۔ یہ سیٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر ہیں جن میں ان کے پلاٹ کافی واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔
ان کی زمین کی نشاندہی تصویر پر لکیریں لگا کر کی گئی ہے تاہم انھیں اس کا محلِ وقوع کاغذات کے اندر واضح طور پر بتا دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ان کے پلاٹ کا مخصوص نمبر بھی ان کے پاس موجود ہے۔
زمین بیچنے والے امریکی ادارے لونا سوسائٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی خریداروں کو بتایا تھا کہ ‘اسطرح انھیں اپنی زمین تلاش کرنے یا دیکھنے میں آسانی ہو گی چاہے وہ دوربین کے ذریعے اس کا نظارہ کریں یا پھر خود جا کر دیکھنا چاہیں۔’ عام حالات میں تو اکثر لوگ پلاٹ خریدنے سے پہلے اس کا دیدار کرنا پسند کرتے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ ازرام علی اور صہیب احمد چاند پر اپنی جائیداد دیکھنے اور اس کی ملکیت حاصل کرنے کے لیے کب چاند پر قدم رکھ پائیں گے؟
یاد رہے کہ آخری مرتبہ انسان نے چاند پر قدم سنہ 1972 میں رکھا تھا جب امریکی خلا باز اپولو 17 نامی ایک مہم کے ذریعے وہاں پہنچے تھے۔ وہ ان 12 انسانوں میں شامل ہیں جو اب تک چاند کی سطح پر اتر چکے ہیں۔
اس کے بعد سے آج تک کوئی انسان واپس چاند پر نہیں جا پایا تاہم مستقبل میں کئی مہمات متوقع ہیں۔ اس کی کئی وجوہات میں سے ایک یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ انسانوں کو چاند پر لے کر جانے والے خلائی مشن پر آنے والا خرچ اس قدر زیادہ ہے کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک کی حکومتیں بھی اس کے لیے حامی بھرنے سے ہچکچاتی ہیں۔
تاہم چاند پر زمین کے مالک دونوں پاکستانی شہری پُرامید ہیں۔ راولپنڈی کے صہیب احمد سے زیادہ ان کی اہلیہ چاند پر جانے کی خواہش رکھتی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ‘ہم کوشش بھی کر رہے ہیں کہ نجی طور پر خلا میں جانے والے کسی پروگرام کا حصہ بن جائیں تا کہ ہم بھی چاند ہر جا سکیں۔’ دوسری جانب لاہور کے بیرسٹر ازرام علی سمجھتے ہیں کہ ‘ناممکن تو کچھ بھی نہیں۔ ہو سکتا ہے کبھی موقع مل جائے۔ اگر ضرورت پڑی تو پانچ میں سے چار ایکڑ بیچ بھی دوں گا تا کہ خلائی سفر کے اخراجات اٹھا سکوں۔’ لیکن ازرام علی نے اپنے چار ایکڑ جس قیمت پر بیچنے کے ارادے کا اظہار کیا وہ لاکھوں ڈالرز ہی میں ہے۔
صہیب کو بھی امید ہے کہ مستقبل میں ان کے پلاٹ کی قیمت کئی سو گنا بڑھ جائے گی اور انکی خرید و فروخت اسی طرز پر ہو گی جس پر کرپٹو کرنسی کا کاروبار ہو رہا ہے۔ انکا۔کہنا ہے کہ کرپٹو میں بھی پیسے کا وجود نہیں ہوتا۔ آپ اسے چھو نہیں سکتے۔ یہ سب ڈیجیٹل ہے۔ اسی طرح چاند پر پلاٹ بھی صرف نمبروں کی مدد سے خریدے جائیں گے اور پھر آگے مہنگے داموں بیچ دیے جائیں گے۔ اسی طرح اس کے حصص میں اُتار اور چڑھاؤ ہو گا۔‘ اگر ایسا ہوتا ہے تو ازرام اور صہیب کو امید ہے کہ انکی جائیداد کی مالیت کہیں سے کہیں پہنچ سکتی ہے۔ تاہم چاند پر پلاٹ فروخت کرنے والے امریکی ادارے لونا سوسائٹی انٹرنیشنل کے مطابق پلاٹوں کی فروخت سے جمع ہونے والی رقم سے وہ ‘انسان کو واپس چاند پر لے جانے کے مشن کو تکمیل کر پہنچانا چاہتے ہیں۔‘ ان کے منصوبے کے مطابق مختلف مراحل میں انسان کو چاند پر اتارنے کے بعد وہاں تعمیرات کی جائیں گی۔ ان میں تحقیقاتی مراکز کے علاوہ سیاحوں کے لیے رہائش کا بندوبست بھی شامل ہے۔ اسکے علاوہ چاند کی آب و ہوا میں پائی جانے والی ہیلیئم گیس کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا جائے اور اس کی سطح سے نکلنے والی معدنیات سے اینٹیں تیار کی جائیں گی جن کی مدد سے یہ تعمیرات ممکن ہو پائیں گی۔‘
ان کا مقصد یہ ہے کہ نا صرف سائنسدانوں کے لیے چاند پر مستقل تحقیقاتی مہمات کا بندوبست ہو پائے بلکہ آہستہ آہستہ انسان کو بھی چاند پر آباد کیا جائے چاہے اس کی ابتدا چھوٹی سی سیاحوں کی آبادی ہی سے کیوں نہ ہو۔ لونا سوسائٹی انٹرنیشنل کو لگتا ہے کہ جلد وہ اتنے پیسے جمع کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ ان کی مدد سے وہ انسان کو چاند پر لے جانے والی نجی کمپنیوں کو فنڈ فراہم کر پائیں گے۔ تاہم انھوں نے ازرام اور صہیب کو واضح طور پر بتا رکھا ہے کہ جب وہ وقت آئے گا تو ‘اس خلائی سفر کا خرچ انھیں خود برداشت کرنا ہو گا۔’

Close