پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھوانے کے بھارتی اعتراف پر تشویش

بھارت کی جانب سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یا ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل رکھوانے کی کوششوں کے اعتراف کے بعد پاکستانی سیاست دانوں نے عالمی مالیاتی ادارے کے کردار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تحریک انصاف سمیت حزب اختلاف کے سیاستدانوں نے بھی فیٹف کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے اس سے بھارتی اعتراف سے متعلق وضاحت جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

یاد رہے کہ بھارت کے وزیر برائے امور خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی ‘گرے لسٹ’ میں شامل رہے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’ہم پاکستان پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب رہے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے طرز عمل میں تبدیلی آئی ہے جس کی وجہ بھارت کی جانب سے مختلف اقدامات کے ذریعے دباؤ ڈالنا ہے‘۔ بھارتی وزیر نے اجلاس کے دوران لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی کالعدم تنظیموں پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کا سہرا بھی اپنے سر لیا۔ ایس جے شنکر کے اعتراف کے بعد اگرچہ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی مذمتی بیان جاری کیا تھا، تاہم اب مختلف وزرا اور سیاست دانوں نے بھی اس معاملے پر بات کی ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ پاکستان نے ہمیشہ کہا کہ فیٹف میں بھارت سیاست کر رہا ہے اور اب بھارت کے حالیہ بیان نے اس کو واضح اور سچ ثابت کردیا۔ وزیر خارجہ نے مزید لکھا کہ اہم تکنیکی پلیٹ فارم میں پاکستان کے لیے جوڑ توڑ یقینی طور پر حیران کن ہے مگر مودی سرکار کے لیے یہ باعث حیرت نہیں۔ وزیر توانائی حماد اظہر نے بھی ٹوئٹ میں لکھا کہ بھارت کے وزیر برائے امور خارجہ کا بیان تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان جو کچھ بھی کہہ رہا تھا وہ درست تھا اور انڈیا فیٹف کے پلیٹ فارم سے سیاست کرکے اس کی روح کو متاثر کر رہا ہے۔

انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے بھی اس معاملے پر ٹوئٹ کی اور بھارتی وزیر کے اعترافی بیان کی خبر کا لنک بھی شیئر کیا۔ مزاری نے لکھا کہ پاکستان مخالف پالیسیوں کی وجہ سے مودی سرکار پریشانی کا شکار ہے اور یہ کہ جموں و کشمیر سمیت افغانستان میں بھارتی مداخلت سمیت کورونا کی وبا پر قابو نہ پانے اور عالمی وبا پر پاکستان کے قابو پانی کی تعریفوں کی وجہ سے انڈین حکومت حواس باختہ ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ پریشانی کا شکار مودی سرکار اب فیٹف جیسے اداروں کی ساکھ کو متاثر کرنے میں مصروف ہے جو کہ تکنیکی طور پر سیاسی حوالے سے کام کرتا ہے۔ شیریں مزاری نے مزید لکھا کہ یادیو نیٹ ورک کے ساتھ پڑوس میں دہشت گردوں کی معاونت کرنے والی مودی سرکار اب بے نقاب ہو چکی ہے۔

وفاقی وزیر علی حیدر زیدی نے بھی بھارتی وزیر کے بیان کی اعترافی خبر کا لنک شیئر کرتے ہوئے ٹوئٹ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اب بھارت اینٹی منی لانڈرنگ کے عالمی فورم پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے؟ قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے بھی اس معاملے پر ٹوئٹ کی اور لکھا کہ بھارتی وزیر نے اعتراف کیا ہے کہ بھارت نے فیٹف میں اس بات کی کوشش کی کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ میں برقرار رہے اور یہ اعتراف عالمی ادارے کے تشخص پر سوال اٹھاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فیٹف کو واضح کرنا ہوگا کہ وہ دوسروں کے کہنے پر پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو رہا ہے۔ پاکستانی سیاست دانوں سے قبل وزارت خارجہ نے بھی اس معاملے پر ٹوئٹ کی تھی اور کہا تھا کہ بھارت کے وزیر خارجہ کے بیان نے بھارت کے ’حقیقی رنگ‘ اور ’گمراہ کن‘ کردار کو بے نقاب کردیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان جون 2018 سے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجود ہے۔ حال ہی میں گزشتہ ماہ 25 جون کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کا نام بدستور گرے لسٹ میں رہے گا تاہم ملک نے 27 میں سے 26 نکات پر بہتری دکھائی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکوس پلیئر نے اجلاس کے بعد لائیو پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اجلاس میں کئی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بدستور نگرانی میں رہے گا، پاکستانی حکومت نے انسداد دہشت گردی فنانسگ نظام کو مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے بہتر کام کیا ہے۔ صدر ایف اے ٹی ایف نے کہا تھا کہ پاکستان نے 27 میں سے 26 نکات پر کام کیا ہے تاہم ایک پوائنٹ پر کام کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فنانشل ٹیرارزم کے منصوبے پر کارروائی کی ضرورت ہے، جس میں اقوام متحدہ کی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل رہنماؤں اور کمانڈرز کے خلاف تفتیش اور سزائیں دلانا شامل ہے۔

Close