عارف نقوی پر دو کتابوں میں تصویر کے دونوں رخ

ابراج گروپ اور اس کے بانی پاکستانی بزنس مین عارف نقوی کے حوالے سے حال ہی میں شائع ہونے والی دو کتابوں میں تصویر کے دونوں رخ سامنے آ گے ہیں۔ جہاں ایک طرف امریکی میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی پاکستانی کی شہریت برقرار رکھنے والے عارف نقوی کو مکار اور نوسر باز قرار دیتے ہیں وہیں پاکستانی میڈیا انہیں دھرتی کا بیٹا قرار دے رہا ہے۔
پاکستان کے موقر انگریزی روزنامہ ڈان کے صفحہ اول پر 21 جولائی کے روز شائع ہونے والی ایک تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی میڈیا مسلسل عارف نقوی کو ایک ولن کے طور پر پیش کرتا نظر آتا ہے حالانکہ ان پر لگائے گئے الزامات ابھی عدالت میں ہیں اور انہیں ثابت کرنا ابھی باقی ہے۔ دوسری جانب پاکستانی میڈیا میں ابراج گروپ کے حوالے سے یہ موقف سامنے آرہا ہے کہ عارف نقوی کا سب سے بڑا قصور ان کا پاکستانی شہری ہونا ہے اور اسی وجہ سے آج وہ امریکی عتاب کا شکار ہیں۔
ابراج گروپ اور عارف نقوی کے حوالے سے ڈان اخبار میں شائع ہونے والی تفصیلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابراج سکینڈل کی خبر بریک کرنے والے وال سٹریٹ جرنل کے دو امریکی صحافیوں سائمن کلارک اور ول لووف نے اب اس معاملے پر ایک کتاب The Key بھی شائع کر دی ہے جس میں ٹھوس حقائق پیش کرنے کی بجائے عارف نقوی کی کردار کشی کی گئی ہے اور جابجا انہیں جھوٹا، مکار، دغا باز اور بے سروپا دعوے کرنے والا شخص قرار دیا ہے۔ امریکی مصنفین نے الزام لگایا ہے کہ عارف نقوی نے لالچ اور حرص کا شکار ہو کر کمال ہوشیاری سے ابراج گروپ اور سرمایہ کاروں کا پیسہ ایک عالمی سازش کے لئے غلط طریقے سے استعمال کیا۔ وال سٹریٹ جرنل کے صحافیوں کا الزام ہے کہ عارف نقوی نے اسپتالوں کے قیام کے لیے جمع شدہ رقم کا غلط استعمال کرکے انتہائی بری مثال قائم کی۔ خیال رہے کہ ابراج گروپ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں تب تک سب سے بڑی پرائیویٹ ایکویٹی فرم کہلاتی تھی جب تک انویسٹرز کی جانب سے ہیلتھ کیئر سے متعلق ایک ارب ڈالر کے استعمال سے متعلق اعتراضات سامنے نہیں آئے تھے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دوسری جانب ایک معروف برطانوی مصنف پروفیسر برائن بریواٹی نے اپنی تازہ تصنیف میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور یورپی ممالک کی بعض کمپنیوں کے ایما پر وال سٹریٹ جرنل اور یورپی میڈیا کی مدد سے ابراج گروپ اور عارف نقوی کا میڈیا ٹرائل کیا جس کے نتیجے میں دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کی ایک بڑی ایکویٹی فرم زوال پزیر ہوگئی اور اپریل 2019 میں عارف نقوی کو برطانیہ میں گرفتار کر لیا گیا۔ اب وہ لندن میں قید ہیں اور امریکہ ان کی حوالگی کا مطالبہ کررہا ہے تاکہ نیویارک کی عدالت میں دھوکہ دہی اور ریکٹ بنانے کے الزامات کے تحت انکا ٹرائل کیا جائے۔
دوسری جانب عارف نقوی خود پر لگے تمام الزامات کو بے سروپا قرار دے کر ان کی تردید کر چکے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ انہوں نے ایکوٹی سےفنڈز کو ٹرانسفر کر کے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔ برطانوی پروفیسر بریواٹی نے بھی اپنی تحقیقی کتاب The Life And Death Of Abraaj Group میں یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ابراج گروپ کے مالیاتی لین دین میں برطانیہ کی صف اول کی قانونی فرموں کی مشاورت شامل تھی لہذا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ یہ گروپ فنڈز کے غلط استعمال یا دھوکہ دہی کا مرتکب قرار پائے۔ بریواٹی نے عارف نقوی کو یونانی دیو مالائی کردار آئیکارس سے تشبیہ دی ہے جو پرواز کرتے کرتے سورج تک پہنچ گیا جہاں اس کے پر پگھل گئے اور یوں اسکی زندگی کا سورج بھی غروب ہوگیا۔ پروفیسر بریواٹی کا ماننا ہے کہ بلند عزائم رکھنے والے عارف نقوی نے بھی بہت اونچی پرواز لیکن آئیکارس کی طرح یہ نہ جان سکے کہ اتنا بڑا رسک لینے کے کیا مضمرات ہوسکتے ہیں اور مغربی حکمران اور سرمایہ کار انہیں زمین پر گرانے کے لیے کتنی گہری سازش کے تانے بانے بن رہے ہیں۔
ڈان اخبار نے پروفیسر بریویٹی کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ عارف نقوی نے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سرمایہ کاری کا جو رسک لیا، وہی ان کی غلطی قرار پایا حالانکہ اگر کوئی سفید فام امریکی یا یورپی باشندہ ایسا کرتا تو سب اسے معاشی جادوگر اور انسانیت دوست سرمایہ کار کا خطاب دیتے۔ لیکن چونکہ عارف نقوی کیونکہ پاکستانی تھا اس لئے وہ قصور وار قرار پایا۔
پروفیسر بریواٹی کے بقول عارف نقوی کے خلاف کی گئی سازش کا بڑا مقصد ابراج گروپ کی ملکیتی کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی یعنی کے الیکٹرک کی چینی کمپنی شنگھائی الیکٹرک کو فروخت کی کوشش ناکام بنانا تھا۔ یاد رہے کہ ابراج گروپ کے الیکٹرک کے 66 فیصد شیئرز کا مالک تھا۔ تاہم مبینہ امریکی دباؤ کی وجہ سے عارف نقوی کی کی ابراج گروپ کے شئیرز چینی کمپنی کو فروخت کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔
پروفیسر برائن بریواٹی کی کتاب The Life and Death Of Abraaj Groop لندن میں بائیٹ بیک پبلشنگ نے شائع کی ہے جبکہ پاکستان میں اسے وین گارڈ پبلشرز نے شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں تحقیق اور انٹرویوز کی بنیاد پر مغربی میڈیا کے ابراج گروپ پر الزامات کا جواب دیا گیا ہے۔ پروفیسر بریواٹی کے مطابق ابراج گروپ کی کہانی ایک جیو پولٹیکل کہانی ہے جس میں کئی عالمی طاقتوں نے گھناؤنا کردار ادا کیا ۔
لکھاری نے برطانیہ کی جانب سے امریکہ کے حوالے کئے جانے کے خلاف اپنی عدالتی اپیل کے فیصلے کے انتظار میں گھریلو نظر بندی کی سزا کاٹنے والے عارف نقوی کے ساتھ ہونے والے موجودہ سلوک کے اسباب کے پس منظر پر روشنی ڈالی ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں نقوی کے بارے میں ان حقائق کی نقاب کشائی کی ہے جن کی مغربی میڈیا اب تک پردہ پوشی کرتے ہوئے انہیں فراڈیہ اور لٹیرا ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
برطانوی مصنف نے بتایا ہے کہ اپریل 2019 میں نقوی کا ابراج گروپ دیوالیہ ہوگیا تھا اور اس پر چوری، سازش اور دیگر الزامات عائد کردیئے گئے تھے۔ وہ دن اور آج کا دن میڈیا عارف نقوی کے بارے میں امریکیوں کی بتائی ہوئی ایک ہی سٹوری پر اڑا ہوا ہے۔ پروفیسر بریویٹی نے اپنی کتاب میں شواہد کی بنیاد پر پوری کہانی بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ نقوی اور ابراج گروپ کے زوال میں عالمی سیاست کا کتنا بڑا ہاتھ ہے۔ بریواٹی کے بقول امریکی انتظامیہ نے جرمنی پر دباؤ ڈال کر انہیں ابراج گروپ سے دور رہنے کی تنبیہہ کی۔ امریکہ نے ہی پاکستان، کویت اور متحدہ عرب امارات کی انتظامیہ کو بھی ابراج گروپ کے خلاف استعمال کیا۔ کے الیکٹرک کی فروخت کے معاملے میں افسر شاہی کے ذریعے ابراج کی ڈیل کو مکمل ہونے سے روکا۔ ان سب معاملات کے پیچھے امریکہ اور یورپی ممالک کی یہی سوچ کارفرما تھی کہ ابراج گروپ کی سرگرمیوں سے چین اور روس کو مالی فوائد ہرگز نہیں ملنے چاہئیں۔ لہذا امریکی مصنفین کی آراء کے برعکس پروفیسر برائن بریواٹی عارف نقوی کو مظلوم مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کا واحد قصور ایک پاکستانی ہونا ہے۔

Close