براڈ پیک پر لاپتا جنوبی کورین کوہ پیما کے زندہ بچنے کی امیدیں ختم

ہاتھوں کی انگلیوں سےمحروم جنوبی کوریا کے 57 سالہ کوہ پیما کم ہونگ بن 8 ہزار 47 میٹر بلند چوٹی براڈ پیک سر کرتے ہوئے لاپتا ہوگئے تھے اور اب ان کے زندہ بچنے کی امیدیں معدوم ہوگئی ہیں۔
ذرائع نے تصدیق کی کہ جنوبی کوریا کے کوہ پیما سیفٹی روپ سے جدا ہونے کے بعد چین کی طرف واقع پہاڑوں میں گر گئے تھے۔‘انگلیوں سے محروم جنونی’ کے نام سے مشہور جنوبی کوریا کے کوہ پیما 8 ہزار میٹر سے زائد بلند 14 چوٹیوں کو سرکرنے کی خواہش رکھنے والا پہلا معذور کوہ پیما تھا جو انگلیوں سے محروم تھا۔
کم ہونگ بن 2021 میں انٹرنیشنل براڈ پیک سر کرنے والی 14 رکنی ٹیم کا حصہ تھا، جس میں جنوبی کوریا، امریکا، بیلجئیم اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما شامل تھے۔دنیا میں 8 ہزار میٹر سے بلند 14 چوٹیاں ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع ہیں جو نیپال، پاکستان اور چین تک پھیلا ہوا ہے۔کم ہونگ بن کی ٹیم کے انتظامات کرنے والے مقامی ٹور آپریٹر بلیو اسکائی ایکسپیڈیشنز کے سربراہ حاجی غلام احمد نے بتایا کہ انہیں امید تھی کہ کوریائی کوہ پیما زندہ بچ جائیں گے۔
حاجی غلام احمد نے کہا کہ ‘تلاش کرنے کے لیے ابتدائی طور پر تشکیل دی جانے والی ٹیم نے انہیں چین کی طرف دیکھا تھا، مجھے امید ہے وہ مل جائے گا’۔
کوریا کے میڈیا کے مطابق کم ہونگ بن نے سٹیلائٹ فون کا استعمال کرتے ہوئے گھر والوں کو فون کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ رات کا وقت ہے اور میں نے پوری رات پریشانی میں گزاری ہے اور یہاں سخت سردی ہے۔رابطہ کار افسر نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 18 جولائی کو رات 8 بجے روس سے تعلق رکھنے والی خاتون کوہ پیما اناستاسیا رونووا براڈ پیک سے گری تھی اور ان کی لاش رسی سے لٹکی ہوئی تھی اور 15 سے زائد کوہ پیماؤں کو رکاؤٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
رپورٹ کے مطابق امدادی کام کیمپ تھری پر جاری رہا تھا اور 19 جولائی کو سہ پہر پونے تین بجے روسی خاتون کوہ پیما کو وہاں سے نکال لیا گیا اور انہیں کیمپ تھری منتقل کیا جارہا تھا اور اسی دوران کم کو پریشانی ہوئی ہوگی اور ایک اور امدادی کوشش کی گئی۔کم ہونگ بن کی تلاش برطانیہ سے تعلق رکھنے والے دو کوہ پیما پیٹر برٹلیٹن اور پال ایتھرریڈج، دو روسی کوہ پیما اینٹن پوگوفکن اور ویٹالے لیزو اور تین مقامی پوٹرز محمد حسین، محمد یوسف اور امتیاز سدپارہ نے شروع کردی ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ کوریائی کوہ پیما رسی پر اٹک گئے تھے اور حرکت نہیں کر پارہے تھے لیکن حواس بحال تھے اور جواب بھی دے رہے تھے۔الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری کرار حیدری کا کہنا تھا کہ کوریا کے سفارت کار بھی اسکردو جا رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں تلاش کا کام شروع کردیا جائے گا اور مقامی پورٹرز کو پہاڑوں میں بھیج دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کم دوستانہ مزاج اور پرعزم انسان تھے اور انہیں بلند حوصلے کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا، وہ پاکستان کئی مرتبہ آچکے تھے مگر اپنے ملک سے پیار کرتے ہیں اور اس فتح کو یہاں اور اپنے ملک کوریا میں منانا چاہتے تھے۔

Close