سابق سفیر کی بیٹی کا قتل؛ ملزم کا دو روزہ جسمانی ریمانڈمنظور

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے سیکٹر ایف سیون فور میں ایک سابق سفیر کی بیٹی کا گلا کاٹ کر قتل کرنے کے کیس میں نامزد ملزم کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
بدھ کے روز پولیس نے ملزم ظاہر جعفر کو اسلام آباد کے ڈیوٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا اور چھ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استددعا کی۔
تاہم عدالت نے ملزم کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔گذشتہ روز تھانہ کوہسار کے علاقے ایف سیون فور میں پاکستان کے سابق سفیر شوکت مقدم کی 28 سالہ بیٹی نور مقدم کو تیز دھار آلے سے گلا کاٹ کر قتل کیا گیا تھا۔
دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے شوکت مقدم سے فون پر رابطہ کیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق شاہ محمود قریشی نے شوکت مقدم کی بیٹی کے بیہمانہ قتل پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔کوہسار پولیس کے مطابق گزشتہ روز واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ کر ایک لڑکے کو گرفتار کیا تھا۔پولیس کے مطابق قتل کی اطلاع ایک سکیورٹی گارڈ نے دی تھی۔
پولیس نے منگل کی رات کو لڑکی کے والد شوکت مقدم کی مدعیت میں ظاہرجعفر نامی ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کر لیا تھا۔ایف آئی آر کے مطابق شوکت مقدم نے کہا کہ ’جولائی 19کو نور مقدم میری اور اہلیہ کی غیر موجودگی میں گھر سے نکلی۔ بیٹی کو فون ملایا تو نمبر بند تھا بعد ازاں نورکے دوستوں سے رابطہ کیا۔ کچھ دیر بعد نور کا ٹیلی فون آیا کہ دوستوں کے ساتھ لاہور جا رہی ہوں۔ نور نے ایک دو دن میں واپس آنے کا کہا۔‘شوکت مقدم نے مزید لکھا کہ ’منگل دوپہر کو ظاہر جعفر جو معروف بزنس مین ذاکر جعفر کا بیٹا ہے، اس کا فون آیا کہ نور اس کے ساتھ نہیں ہے۔ ذاکر جعفر کی فیملی کے ساتھ ہماری جان پہچان ہے۔‘
’رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے۔ پولیس سٹیشن پہنچا تو وہ ایف سیون فور میں واقع گھر پر مجھے لے گئے، وہاں جا کر دیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا۔‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’تیز دھار آلے سے سر کاٹ کر جسم سے الگ کر دیا گیا تھا، بیٹی کی لاش کو شناخت کیا۔‘نور مقدم کے بیہمانہ قتل پر سوشل میڈیا صارفین بھی اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس وقت جسٹس فار نور پاکستان میں ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ ہے۔نور مقدم کے قتل کے حوالے سے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے ٹوئٹر پر لکھا ’یہ ایک خوفناک یاد دہانی کہ خواتین کو تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ انھیں کسی سزا کے ڈر کے بغیر قتل بھی کیا جاتا رہا ہے اور کیا جا رہا ہے۔ اب یہ ختم ہونا چاہیے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے اور جن ملزمان کے پاس اثر و رسوخ اور طاقت ہے وہ بازیاب نہ ہو سکیں۔‘
’وزارتِ انسانی حقوق پولیس سے رابطے میں ہے اورہم نور کے خاندان کے ساتھ ہیں اور انھیں جو مدد بھی درکار ہو گی ہم فراہم کریں گے۔ ہم سوچ بھی نہیں سکتے جس کرب اور درد سے یہ خاندان گزر رہا ہے۔‘
سعد نامی صارف نے لکھا کہ ’ ہمارا معاشرہ اتنا گل سڑھ گیا ہے کہ عورت پر صرف اس وقت یقین کرتے ہیں جب ان کی لاش ہو۔ اور وہ جو کہتے ہیں کہ خواتین شہری علاقوں میں زہریلی مردانگی کا شکار نہیں ہوتے تو انہیں دوبارہ سوچنا چاہیے۔ ان کا گلا بریک اپ کی وجہ سے کاٹا گیا۔ میرے پاس الفاظ نہیں۔ ‘
مقتول نور کی سکول فیلو ملک نور ماہ نے لکھا کہ ’سکول میں جن لوگوں سے میری ملاقات ہوئی ان میں سے نور سب سے خوبصورت، نرم دل اور نرم طبیعت کے مالک تھیں۔ اللہ ان کی معفرت فرمائیں۔‘

Close