آپ ملالہ یوسفزئی کے ساتھ ہیں یا انتہا پسندوں کے؟

ملالہ یوسفزئی پاکستان میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف مزاحمت کی ایک علامت بن چکی ہیں لہذا ان کی مخالفت کرنے والوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ قتل و غارت کرنے والے انتہا پسندوں کے ساتھ ہیں یا امن کا نوبل انعام حاصل کر کے پاکستان کا نام روشن کرنے والی ملالہ کے ساتھ ہیں۔ معروف کالم نگار یاسر پیرزادہ اپنی تازہ تحریر میں ملالہ یوسفزئی کے مخالفین کو مخاطب ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ میری رائے میں ملالہ کوئی فلاسفر یا دانشور نہیں اور نہ ہی اُس نے کوئی ایسا نظریہ پیش کیا ہے جس کی وجہ سے اسے جینئس مان لیا جائے۔ ملالہ تو ایک استعارہ ہے انتہا پسندی کے خلاف۔ جس طرح ہماری پاک فوج میں میجر عزیز بھٹی شہید سے کہیں زیادہ قابل فوجی ہوں گے مگر عزیز بھٹی بہادری کا ایک سمبل بن گئے، بالکل اسی طرح پاکستان کی لاکھوں بچیاں ملالہ سے زیادہ ذہین اور نڈر ہوں گی مگر ملالہ انتہا پسندی کے خلاف ایک سمبل بن گئی۔ یاسر کہتے ہیں کہ مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی ملالہ کو ہیرو مانتا ہے یا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ آپ انتہا پسندوں کے ساتھ ہیں یا اُن کے مخالف ہیں؟
یاسر پیرزادہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی ایک کتاب پر ملالہ یوسفزئی کی تصویر کی وجہ سے پابندی لگائے جانے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس طرح بھارتی فلموں میں جب کوئی پاکستانی علاقہ دکھایا جاتا ہے تو یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ پاکستان میں ہر مرد کے سر پر ٹوپی ، چہرے پر داڑھی اور کندھے پر رومال ہوگا اور وہ بات بات پر ’’جناب‘‘ کہتا پھرے گا، اسی طرح ہماری درسی کتب میں بھی یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ پاکستانی عورت کے لیے شرافت کا معیار دوپٹہ ہے۔ عورت کے لئے شرافت کا یہ معیار پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے طے کیا ہے۔ یہ وہی ٹیکسٹ بک بورڈ ہے جس نے پچھلے دنوں پولیس کی معیت میں شہر کی مختلف دکانوں پر چھاپے مارے اور وہاں سے ساتویں جماعت کے لئے شائع شدہ وہ کتاب ضبط کر لی جس میں ملالہ یوسفزئی کی تصویر تھی۔ اِس حرکت پر تنقید کے بعد بورڈ نے ایک حکم نامہ دکھایا جس میں لکھا تھا کہ کتاب شائع کرنے والے غیر ملکی اشاعتی ادارے نے چونکہ اجازت نامہ یا این او سی نہیں لیا تھا اِس لئے قانون کے مطابق کتاب ضبط کر لی گئی۔
یاسر پیرزادہ کے مطابق یہاں تین سوال پیدا ہوتے ہیں ۔ پہلا، این او سی دینا بورڈ کا کام ہے، درجنوں کے حساب سے کتابیں بورڈ کی کمیٹیوں کے پاس جمع ہیں جن کا نہ این او سی جاری کیا جاتا ہے اور نہ انہیں کوئی جواب دیا جاتا ہے کہ آپ کی کتاب پر فلاں فلاں اعتراضات ہیں، نتیجتاً ناشران بغیر این او سی کے وہ کتب چھاپ دیتے ہیں۔ بورڈ اُس پر کوئی ایکشن نہیں لیتا کیونکہ اس میں اتنی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ ہر کتاب کو تین مرتبہ مختلف کمیٹیوں کی چھلنی سے گزارے اور اُس کے بعد مکمل پڑتال کرکے این او سی جاری کرے۔ اِس معاملے میں بھی اشاعتی ادارے کی این او سی کی درخواست بورڈ کے پاس 2019سے جمع تھی مگر بورڈ کے حکام دھنیا پی کر سوئے رہے اور اُس کے بعد یکایک جب کسی نے انہیں دو ہتڑ مار کر کہا کہ ملالہ کی تصویر والی کتابیں ضبط کرو تو انہوں نےحکم کی تعمیل کی ۔ یہی وجہ ہے کہ چھاپہ مار ٹیم کے اہلکاروں نے دکانوں پر جا کر کسی سے این او سی طلب نہیں کیا بلکہ سیدھا ملالہ کی تصویر والی کتاب مانگی اور بحق سرکار ضبط کرلی۔
یاسر کے مطابق دوسرا سوال یہ ہے کہ ایک لمحے کے لئے فرض کر لیں کہ اشاعتی ادارے نے این او سی نہیں لیا تو اِس کا یہ مطلب کیسے ہوا کہ یہ کتاب دکانوں سے ہی اٹھا لی جائے، آپ قانوناً اسکولوں کو خط لکھ سکتے تھے کہ یہ کتاب اجازت کے بغیر شائع ہوئی ہے اِس لئے بچوں کو نہ پڑھائی جائے۔ ٹیکسٹ بک بورڈ عام شہری کو کس قانون کی رُو سے یہ کتاب پڑھنے سے روک سکتا ہے؟بورڈ نے کس ضابطے کے تحت شہر کی تمام دکانوں سے اِس کتاب کی کاپیاں اٹھائیں ؟ تیسرا سوال یہ ہے کہ بورڈ کے پاس این او سی کی درخواست موجود ہے، کیا ایک ہفتے کے اندر اندر بورڈ اِس درخواست کو نمٹا کر بتا دے گا کہ اِس کتاب میں کون سا مواد ایسا ہے جو ناقابلِ اشاعت ہے جس کی وجہ سے این او سی جاری نہیں کیا گیا؟ یاسر پیرزادہ کے مطابق نہیں ایسا نہیں ہو گا۔ کیونکہ کتاب کی ضبطی کی وجہ این او سی نہیں بلکہ ملالہ کی تصویر ہے اور اگر اِس کتاب میں ملالہ کی تصویر نہ ہوتی تو کسی کے کا ن پر جوں بھی نہ رینگتی۔
یاسر پیرزادہ کے مطابق پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کا این او سی جاری کرنے کا طریقہ کار بھی نہایت پیچیدہ ہے، تین کمیٹیاں ہیں جو مختلف مراحل پر کتابوں کی پڑتال کرتی ہیں۔ اُن میں سے ایک متحدہ علما بورڈ بھی ہے جسکا کام درسی کتب میں صرف یہ دیکھنا ہے کہ آیا کوئی مواد دین کے خلاف تو نہیں۔ تاہم ایسے لوگوں کی کوئی کمیٹی موجود نہیں ہے جو اِس زاویے سے درسی کتب کی پڑتال کر سکے کہ اُن میں کون سا مواد انتہاپسندی کا سبب بن رہا ہے؟
یہاں ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے نصابی کتابوں کی پڑتال کے لیے بنائی گئی کمیٹی کی جہالت کی ایک مثال پیش کرنا بھی ضروری یے۔ حال ہی میں کمیتی اجلاس میں ایک پڑھے لکھے ممبر نے نیوٹن کو عورت سمجھ کر اصرار کیا کہ اُس کی تصویر کو دوپٹے میں دکھایا جائے۔ ایک دوسرے اجلاس میں متحدہ علما بورڈ نے کہا کہ بیالوجی کی کتابوں سے انسانی جسم اور اعضا کی تصاویر نکال دی جائیں۔ بیالوجی سے انسانی جسم کی تصاویر حذف کرنے والے اجلاس کی کارروائی ’’بک پبلشرز ایسوسی ایشن ‘‘کے صدر کے حوالے سے ایک موقر انگریزی روزنامے میں شائع ہوئی اور آج تک اِس خبر کی تردید کی زحمت کسی متعلقہ فرد یا ادارے نے نہیں کی۔

Close