خدیجہ پر حملے کا مجرم رہا، سول سوسائٹی نالاں

انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں نے قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی کو 23 مرتبہ چھرے کے وار سے شدید زخمی کرنے اور اسے قتل کرنے کی کوشش کرنے والے مجرم شاہ حسین کی ’جلد‘ رہائی سے نالاں ہوکر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مجرم کو دی جانے والی معافی کی وجوہات کی وضاحت کرے۔ انسانی حقوق کے ورکرز اور سول سوسائٹی کے ممبران نے سوشل میڈیا پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتا ہوئے ایک سفاک شخص کی سزا میں نرمی کے نتیجے میں اسکی رہائی کی مذمت کی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے ایک مشترکہ پٹیشن میں کہا گیا کہ ‘شاہ حسین نے خدیجہ صدیقی کو 23 بار چھرے سے وار کیا اور اپنی 5 سال سزا میں سے ساڑھے 3 سال سزا کاٹنے کے بعد جیل سے رہا ہوگیا، کیا پی ٹی آئی کی حکومت وضاحت کر سکتی ہے کہ اسے کیوں جلدی رہا کیا گیا جبکہ حکومت خدیجہ کی صدیقی کی رضامندی کے بغیر اس پر حملہ کرنے والے کی سزا کم بھی نہیں کرسکتی ہے اور نہ ہی وہ اچھے سلوک کی وجہ سے رہائی کا اہل تھا۔
انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کے کارکنان نے استدلال کیا کہ عمران خان کی حکومت شکایت کنندہ یا متاثرہ شخص کی رضا مندی کے بغیر اتنے سفاک مجرم کی سزا میں کمی نہیں کرسکتی۔
دوسری جانب مجرم شاہ حسین کے وکیل لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر مقصود بٹر نے بتایا کہ ان کے موکل کی رہائی میں حکومت کی طرف سے کسی قسم کی ناجائز حمایت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے قیدی کی طرح شاہ حسین بھی قانون اور جیلوں کے قواعد و ضوابط کے مطابق چھوٹ اور رعایت کے مستحق تھے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ جیل حکام کی جانب سے گنی گئی سزا کے مطابق شاہ حسین کو اگلے ماہ جیل سے باہر آنا تھا۔ انہوں نے 9 جولائی کو ایک رٹ پٹیشن میں لاہور ہائیکورٹ کے روبرو شاہ حسین کی سزا میں خصوصی معافی کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ وکیل نے کہا کہ کوئی بھی مجرم اپنی سزا کے تین سال پورے کرنے کے بعد خصوصی معافی کا حقدار ہوتا ہے۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ قانون کے مطابق سزا میں معافی، ایک مجرم اور محکمہ داخلہ کا آپسی معاملہ ہے اور حکومت مجرم کو معافی کا فائدہ دینے سے پہلے شکایت کنندہ یا متاثرہ شخص سے رضامندی لینے کی پابند نہیں ہے۔
دوسری جانب خدیجہ صدیقی کی ایک ساتھی نے بتایا کہ نہ تو جیل حکام نے خدیجہ کو شدید زخمی کرنے والے مجرم کو معافی دینے سے پہلے شکایت کنندہ سے رابطہ کیا اور نہ ہی انہیں ہائی کورٹ کی جانب سے کوئی نوٹس موصول ہوا۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ شاہ حسین کو جولائی 2022 میں رہا کیا جانا تھا۔ ایک عدالتی مجسٹریٹ نے 2017 میں پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 324 کے تحت شاہ حسین کو اپنی ایک کلاس فیلو خدیجہ صدیقی کو قتل کرنے کی کوشش کرنے پر 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
بعدازاں سیشن عدالت نے اس کی سزا میں دو سال کی کمی کردی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ نے 4 جون 2018 کو شاہ حسین کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا تھا۔
عدالت نے مشاہدہ کیا تھا کہ استغاثہ اپنا مقدمہ قائم کرنے میں ناکام رہا ہے اور عدالتیں صرف زخمی گواہ / مقتول کے بیان پر انحصار نہیں کرسکتی ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ نے شاہ حسین کی سزا بحال کردی تھی۔ استغاثہ کے مطابق شاہ حسین نے 3 مئی 2016 کو شملہ پہاڑی لاہور کے قریب خدیجہ صدیقی پر حملہ کیا جہاں وہ اپنے خاندانی ڈرائیور کے ساتھ اپنی چھوٹی بہن کو اسکول سے لینے گئی تھیں۔ دونوں بہنیں اپنی کار میں بیٹھنے ہی والی تھیں کہ ہیلمٹ پہنے شاہ حسین نے خدیجہ صدیقی پر چاقو سے حملہ کیا اور اس پر 23 مرتبہ وار کیے جس سے وہ شدید زخمی ہوگئی تھیں۔ واضح رہے کہ خدیجہ صدیقی سٹی لا یونیورسٹی لندن میں بار ایٹ لا کی طالبہ تھی، جس پر مئی 2016ء میں شاہ حسین بخاری نامی لڑکے نے قتل کی نیٹ سے خنجر کے مسلسل 23 وار کیے تھے۔ ملزم شاہ حسین، ایڈووکیٹ تنویر ہاشمی کا بیٹا ہے جس کے خلاف اقدام قتل کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

Close