جنونی قاتل نے نور کو شادی سے انکار پر ذبح کیا

اسلام آباد پولیس نے نور مقدم قتل کیس کے مجرم ظاہر جعفر کی لڑکی پر تشدد کرنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے جس میں مقتولہ کو پہلی منزل سے چھلانگ لگا کر نیچے گرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ نور اوپر سے گرنے کے بعد دروازے کی کی طرف دوڑتی نظر آتی ہے۔ فوٹیج میں قاتل ظاہر جعفر کو نور کے پیچھے جاتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اسکے بعد اسے لڑکی کو گھسیٹ کر دوبارہ اوپر لے جا کر کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اسکے بعد قاتل نور کو ذبح کر دیتا ہے۔
پولیس نے اب تک اس واقعے کی جو تفصیلات حاصل کی ہیں ان کے مطابق 20 جولائی کو نور کا ظاہر سے اسکے اسلام آباد والے گھر میں جھگڑا ہوا۔ تب ظاہر کے والدین عید منانے کے لیے کراچی گئے ہوئے تھے۔ جھگڑے کی وجہ نور کا ظاہر سے شادی سے انکار بنا۔ ظاہر نے اسے مارنا شروع کر دیا۔ نور نے جان بچانے کے لیے روشن دان کھول کر پہلی منزل سے چھلانگ لگا دی۔ وہ گرل کے ساتھ بھی ٹکرائی اور فرش پر گرنے سے زخمی بھی ہو گئی۔ گھر پر اس وقت دو ملازم جمیل احمد اور محمد افتخار موجود تھے۔ ان میں سے ایک خانساماں تھا اور دوسرا چوکیدار۔ نور ان کے سامنے فرش پر گری اور گھسٹ کر گیٹ کی طرف بڑھنے لگی۔ اس نے چوکی دار کی منتیں کیں کہ گیٹ کھول دو ورنہ ظاہر مجھے مار دے گا لیکن وہ پتھر بن کر کھڑا رہا۔
اس دوران ظاہر جعفر تیزی سے سیڑھیوں سے نیچے آیا اور نور مقدم کو بالوں سے گھسیٹ کر دوبارہ اوپر لے گیا۔ اس دوران وہ نور کا سر سیڑھیوں پر بھی مارتا رہا۔ یہ دن ساڑھے چار بجے کا واقعہ تھا۔ ملازمین نے فون کر کے ظاہر کے والد ذاکر جعفر کو اس بارے بتادیا لیکن اس نے کچھ نہ کیا۔ ظاہر نے اس کے بعد نور کو بالائی منزل پر ٹارچر کرنا شروع کر دیا۔ اس نے اس کے جسم میں چار جگہ چاقو مارا۔ ایک بڑا زخم چھاتی پر بھی تھا۔ وہ ظاہر کی منتیں کرتی رہی لیکن وہ اس کے جسم کو چاقو سے کاٹتا رہا۔ نور نے اپنے فون سے ویڈیو کالز کی کوشش بھی کی اور شور بھی کیا لیکن کوئی اس کی مدد کو نہ آیا۔ ظاہر نے اس دوران اپنے والد کو فون کر کے بتایا کہ نور میرے ساتھ شادی نہیں کر رہی اسلیے میں اسے قتل کر رہا ہوں۔ اسکے معروف بزنس مین والد نے اس بات کو بھی سیریس نہیں لیا۔ ملازمین نے اس دوران ایک بار پھر ظاہر کے والد کو بتایا کہ کمرے سے چیخوں کی آوازیں آ رہی ہیں اور لوگ گھر کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ قاتل کے والد نے چوکیدار سے کہا کہ تم فکر نہ کرو، میں ابھی تھراپی سینٹر والوں کو بھیجتا ہوں۔ لیکن تھراپی سنٹر والوں نے آنے میں کئی گھنٹے لگا دیئے جس دوران نور کا قتل ہو گیا۔
اس وقت قاتل ظاہر جعفر جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے لیکن پولیس تاحال ملزم کا دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ نہیں کرا سکی۔ قانون کے مطابق 164 کا اقرار جرم کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے دینا ضروری ہے۔ اس حوالے سے ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ملزم کے پولیس حراست میں اقرار جرم کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ اسی دوران نور مقدم کے ڈرائیور نے پولیس کو یہ بھی بتایا ہے کہ اسے نور نے فون کال کر کے فوری طور پر 7 لاکھ روپے ظاہر کے گھر لانے کا کہا تھا لیکن یہ بھی کہا کہ انکا اسکے والدین کو پتا نا چلے۔ ڈرائیور نے بتایا کہ میں نے نور مقدم سے کہا کہ میں 7 لاکھ کا انتظام نہیں کر سکتا جس پر نور مقدم نے کہا کہ پیسے بہت ضروری چاہئیں، کسی دوست سے لے لو، اپنے جاننے والوں سے انتظام کردو۔ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ میں نے 3 لاکھ روپے کا انتظام کیا اور 19 جولائی کو پیر کے روز دوپہر کے وقت نور مقدم کی جانب سے دیے جانے والے پتے پر ظاہر جعفر کے گھر پہنچا، ڈرائیور کہتا ہے کہ جب میں نے نور مقدم کو فون کیا تو انہوں نے کہا میں باہر نہیں آ سکتی، پیسے خانسامے کے حوالے کر دو جس کے بعد میں نے 3 لاکھ روپے خانسامے کو پکڑا دیے۔ ڈرائیور خلیل نے کہا کہ میں نے پولیس کے سامنے ملزم ظاہر جعفر کے خانسامے کی شناخت کردی ہے۔ نور مقدم کے ڈرائیور نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جب نور مقدم نے مجھے پہلی بار فون کیا تو کہا کہ والدین کو بتا دو کہ میں لاہور جا رہی ہوں۔ ڈرائیور جب والدین کو لاہور سے متعلق بتانے گھر کے اندر گیا تو نور مقدم کی والدہ نور مقدم کے والد سے اسی معاملے پر بات کر رہی تھیں اور والد کہہ رہے تھے کہ کل عید کا دن ہے، نور لاہور کیوں جا رہی ہے۔ڈرائیور نے کہا کہ میں سمجھ گیا کہ نور مقدم نے اپنی والدہ کو فون کر دیا ہے، اس لیے میں کچھ کہے بغیر وہاں سے واپس آ گیا۔ تحقیقات کرنے والے ذرائع کے مطابق نور کا اپنی والدہ سے رابطہ تھا اور نور نے اپنی زندگی کے آخری روز یعنی 20 جولائی کو دن صبح 10 بجے بھی اپنی ماں سے ٹیلی فون پر بات بھی کی۔ ڈرائیور کے بیان اور نور کے ممکنہ اغوا اور تاوان سے متعلق جب پولیس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں۔
یاد رہیں کہ نور کے والد شوکت مقدم پاکستان نیوی کے سابق آفیسر ہیں جو ریٹائرمنٹ کے بعد دو ملکوں جنوبی کوریا اور قزاقستان میں پاکستان کے سفیر بھی رہ چکے ہیں۔ دوسری جانب نور کا قاتل ظاہر جعفربرادرز کے مالک کا بیٹا ہے جو کہ ایک بڑا بزنس گروپ ہے اور اربوں روپے کے مختلف کاروبار کرتا ہے۔

Close