نورقتل کیس کے لیے قائم فنڈ بند کیوں کروا دیا گیا؟

نور مقدم قتل کیس میں قانونی اخراجات پورے کرنے کے لیے آن لائن پلیٹ فارم ’گو فنڈ می‘ پر بنایا گیا پیج، کیس کی پیروی کرنے والی ٹیم اور نور کے خاندان کی درخوادت پر بند کر دیا گیا ہے۔ اس فنڈ میں، جو کہ امریکہ میں مقیم مقدم خاندان کے ایک عزیز کی جانب سے بنایا گیا تھا، اب تک تقریباً 50 ہزار ڈالر جمع ہو چکے تھے۔نور مقدم قتل کیس کی پیروی کرنے والی قانونی ٹیم کے سربراہ شاہ خاور نے بتایا کہ فنڈز اکھٹے کرنے کا معاملہ جب نور مقدم کے والد اور انکے موکل کے نوٹس میں آیا تو انھوں نے اس فنڈ کو فوری طور پر بند کرنے کا کہا۔ پاکستان کے سابق سفارت کار کی بیٹی نور مقدم کے قتل پر جہاں پاکستان سمیت دنیا بھر میں آواز اٹھائی گئی وہیں نور کے ایک رشتہ دار طارق غفار نے ملزمان کو منطقی انجام تک پہنچانے کی قانونی جنگ لڑنے کے لیے ’گو فنڈ می‘ ویب سائٹ پر پیج بنا دیا تھا۔
شاہ خاور کے مطابق اس سلسلے میں مقتولہ نور مقدم کی فیملی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کیس کی قانونی پیروی کے لیے فنڈز اکھٹا کرنے کی کوشش اس قانونی جنگ کا کچھ بوجھ کم کرنے کے مخلصانہ مترادف ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اس کیس میں ابھی بہت سے قانونی محازوں پر لڑنا باقی ہے اور یہ فنڈز مستقبل میں معاملے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے میں پیش بندی کے طور پر استعمال ہوں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ابھی اس فنڈ کو بند کیا جائے رہا ہے اور اس مد میں جو فنڈز اکھٹے ہوئے ہیں ان میں سے اگر رقم بچ گئی تو وہ ایسے ہی دیگر مقدمات کی پیروی کے لیے استعمال ہو گی۔ مقتولہ نور مقدم کے ورثا نے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے اس فنڈ میں حصہ ڈالا اور یہ بھی کہا کہ یہ معاملہ پیسوں کا نہیں ’بلکہ ہم تمام لوگ نور مقدم کے لیے انصاف چاہتے ہیں۔‘
دوسری جانب بہت سے وکلا نے نور کا مقدمہ بلا معاوضہ لڑنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ان وکلا میں ایک نام سیف الملوک ایڈووکیٹ کا بھی ہے جنھوں نے توہین مذہب کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو رہائی دلوائی تھی۔اس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے متعدد وکلا نے بھی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ بلا معاوضہ لڑنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ نور مقدم کے والد کے مطابق یہ ایک حقیقت ہے کہ اس مقدمے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے مستقبل میں مختلف عدالتی محازوں پر وکلا کی خدمات درکار ہوں گی اور اس کے لیے یہ فنڈ مددگار ثابت ہو گا۔ نور مقدم کے قتل کے مقدمے کی پیروی کرنے والی لیگل ٹیم کے سربراہ شاہ خاور کا کہنا ہے کہ وہ تمام وکلا کے اس جذبے کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن مقدمے کی پیروی کے لیے تو ایک، دو وکلا نے ہی پیش ہونا ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ جب تک ان کے مؤکل چاہیں گے تو اس وقت تک وہ اس مقدمے کی پیروی کرتے رہیں گے۔دوسری جانب اسلام آباد کی مقامی عدالت نے نور مقدم کے قتل کے مقدمے میں شریک ملزمان ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کی ضمانت کی درخواست پر پراسیکیوشن اور اس مقدمے کے مدعی کو چار اگست کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔عدالت نے ملزمان کے وکلا سے کہا ہے کہ وہ اگلی سماعت پر اپنی درخواستوں کے حق میں دلائل دیں۔عدالت نے شریک ملزمان ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کی ضمانت کی درخواست پر پراسیکیوشن اور مقدمے کے مدعی کو چار اگست کا نوٹس جاری کیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ دونوں ملزمان اس مقدے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین ہیں اور ان پر اعانت مجرمانہ یعنی شریک جرم ہونا اور حقائق کو چھپانے کا الزام ہے۔
اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج محمد سہیل نے جمعے کے روز ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کی تو ملزمان کے وکلا راجہ رضوان عباسی اور اسد کمال عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز میں ہی عدالت نے استفسار کیا کہ اس مقدمے کا تفتیشی افسر کون ہے جس پر پراسیکوشن کے وکیل ساجد چیمہ کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کا تفتیشی افسر ملزم ظاہر جعفر کو لے کر لاہور کی فرانزک لیبارٹری گیا ہے جہاں پر ان کا پولی گراف ٹیسٹ بھی ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کی فائل تفتیشی افسر کے پاس ہی ہے لہازا اگلی تاریخ دی جائے۔

Close