پاکستان افغانستان میں تشدد روکنے میں مدد کریگا

امریکی انتظامیہ نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان پڑوسی ملک افغانستان میں تشدد کو کم کرنے میں مثبت کردار ادا کرے گا کیونکہ ’افغانستان میں خانہ جنگی پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے اردو ترجمان زیڈ تارڑ نے صحافیوں کو بریفنگ کے دوران کہا کہ کووڈ کے خلاف جنگ میں امریکا نے پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے لیے کووڈ 19 وبائی مرض سے نمٹنا ایک بڑی ترجیح ہے اور انتظامیہ وبا کو عالمی سطح پر شکست دینے کے لیے انتھک محنت کر رہی ہے۔

زیڈ تارڑ کا کہنا تھا کہ امریکا نے پاکستان کو پہلے مرحلے میں 22 لاکھ اور اس کے بعد رواں ہفتے موڈرنا کی 30 لاکھ خوراکیں فراہم کی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو کووڈ 19 سے نمٹنے کے لیے 6 کروڑ ڈالر کی امداد بھی دی گئی ہے۔ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر وبائی مرض پر قابو پاسکتے ہیں۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے وزیر اعظم عمران خان سے ٹیلی فونک رابطہ کیوں نہیں کیا؟ تو زیڈ تارڑ نے بتایا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے، میں اس طرح کا پیغام نہیں دوں گا، اگر آپ ہمارے مجموعی تعلقات کو دیکھتے ہیں تو ہماری کئی مصروفیات ہیں اور مسلسل رابطے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سینئر پاکستانی حکام اپنے امریکی ہم منصبوں سے بات کر رہے ہیں اور ہم اس کا اعلان شفاف انداز میں کر رہے ہیں۔

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر ہم دعوت ناموں اور فون کالز پر تبصرے شروع کردیں تو احمقانہ حرکت ہوگی اور یوں بڑی تصویر دیکھنے سے محروم رہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ ایک دفتر یا ایک انتظامیہ کے ذریعے تعلقات نہیں دیکھتے بلکہ وہ دوطرفہ احترام پر مبنی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ فون کال کیوں نہیں ہوئی اس کی لاجسٹکس نہیں جانتا لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ امریکا اور پاکستان کے تعلقات بہت پرانے ہیں، اگر آپ ہمارے اقدامات دیکھتے ہیں مثال کے طور پر اسلام آباد کو 30 لاکھ ویکسین کی فراہمی، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے تعلقات مضبوط ہیں۔

زیڈ تارڑ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور امریکا کے مشترکہ مفادات ہیں جس میں کوئی دوری نہیں ہے، اس بنیاد پر ہم پاکستانی حکومت کے عہدیداران سے ہر سطح پر بات کرتے رہتے ہیں۔افغانستان میں امریکی کردار کے بارے میں ایک سوال پر امریکی محکمہ خارجہ کے اردو ترجمان نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کا مستقبل افغان لوگوں کے ہاتھ میں ہو، ہم افغانستان کو نہیں چھوڑ رہے، ہم بہتر مستقبل کی جانب کام کریں گے لیکن یہ فوجی حل نہیں ہے، افغانستان کے لیے ہماری سفارتی امداد جاری رہے گی۔

زیڈ تارڑ نے کہا کہ جو بائیڈن اور سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن دونوں تسلیم کرتے ہیں کہ افغانستان میں خانہ جنگی خطے میں کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔انٹونی بلنکن کے حالیہ دورہ نئی دہلی اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بحث میں کمی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مسائل پر کوئی خاموشی نہیں ہے، صرف بھارت ہی نہیں، اتحادیوں سے متعلق مسائل ہوتے ہیں تو (حکام کے مابین) معاملات زیر بحث آتے ہیں لیکن ہر چیز کی تشہیر نہیں کی جاتی تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی چیز کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ ’جنوبی ایشیا میں علاقائی تنازعات کا ایک ہی حل ہے اور وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت ہے۔

Back to top button