مکمل لاک ڈائون سے قبل یومیہ اجرت کمانے والوں کا سوچنا ہوگا

سندھ حکومت کی جانب سے حال ہی میں صوبے میں نافذ کیے گئے جزوی لاک ڈاؤن پر رد عمل دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ لاک ڈاؤن سے کورونا پھیلنے سے رکتا ہے لیکن مسئلہ عوام کا ہے جو یومیہ اجرت کما کر اپنا گزر اوقات کرتے ہیں، وہ کیسے گزارا کریں گے۔عوام کے سوالات کا براہ راست جواب دیتے ہوئے انہوں نے حکومت سندھ کو مخاطب کرکے کہا کہ جب تک آپ کے پاس اس کا جواب نہیں ہے تب تک مکمل لاک ڈاؤن مت کریں کیونکہ ایسی غلطی بھارت نے کی تھی جس سے ان کے ملک میں تباہی کا منظر ہے، ان کی معیشت کو غیرععمولی نقصان پہنچا۔

علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ملک کورونا وائرس کی چوتھی لہر کا سامنا کررہا ہے ایسے حالات میں علما کرام کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مساجد میں ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنایا۔انہوں نے کہا کہ بھارت سے آنے والا ڈیلٹا ویرینٹ سب سے زیادہ خطرناک ہے اور خطرے کو ماسک کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے ماسک پہننے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مقامات پر جانے سے قبل ماسک پہننیں کیونکہ اس سے 70 فیصد امکان ہوتا ہے کہ آپ وائرس سے متاثر نہ ہوں۔

وزیر اعظم عمران خان نے حکومت سندھ سے کہا کہ مکمل لاک ڈاؤن لگانے سے قبل عوام کا خیال رکھنا ضروری ہے، جو یومیہ اجرت کما کر اپنا گزر اوقات کرتا ہے، وہ کیسے گزارا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جب تک آپ کے پاس اس کا جواب نہیں ہے تب تک مکمل لاک ڈاؤن مت کریں کیونکہ ایسی غلطی بھارت نے کی تھی جس سے ان کے ملک میں تباہی کا منظر ہے، ان کی معیشت کو غیرععمولی نقصان پہنچا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستان پڑوسی ملک بھارت کے مقابلے میں بہت بہتر حالات میں ہے، بھارت کو یہ نقصان اعجلت میں اٹھائے گئے لاک ڈاون سے متعلق فیصلے کی وجہ سے اٹھانا پڑا۔

علاوہ ازیں عمران خان نے کہا کہ کورونا سے مکمل تحفظ کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ویکسینیشن ہے، ابھی تک پاکستان میں 3 کروڑ افراد کو ویکسینیٹڈ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، حکومت بھرپور کوشش کررہی ہے کہ ویکسین کی کمی نہ ہو۔ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بچوں اور ٹیچرز کو ویکسین لگوانے تک اسکول بھی نہیں کھولنے چاہیے لیکن معیشت کو نقصان نہ پہنچے اس امر کا بھی خیال رکھنا ہے۔

عوام کے سوال و جواب کا براہ راست سلسلہ ہوا تو لائیو کالر نے کہا کہ وہ صحافی ہے لائیو سیشن کی شفافیت کا جائزہ لینے کے لیے کال کی۔جس پر وزیر اعظم عمران خان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ قانون توڑنے، کرپشن کرنے، قانون کی بالادستی کے بجائے طاقت کی بالادستی پر یقین رکھنے والے مملکت سربراہان ہمیشہ آزاد میڈیا سے ڈرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے کرپشن کی ہو، لندن میں جائیداد بنائی ہو یا چوری سے جائیداد بنائی ہو تو ہمیشہ آزاد میڈیا سے خوفزدہ رہوں گا۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ آزادی رائے ملک کے لیے بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ اسی میڈیا کے ذریعے ہم حالات و واقعات سے آگاہی حاصل کرتے ہیں اور میڈیا سے مجھے اس وقت اختلاف ہوتا ہے جب جعلی خبر چلائی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ میڈیا سے اختلاف کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں، بھارت نے پاکستان کے خلاف جعلی اور جھوٹی چلنے کے لیے ای وی ڈس انفارمیشن لیب تیار کی اور بدقسمتی سے اسے پاکستان کے صحافی ’فیڈ‘ کررہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ جو صحافی صرف پاکستانی فوج اور وزیر اعظم کے خلاف پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں، میرا موقف ہے کہ تنقید ملک کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔

احساس پروگرام میں وسعت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مذکورہ پروگرام کے تحت متعدد امور انجام دیے جارہے ہیں تاہم جو قابل ذکر بات ہے کہ ہمارے پاس ڈیٹا جمع ہوگیا ہے جس کی بنیاد پر ہم ضرورت مند خاندانوں کو براہ راست سبسڈی دے سکیں گے۔

Close