چاردیواری کے اندر بہتر فیس ماسکس کا استعمال کووڈ سے بچاؤ کیلئے زیادہ بہتر

چاردیواری کے اندر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے بہتر فیس ماسکس کا استعمال زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

یہ بات کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

واٹر لو یونیورسٹی کی تحقیق میں پتلوں کو استعمال کرکے فیس ماسکس کی افادیت کی جانچ پڑتال کی گئی۔

تحقیق میں دیکھا گیا کہ کسی بڑے کمرے میں بیٹھے ہوئے افراد کے سانس لینے سے فیس ماسک پہنے لوگوں سے بیماری پھیلنے کا خطرہ کتنا ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں ثابت ہوا کہ سانس لینے سے بہت ننھے ذرات یا ایروسول ڈراپلیٹس کا اجتماع فضا میں ہونے والے لگتا ہے چاہے عام کپڑے کے ماسک اور سرجیکل ماسکس کا استعمال ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔

یہ ننھے ذرات ہوا میں معلق اور سفر کرسکتے ہیں اور لوگوں میں بیماری کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ کسی بھی قسم کا فیس ماسک استعمال کرنا کسی کمرے میں لوگوں کے قریب یا دور ہونے پر کووڈ سے تحفظ کے حوالے فائدہ مند ہوتا ہے مگر مختلف اقسام کے ماسکس کی افادیت میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے بالخصوص ایروسولز کو کنٹرول کرنے کرنے کے حوالے سے۔

سابقہ تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا تھا کہ کووڈ سے متاثرہ افراد کی جانب سے خارج کیے گئے ننھے وائرل ذرات بیماری کے پھیلاؤ کا ذریعہ ہوتے ہیں۔

اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ سب سے زیادہ عام استعمال فیس ماسکس (کپڑے کے ماسک) منہ سے خارج ہونے والے 10 فیصد ننھے ذرات کو فلٹر کرپاتے ہیں جس کی وجہ ان کے فٹنگ کے مسائل ہیں، جبکہ باقی ذرات ماسک کے اوپری حصے سے فلٹر ہوئے بغیر باہر نکل جاتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں زیادہ مہنگے این 95 اور کے این 95 ماسکس 50 فیصد سے زیادہ ایروسول ذرات کو فلٹر کرتے ہیں اور باقی چاردیواری کے اندر جمع ہوکر سانس لینے سے لوگوں میں کووڈ کا باعث بن سکتے ہیں۔

محققین نے کہا کہ کھلی فضا میں کپڑے کے ماسک اور سرجیکل ماسکس کا استعمال ٹھیک ہے مگر چاردیواری کے اندر جیسے اسکول یا دفتر وغیرہ میں جس حد تک ممکن ہو این 95 اور کے این 95 ماسکس کا استعمال کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ طبی عملہ این 95 ماسکس کا استعمال کرتا ہے جو زیادہ بہتر کام کرتے ہیں اور اس خیال کو ہمارے نتائج نے ٹھوس اعدادوشمار و تجزیے نے درست ثابت کیا ہے۔

تحقیق میں کسی جگہ میں ہوا کی نکاسی کے نظام کے اثرات کا جائزہ بھی لیا گیا اور دریافت ہوا کہ کسی مقام میں ہوا کی نکاسی کی معتدل شرح بھی وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ کم کرنے کے لیے مؤثر ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل فزکس آف فلوئیڈز میں شائع ہوئے۔

بشکریہ: ڈان نیوز

Back to top button