سستی، کاہلی اور آرام پسندی کا نتیجہ… فالج کا حملہ

کینیڈین ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ دن میں گھنٹوں ایک ہی جگہ پر بیٹھے رہتے ہیں اور چلنے پھرنے یا جسمانی مشقت سے جی چراتے ہیں، ان میں فالج کا خطرہ بھی دوسروں کی نسبت زیادہ ہوجاتا ہے۔

ریسرچ جرنل ’’اسٹروک‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی یہ تحقیق کینیڈا میں 2000 سے 2012 تک جاری رہنے والے سرکاری سروے کی بنیاد پر کی گئی جو عوامی صحت کے حوالے سے کیا گیا تھا۔

یونیورسٹی آف کیلگری، البرٹا کے ڈاکٹر رائیڈ جوندی اور ان کے ساتھیوں نے کینیڈین حکومت کا میڈیکل ڈیٹابیس کھنگال کر اس سروے میں شریک 143,180 صحت مند افراد کی آئندہ صحت کے بارے میں مزید معلومات جمع کیں اور ان کا تجزیہ بھی کیا۔ یہ اضافی معلومات 2017 کے اختتام تک محیط تھیں۔
اس جائزے سے پتا چلا کہ جو لوگ بہت زیادہ آرام پسند تھے یا دیر تک بیٹھے بیٹھے کتابیں پڑھنے، ٹی وی دیکھنے، کمپیوٹر پر کام کرنے یا کمپیوٹر/ ٹیبلٹ پر وقت گزاری کے عادی تھے، ان میں فالج کا خطرہ بھی زیادہ تھا۔

روزانہ چار گھنٹے سے کم وقت تک ایک ہی جگہ بیٹھے رہنے والوں فالج کا خطرہ سب سے کم رہا لیکن جیسے جیسے یہ دورانیہ بڑھتا گیا، ویسے ویسے فالج کے خطرے میں بھی اضافے کا مشاہدہ ہوا۔

فالج کا شدید ترین خطرہ بھی سب سے کاہل اور آرام پسند لوگوں میں دیکھا گیا۔

روزانہ آٹھ گھنٹے یا اس سے زیادہ دیر تک مسلسل بیٹھے رہنے والوں میں فالج کا خطرہ، روزانہ چار گھنٹے سے کم بیٹھے رہنے والوں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ تھا!

یہی نہیں بلکہ ایسے آرام پسند لوگوں پر 60 سے بھی کم عمر میں فالج کا حملہ ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ ماہرین پچھلے کئی سال سے آرام پسندی اور کاہلی کے نقصانات سے خبردار کرتے آرہے ہیں جبکہ ہر نئی تحقیق سے ان نقصانات کی فہرست میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ نئی تحقیق بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
بشکریہ: ایکسپریس

Close