کورونا سے متاثر افراد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے والی وجہ دریافت

کورونا وائرس سے بہت زیادہ بیمار ہونے والے افراد کے لیے پھیپھڑوں میں خون کے ننھے لوتھڑے (مائیکرو کلاٹس) موت کا خطرہ بہت زیادہ بڑھا دیتے ہیں۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

لوما لنڈا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ پھیپھڑوں میں بننے والے یہ مائیکرو کلاٹس جسم میں سفر کرکے دیگر اعضا کو جان لیوا نقصان پہنچاتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک بار بلڈ کلاٹس بننے کا عمل شروع ہوجاتا ہے تو پھر جسم مزید وائرس کے خلاف مزاحمت نہیں کرپاتا بلکہ خون کے لوتھڑوں کو روکنے میں مصروف ہوجاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس معلومات سے بیماری کے خلاف لڑنے کے لیے حکمت عملی کو تبدیل کرنے کا موقع ملے گا کیونکہ ممکنہ طور پر ابھی تک ہم غلط سمت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم وائرل بیماری کے خلاف علاج تلاش کررہے ہیں مگر ہمیں اس وائرل بیماری کے علاج کو دریافت کرنے کی ضرورت ہے جو بلڈ کلاٹنگ کا باعث بنتی ہے۔

تحقیق کے نتائج سے وضاحت ہوتی ہے کہ کووڈ کے مریض متعدد دیگر پیچیدگیوں جیسے فالج، ہارٹ اٹیک، گردے فیل ہونے یا متعدد اعضا کے افعال بیک وقت فیل ہونے کے باعث کیوں انتقال کرجاتے ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ ہمیں اس مسئلے کا سامنا ہے جس کے بارے میں ہم اب تک سمجھ نہیں سکے کہ کس طرح کووڈ 19 جیسا ایک وائرل مرض اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ناقابل پیشگوئی طریقوں سے ہلاک کررہا ہے۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے کووڈ سے بہت زیادہ بیمار افراد کے جسموں کے اندر خون کی چھوٹی شریانوں کے بلاک ہونے اور چھوٹے بلڈ کلاٹس کی بہت زیادہ تعداد کو دیکھا۔

یہ انسانی آنکھ کے لیے دیکھنا تو ممکن نہیں مگر بہت چھوٹے چھوٹے بلڈ کلاٹس متعدد اعضا جیسے دماغ، دل، جگر، گردوں، پھیپھڑوں یا دیگر کے جان لیوا حد تک نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔

مگر یہ لاتعداد بلڈ کلاٹس بننے کی وجہ کیا ہے اس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ جب جسم کو کووڈ 19 کی بیماری کا احساس ہوتا ہے تو خون کے بڑے سفید خلیات مونو سائٹس ردعمل ظاہر کرکے پھیپھڑوں کی ہوا کی نالیوں میں اکٹھے ہوتے ہہیں۔

بیماری کے چند دن بعد مونوسائٹس بدل کر میکرو فیجز میں تبدیل ہوجاتے ہیں تاکہ جسم کے متاثرہ اور نقصان کا شکار ہونے والے ٹشوز کی صفائی کی جاسکے اور پھیپھڑوں کی ناللیوں کے اندر متاثرہ خلیات پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔

بدقسمتی سے یہ میکرو فیجز ہوا کی ان نالیوں کے ارگرد موجود شریانوں پر بھی حملہ آور ہوتے ہیں، یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں جسم خون سانس لینے سے حاصل آکسیجن کو اکٹھا کرتا ہے، اگر میکروفیجز سے شریانوں کو نقصان پہنچ جائے تو وہ خون سے بھرنے لگتی ہیں۔

میکرو فیجز کی سطح پر بننے والا ایک پروٹین خون کے لوتھڑے بننے کا باعث بنتا ہے اور جب بلڈ کلاٹ ایک انزائمے کو تشکیل دیتا ہے تو وہ خون میں موجود ایک پروٹین سے رابطہ کرکے اس عمل کی رفتار بڑھا دیتا ہے۔

خون کے یہ ننھے لوتھڑے خون کے ذریعے جسم کے تمام اعضا تک پہنچ کر چھوٹی شریانوں کو بلاک کردیتے ہیں اور جسم کے دیگر اعضا تک پہنچ جاتے ہیں جس سے جسمانی نظام فیل ہونے لگتا ہے۔

محققین نے مشاہدہ کیا کہ صرف 4 دن کے اندر بہت زیادہ بیمار 3 افراد میں اعضا کو شدید نقصان پہنچا، ان میں سے 2 کا انتقال ہوگیا جبکہ ایک کے دماغ کو بہت زیادہ نقصان پہنچا۔

انہوں نے بتایا کہ ان تینوں مریضوں میں نمایاں کلاٹس کے کوئی آثار موجود نہیں تھے اور اس سے عندیہ ملتا ہے کہ کلاٹس کا حجم اتنا چھوٹا تھا کہ انہیں دیکھنا ممکن نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے تحقیق میں تینوں مریضوں میں بہت کم وقت میں ناقابل تلافی نصان پہنچانے والے بلڈ کلاٹس کا مشاہدہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ سال کے دوران طبی مااہرین کووڈ کے علاج کے لیے اینٹی وائرل ادویات کو دریافت نہیں کرسکے، مگر ہمارے خیال میں اینٹی وائرل کی بجائے اینٹی کلاٹنگ دوا بہت زیادہ مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف امیونٹی، انفلیمیشن اینڈ ڈیزیز میں شائع ہوئے۔

بشکریہ: ڈان نیوز

Close