جب شوبز میں آئی تو خواتین کو ہراساں کیا جاتا تھا

ماڈل، اداکارہ، ریڈیو جوکی (آر جے) انوشے اشرف نے انکشاف کیا ہے کہ جب وہ شوبز میں آئیں تب انڈسٹری میں باقاعدہ طور پر غیر فلمی خاندان یا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ہراساں کیا جاتا تھا۔انوشے اشرف خواتین کو ہراساں کرنے، ریپ واقعات اور گھریلو تشدد پر کھل کر بات کرتی دکھائی دیتی ہیں، ماضی میں بھی وہ خود کو ہراساں کیے جانے سے متعلق ٹوئٹس کر چکی ہیں۔

حال ہی میں انہوں نے ’ایکسپریس ٹربیون‘ کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ انہیں دیگر خواتین کے ساتھ ہونے والے جنسی استحصال کے واقعات دیکھ کر احساس ہوا کہ ایسا سب کچھ ان کے ساتھ بھی ہو چکا ہے۔اداکارہ نے بتایا کہ کیریئر کے آغاز میں انہیں ’فیمنزم‘ کی تحریک کا مطلب معلوم نہیں تھا مگر جب خواتین نے اسی تحریک کا نام استعمال کرتے ہوئے اپنے ساتھ ہونے والے استحصال کے واقعات کو بیان کیا تو انہیں اس کا مفہوم سمجھ آیا۔

انوشے اشرف کے مطابق ’می ٹو‘ مہم اور ’فیمنزم‘ تحریک دراصل خواتین کا آواز بنے ہیں، جس کے تحت عورتوں نے اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر کھل کر بات کی۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ جب خواتین نے اپنے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات پر بات کرنا شروع کی تو انہیں احساس ہوا کہ ایسا سب کچھ تو ان کے ساتھ بھی ہوا ہے اور یہاں تک بچپن میں ان کا جنسی استحصال بھی کیا گیا۔

انوشے اشرف نے بچپن میں کیے گئے استحصال سے متعلق مزید وضاحت نہیں کی، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات تقریبا ہر خاتون یا لڑکی کے ساتھ ہوتے ہیں۔ماڈل و اداکارہ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ جب وہ شوبز میں آئیں تب انہوں نے انڈسٹری میں کئی خواتین کا استحصال ہوتے ہوئے دیکھا، انہوں نے متوسط یا نچلے طبقے سے آنے والی خواتین کو ہراساں ہوتے ہوئے دیکھا۔

انوشے اشرف کے مطابق ماضی میں شوبز میں کام کرنے والی خواتین کو گلی محلوں یا اور سڑکوں پر روک کر ہراساں کیا جاتا تھا اور اب آئے دن سوشل میڈیا پر ان پر تنقید کی جاتی ہے۔اداکارہ نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ شوبز میں غیر فلمی گھرانوں یا متوسط اور غریب گھرانوں کی خواتین کو باقاعدگی سے چھیڑا جاتا، ان کا استحصال کیا جاتا، انہیں کم اجرت دی جاتی تھی۔

اگرچہ انوشے اشرف نے شوبز میں خواتین کے جنسی استحصال پر بات کی، تاہم انہوں نے کسی بھی خاتون کا نام نہیں لیا اور نہ ہی انہوں نے ہراساں کرنے والے افراد کا نام لیا۔ماضی میں بھی انوشے اشرف نہ صرف شوبز بلکہ ملکی سماج میں بھی خواتین کے استحصال کے خلاف بات کرتی آئی ہیں اور انہیں خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والی شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔

Close