جوڑے نے شادی میں شرکت نہ کرنے والوں کو 40 ہزار روپے کا بل بھیج دیا

شادی کے موقع پر شرکت نہ کرنے والے سے روٹھنا منانا یا ناراضی معمول کی بات ہے لیکن تقریب کی دعوت دینے کے باوجود نہ آنے والوں کو بِل بھیج دینا انتہائی حیران کن اور غیر معمولی ہے۔

کچھ ایسا ہی واقعہ حال ہی میں پیش آیا کہ امریکا کے شہر شکاگو سے تعلق رکھنے والے ایک نوبیاہتا جوڑے نے اپنی شادی میں شرکت نہ کرنے والوں کو 240 ڈالر (پاکستانی 39 ہزار 829 روپے) کا بل بھیج دیا۔

تقریب میں شرکت نہ کرنے والوں کو ‘نو کال، نو شو’ کے عنوان سے ایک انوائس (رسید) ارسال کی گئی ہے اور 240 ڈالر ادا کرنے کا کہا گیا ہے۔

مذکورہ انوائس (رسید) کی تصویر امریکی ادارے ہف پوسٹ کے سینئر فرنٹ پیج ایڈیٹر فلپ لیوس کی جانب سے شیئر کی گئی تھی جس پر ٹوئٹر صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔

شیئر کی گئی انوائس کے مطابق شادی کی تقریب جمیکا کے علاقے نگریل میں واقع ریزورٹ روئلٹن نگری میں ہوئی تھی جبکہ یہ انوائس 18 اگست کو جاری کی گئی تھی۔

نو بیاہتا جوڑے کی جانب سے شرکت نہ کرنے والے افراد کو رقم کی ادائیگی کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔

انوائس میں کہا گیا کہ ‘یہ انوائس آپ کو بھیجی جا رہی ہے کیونکہ آپ نے حتمی گنتی کے دوران شادی کے شرکت کی تصدیق کی تھی’۔

مزید کہا گیا کہ ‘انوائس میں درج کی گئی رقم آپ کی انفرادی نشستوں کی قیمت کی ادائیگی ہے چونکہ آپ نے کال نہیں کی یا ہمیں باقاعدہ نوٹس نہیں دیا کہ آپ تقریب کا حصہ نہیں بنیں گے لہذا یہ رقم آپ کی اپنی نشستوں کی ادائیگی ہے جو ہم نے ایڈوانس میں دی تھی’۔

نیویارک پوسٹ کی جانب سے نشاندہی کی گئی یہ وائرل انوائس بھیجنے والا جوڑا ڈو سیمنز اور ڈیڈرا میک گی ہیں جن کا تعلق امریکا کے شہر شکاگو سے ہے۔

ڈو سیمنز نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر اس بل کی تصویر شیئر کی تھی اور لکھا تھا کہ ‘جب میں آپ کو یہ انوائس بھیجوں تو برا نہ مانیں، میں آپ کو بذریعہ ای میل بھیجوں گا اور سرٹیفائیڈ میل بھیجوں گا کہ اگر آپ کہتے ہیں کہ آپ کو ای میل نہیں ملی’۔

نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈو سیمنز نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ایسا کیا لیکن بات پیسوں کی نہیں ہے انہیں مہمانوں کی عدم شرکت پر بہت زیادہ دکھ پہنچا ہے۔

ڈو سیمنز نے کہا کہ انہیں بہت زیادہ بے عزتی محسوس ہوئی جب مہمانوں کی بڑی تعداد تقریب میں شریک نہیں ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ ‘ہم نے 4 مرتبہ پوچھا تھا کہ کیا آپ آسکتے ہیں اور انہوں نے ہر مرتبہ حامی بھری، ہمیں جمیکا میں پیشگی ادائیگی کرنی تھی جو ہم نے کی’۔

تاہم شادی کی تقریب میں انہیں احساس ہوا کہ کچھ لوگ اپنی بات پر قائم نہیں رہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘کسی نے مجھے نہیں بتایا یا میسج نہیں کیا کہ ہم نہیں آسکتے، میں یہی تو پوچھ رہا تھا، اگر مجھے بتادیتے کہ نہیں آسکتے تو میں سمجھ جاتا’۔

ڈو سیمنز نے کہا کہ ‘لیکن مجھے بتایا نہیں گیا اور میں نے ان مہمانوں اور ان کے ساتھ آنے والوں کی ادائیگی کی 4 لوگ 8 بن گئے، مجھے ذاتی طور پر برا لگا’۔

Close