بڑی عمر کی وجہ سے اب ماں اور ماسی کے کردار ادا کرنا پڑتے ہیں

سینئر اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے کہا ہے کہ ہر اداکار کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وقت سدا ایک سا نہیں رہتا اور عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ انکے کردار بھی بدلتے رہتے ہیں اور اسی لیے اب وہ بھی ماں اور ماسی کے کردار ادا کر رہی ہیں۔
ایک انٹرویو میں عتیقہ اوڈھو کا کہنا تھا کہ ایک اداکار کا مجموعی طور پر 10 فیصد کام بہتر ہونا چاہیے مگر جب وہ اپنے تین دہائیوں پر مشتمل کیریئر پر نظر دوڑاتی ہیں تو انہیں اپنا 70 فیصد کام کامیاب نظر آتا ہے۔اداکارہ نے حالیہ ڈراموں اور شوبز انڈسٹری کو کئی چیزوں میں ماضی کے ڈراموں اور انڈسٹری سے بہتر بھی قرار دیا اور کہا کہ ماضی کے مقابلے میں اب بہت زیادہ کام ہوتا ہے۔
عتیقہ اوڈھو کا کہنا تھا کہ گزرتی عمر کے ساتھ اداکاروں کو کردار بھی مختلف دیے جاتے ہیں، جیسے جب وہ جوان تھیں تو انہیں رومانوی ہیروئن کے کردار دیے جاتے اور اب انہیں ماں، ساس اور بڑی بہن جیسے کردار دیے جانے لگے ہیں۔عتیقہ اوڈھو نے نئی نسل کے اداکاروں کے رویے پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ نئے اداکار عام طور پر شوٹنگ سیٹ پر پہنچنے سے قبل اسکرپٹ کو پڑھتے ہی نہیں۔
اداکارہ نے بتایا کہ نوجوان اداکاروں میں سنجیدگی کی کمی ہے اور وہ شوٹنگ سیٹ پر آکر ڈائیلاگ یاد کرتے ہیں، جس کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو پریشانی بھی ہوتی ہے۔ عتیقہ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ زیادہ تر نوجوان اداکار اپنی عمر کے حساب سے ہیرو اور مرکزی کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں کام کم ملتا ہے۔ انہوں نے نوجوان اداکاروں کو مشورہ دیا کہ وہ عمر کی پرواہ کیے بغیر کام کریں ورنہ وقت نکل جائے گا، وہ عمر رسیدہ ہو جائیں گے اور وہ اچھا کام بھی نہیں کر پائیں گے۔انہوں نے مثال دی کہ اگر فواد خان اپنی عمر کے حساب سے اب ٹی وی پر کام کرنا پسند نہیں کریں گے یا مرکزی کردار ہی ادا کرنا چاہیں گے تو وہ اپنا نقصان کریں گے، کیوں کہ ہر وقت عمر کے حساب سے کردار نہیں ملتے۔
عتیقہ اوڈھو نے انکشاف کیا کہ ایک دہائی قبل نشر ہونے والے ان کے مقبول ڈرامے ’ہم سفر‘ میں ان کے قدرے شیطانی کردار کے باوجود خواتین کو ان کا رول اچھا لگا اور انہیں ان پر ترس آتا تھا۔ پاکستان ٹیلی وژن پر کئی مقبول ڈرامے اور فلمیں دینے والی اداکارہ نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ جدید دور کے ڈرامے ماضی جیسے نہیں ہیں۔
ان کے مطابق حالیہ دور میں بھی کئی ڈراموں نے مقبولیت کے نئے ریکارڈز بنائے اور ان میں سے ایک ڈراما ’ہم سفر‘ بھی تھا۔انہوں نے ’ہم سفر‘ کا مزید ذکر کرتے ہوئے اپنے کردار پر بھی بات کی اور کہا کہ اس وقت ان کے کردار کو دیکھ کر خواتین روتی تھیں، انہیں ان پر ترس آتا تھا۔ عتیقہ اوڈھو کے مطابق اس وقت جب بھی ان سے خواتین ملتیں تو ان سے ’ہم سفر‘ میں بیٹے کے تلخ رویے پر بات کرتیں، انہیں افسوس ہوتا کہ ان کے ساتھ بیٹے نے ایسا کیا۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ انہوں نے قدرے شیطانی ساس کا کردار ادا کیا مگر اس کے باوجود پاکستانی خواتین کو ان پر ترس آتا اور انہیں ملنے والے دکھوں پر روتیں۔
عتیقہ اوڈھو کے مطابق خواتین کو ان پر اس لیے ترس آتا، کیوں کہ پاکستانی سماج میں ماؤں کے ساتھ بیٹوں کی گہری وابستگی ہوتی ہے اور وہ ہر کسی کو توقع ہوتی ہے کہ بیٹا ماں کی ہر بات پر راضی رہے گا۔ خیال رہے کہ ’ہم سفر‘ کو 2011 میں نشر کیا گیا تھا اور عتیقہ اوڈھو نے ڈرامے میں فواد خان کی والدہ اور ماہرہ خان کی ساس کا کردار ادا کیا تھا۔عتیقہ اوڈھو ڈرامے میں بیٹے سے بہو کی محبت کو دیکھ کر بہو پر الزام لگاتی ہیں، جس کے بعد ان کا بیٹا بیوی کو گھر سے نکال دیتا ہے۔ ڈرامے کی کہانی ماہرہ خان اور فواد خان کی شادی، محبت، علیحدگی اور دوبارہ میلاپ کے گرد گھومتی ہے۔اسے ڈرامے سے ہی ماہرہ خان اور فواد خان کو شہرت ملی۔

Close