کوئٹہ کے بھوت بنگلہ میں کونسے بھوت بستے ہیں؟

کوئٹہ میں سبزل روڈ کی توسیع کے منصوبے کی زد میں آنے والے بھوت بنگلہ کے نام سے مشہور عمارت کو اگرچہ مسمار کردیا گیا ہے لیکن اس کی اراضی کا چھوٹا سا حصہ بچ گیا ہے جہاں لوگ جاتے ہوئے آج بھی بھوتوں سے خوف کھاتے ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں ہزاروں کی تعداد میں منشیات کے عادی افراد ہیں جو شہر میں ایسے مقامات میں قیام پزیر ہوتے ہیں جہاں عام لوگ رہنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ لیکن بھوتوں کے خوف سے منشیات کے عادی افراد نے بھی اس عمارت کو اپنی آماجگاہ نہیں بنایا۔اسی طرح جو افغان پناہ گزین خیموں میں رہتے ہیں وہ کسی خالی یا زیر تعمیر عمارت کو نعمت سے کم نہیں سمجھتے لیکن کسی بے گھرانے نے بھی اس عمارت کو اپنا مسکن نہیں بنایا جس کی سب سے بڑی وجہ اس میں بھوتوں کی موجودگی کا خوف ہے۔

اگرچہ مسماری سے پہلے یہ عمارت شہر کے مرکزی علاقے سے بہت زیادہ دور نہیں تھی مگر یہ جس ویرانی کا منظر پیش کرتی اس سے بالکل یہ محسوس نہیں ہوتا تھا کہ یہ کسی شہری علاقے کا حصہ ہے۔ یہ بھوت بنگلہ لگ بھگ تیس سال قبل سبزل روڈ پر چار ہزار مربع فٹ رقبے پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ والے گھر میں مقیم بزرگ شخص نے بتایا کہ انھوں نے اس عمارت کو 30 سال سے بند اور ویران ہی پایا ہے۔ محکمہ مال کے ریکارڈ کے مطابق 21 ستمبر 1987 کو اس عمارت کی ملکیت کا اندراج حمید ولد مرزا ساجد علی بیگ نامی شخص کے نام پر ہوا تھا جبکہ 22 نومبر 1990 کو یہ عمارت پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے نام پر منتقل ہوئی۔

بھوت بنگلے کے ساتھ حاجی نذیر احمد بنگلزئی کی رہائش گاہ موجود ہے۔ بنگلزئی کے بقول اس علاقے میں ان کے قبیلے کے لوگ 1935 سے آباد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے اس بنگلے کو اپنے سامنے بنتے دیکھا۔ بچپن سے ہم سنتے رہے کہ یہاں بھوت ہیں لیکن ہم نے خود ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی اور نہ محسوس کی بلکہ اس کی چابی شروع میں ہمارے پاس ہوتی تھی اور ہم اپنا کھیتی باڑی کا سامان اس میں رکھتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ اس علاقے میں ان کے قبیلے کے لوگ 1935 سے آباد ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ ہماری فصلوں میں کیڑے پڑ گئے تو ہم نے فصلوں کو بچانے کے لیے سپرے کیا۔’

چونکہ اس وقت کھیتوں کے درمیان بھوت بنگلہ واحد عمارت تھی لہازا کیڑوں نے اس پر یلغار کر دی، یہ کیڑے اتنی زیادہ تعداد میں تھے ان کی وجہ سے عمارت کی دیواریں بھی نظر نہیں آتی تھیں۔ تاہم خوراک نہ ملنے کی وجہ سے جب یہ کیڑے مر گئے تو اس بنگلے کی دیواریں کالی ہو گئیں۔ کیڑوں کی موت بارے سُن کر ایک فوٹو گرافر آیا اور بنگلے کی کالی دیواروں کی تصاویر بنا کر لے گیا۔ جب اگلے روز تصویر کے ساتھ جنگ اخبار میں یہ خبر آئی کہ بنگلے میں لاکھوں کیڑے بھوتوں کی وجہ سے مر گئے ہیں تو مقامی لوگوں میں یہ تاثر مزید گہرا ہو گیا کہ یہ واقعی ایک بھوت بنگلہ ہے۔ حاجی نذیر احمد بنگلزئی نے مزید بتایا کہ جب یہ عمارت ڈاکٹروں کی ایک تنظیم نے خریدی تو وہ بھی اس کو آباد نہیں رکھ سکے لیکن انھوں نے اس کی حفاظت کے لیے ایک چوکیدار رکھ دیا۔ چونکہ اس عمارت میں رہائش اختیار کرنے کے لیے کوئی نہیں آتا تھا اسلیے چوکیدار اپنے گدھے کو بھی عمارت کے اندر ہی باندھتا تھا۔ اس چوکیدار کی پراسرسر موت بھی اسی عمارت میں ہوئی جس کے کچھ عرصے بعد گدھا بھی مر گیا۔ اس واقعے سے علاقے میں یہ تاثر مزید گہرا ہو گیا کہ بھوت اِدھر کسی کو زندہ نہیں چھوڑتے۔ اب یہ بھوت بنگلہ تو مسمار ہو چکا لیکن اس کا بچا کھچا باقی حصہ آج بھی بھوت بنگلے کا منظر پیش کرتا ہے اور لوگ اس کے پاس جانے سے خوف کھاتے ہیں۔

Close