اپنی پرانی ویڈیو وائرل ہونے پر تنقید سے ندا یاسر پھٹ پڑیں

معروف مارننگ شو میزبان ندا یاسر نے اپنے شو کی ایک پرانی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے اور شدید تنقید کا نشانہ بننے پر شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ٹی وی پر ہزاروں اچھے شو بھی کیے ہیں مگر ان میں سے کسی کی ویڈیو وائرل نہیں کی جاتی۔
خیال رہے کہ چند روز قبل ان کی ایک پرانی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں ندا یاسر ’فارمولا ریسنگ کار‘ اور انگریزی کے لفظ ’فارمولا‘ میں فرق کو سمجھ نہیں پا رہی تھیں۔وہ فارمولا کار کے حوالے سے بار بار مہمانوں سے یہی سوال کئے جا رہی تھی کہ اس کار کا فارمولا کیا ہے؟
یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹوئٹر پر ’ندا یاسر‘ کے نام کا ٹرینڈ ٹاپ فہرست میں بھی شامل ہو گیا اور لوگوں نے ان کی کم علمی پر خوب تنقید کی جہاں لوگوں نے ندا یاسر پر تنقید کی ، وہیں ان کا مذاق بھی اڑایا گیا اور اے آر وائے چینل انتظامیہ سے انہیں ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
کئی لوگوں نے ندا یاسر کی کم علمی پر ان کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا کہ وہ صرف مارننگ شوز میں شادیاں کروانا ہی جانتی ہیں، انہیں ’فارمولا ریسنگ کار‘ اور ’فارمولا‘ لفظ میں فرق کا علم بھی نہیں ۔ کچھ افراد نے ندا یاسر کی غلطی پر ان کا موازنہ اداکارہ میرا کے ساتھ بھی کیا جبکہ بعض افراد نے میزبان کی دوسری ویڈیوز اور سوشل میڈیا پوسٹس کے سکرین شاٹ لے کر بھی ان پر تنقید کی۔
وائرل ہونے والی یہ مختصر ویڈیو دراصل مئی 2016 کی ہے جس میں ندا یاسر نیشنل یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی یعنی نسٹ کے دو طالب علموں سے بات کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس ویڈیو میں یونیورسٹی طلبہ میزبان کو بتاتے ہیں کہ انہوں نے ملک کی پہلی فارمولا ریسنگ کار بنائی ہے جسے اب امریکا میں ہونے والے مقابلے میں پیش کیا جائے گا۔ویڈیو میں طلبہ کو واضح طور پر کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ انہوں نے فارمولا کار بنائی ہے، جس پر میزبان ’فارمولا‘ کے لفظ پر تذبذب کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ویڈیو سے معلوم ہوتا ہے کہ میزبان ’فارمولا کار‘ کو انگریزی کا لفظ ’فارمولا‘ سمجھ بیٹھتی ہیں اور طلبہ سے بار بار پوچھتی ہیں کہ ابھی انہوں نے صرف ’فارمولا‘ تیار کیا ہے یا اس پر کوئی تجربہ بھی کیا ہے؟
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میزبان کے سوال پر طلبہ انہیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ دراصل ’فارمولا‘ کار کا ہی نام ہے اور وہ اسے بنا چکے ہیں، جس میں صرف ایک ہی شخص بیٹھ سکتا ہے۔طلبہ کے سمجھانے کے بعد ہی ندا کو قدرے بات سمجھ آجاتی ہے اور وہ ان سے پوچھتی ہیں کہ کیا انہوں نے بنائی گئی کار پر بیٹھ کر اسے چلا کر دیکھا ہے؟ جس پر طلبہ جواب دیتے ہیں، انہوں نے کار کو چلا کر دیکھا اور انہیں بہت مزہ آیا۔ پھر وہ ان سے یہ سوال کرتی ہیں کہ کیا شروع میں صرف ایک ہی شخص کار میں بیٹھ جائے گا اور بعد میں سواریوں کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہے؟
دوسری جانب انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ندا یاسر نے بتایا کہ وائرل ہونے والا کلپ 6 سے 7 سال پرانا ہے اور انہیں بالکل بھی اندازہ نہیں ہے کہ یہ اچانک کیسے نمودار ہوا اور پھر وائرل ہوگیا۔ ندا کا کہنا تھا کہ وہ ٹوئٹر پر موجود نہیں ہیں اور انہیں کسی دوسرے ذریعے سے پرانی ویڈیو وائرل ہونے کا علم ہوا۔ مارننگ شو ہوسٹ کا کہنا تھا کہ یہ کلپ دیکھ کر تو میں خود بھی ہنس رہی ہوں، یہ مجھے بھی مضحکہ خیز لگ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سے غلطی ہوگئی تھی جس پر میں ہنس رہی ہوں، آئندہ کوشش کروں گی کہ مکمل تحقیق کر کے بات کروں۔
ندا یاسر نے مزید کہا کہ یہ اتنی پرانی بات ہے کہ صحیح طرح یاد بھی نہیں کہ ہوا کیا تھا اگر مجھے یاد ہوتا تو میں کچھ بتا سکتی تھی کہ یہ کن حالات میں ہوا تھا ، کیا مسائل تھے، ایسا کیا ہوا تھا کہ وہ بالکل اس طرح انجانوں کی طرح سوال کر رہی ہیں۔ میزبان نے مزید کہا کہ مجھے ایک بات کا شکوہ ہے کہ میں نے ہزاروں بہت اچھے شو بھی کیے ہیں جن کا فیڈ بیک بھی بہت اچھا آتا ہے مگر ان میں کی گئی کوئی اچھی بات کبھی بھی وائرل نہیں ہوتی جس پر مجھے بہت زیادہ دُکھ ہوتا ہے۔

Close