مسجد کا تقدس پامال کرنے پر صبا قمر کے وارنٹ جاری

مسجد کا تقدس پامال کرنے کے ایک برس پرانے کیس میں بالآخرلاہورکے ایک جوڈیشل مجسٹریٹ نے اداکارہ صبا قمراورگلوکار بلال سعید کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں جس کی وجہ سے دونوں پریشانی کا شکار ہوگئے ہیں۔
دونوں کے خلاف گزشتہ برس اگست میں لاہور کی تاریخی مسجد وزیر علی خان میں گانے کی شوٹنگ کے دوران مسجد کا ’تقدس پامال‘ کرنے کا مقدمہ دائر کروایا گیا تھا۔ اس کیس میں سیشن کورٹ نے دونوں کی ضمانت میں توثیق بھی کردی تھی مگر تازہ سماعت پر پیش نہ ہونے پر ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں۔8 ستمبر کو لاہور کے ایک جوڈیشل میجسٹریٹ کی عدالت میں دونوں کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں بلال سعید اور صبا قمر کو بھی پیش ہونا تھا مگر وہ پیش نہ ہوسکے۔ عدالت میں پیش نہ ہونے پر جوڈیشل میجسٹریٹ نے دونوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے لیکن ساتھ ہی انہیں گرفتاری سے بچنے کے لیے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کی ہدایت بھی کی گئی۔
صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف پروسیکیوشن کی جانب سے مکمل چالان پیش کیے جانے کے بعد ان کے کیس کی تازہ سماعت ہوئی تھی۔عدالت نے دونوں کی عدم پیشی کے باعث ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے لیکن ساتھ ہی دونوں کو گرفتاری سے بچنے کے لیے 30 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کی ہدایت بھی کی۔عدالت نے دونوں کو ہدایت کی کہ وہ 6 اکتوبر کو ہونے والی عدالتی سماعت سے قبل ضمانتی مچلکے جمع کروائیں۔
پروسیکیوشن کی جانب سے جمع کرائے گئے چالان میں بلال سعید اور صبا قمر پر مسجد وزیر علی خان میں ویڈیو شوٹ کرنے سمیت ’تقدس پامال‘ کرنے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔دونوں کے خلاف ابتدائی طور پر دفعہ 295 پ کے تحت لاہور کے اکبری گیٹ تھانے میں عدالتی حکم کے بعد مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔
دونوں کے خلاف ایڈووکیٹ سردار منظور چانڈیو کی مدعیت میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا اور انہوں نے ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔مقدمہ دائر ہونے کے بعد دونوں ملزمان کو عدالت نے طلب بھی کیا تھا اور دونوں ستمبر 2020 میں ہونے والی سماعتوں میں پیش بھی ہوئے تھے اور انہوں نے ضمانت حاصل کی تھی۔
دونوں کے خلاف اگست 2020 میں جاری کیے گئے گانے ’قبول‘ کو جاری کرنے کے بعد مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔’قبول‘ میں بلال سعید اور صبا قمر کو مسجد وزیر علی خان میں نکاح کی رسم ادا کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا لیکن ان پر اس وقت الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر مسجد کی حدود میں رقص بھی کیا۔دونوں اداکاروں نے مسجد کی حدود میں رقص کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے مسجد میں صرف نکاح کی رسم کی شوٹنگ کی تھی اور اس ضمن میں انتظامیہ سے باضابطہ طور پر اجازت بھی لی گئی تھی۔

Close