عورت جو مرضی پہنے، مرد آنکھوں کا پردہ کریں

کچھ عرصے سے دین کی خاطر شوبز دنیا سے دوری اختیار کرنے والے اداکار حمزہ علی عباسی نے انکشاف کیا ہے کہ وہ آج کل اسلامی تعلیمات کے حوالے سے ایک کتاب لکھ رہے ہیں جو جلد سامنے آ جائے گی۔ انہوں نے کہا کی اسلامی تعلیمات کے مطابق خواتین چاہے جیسا بھی لباس پہنیں، وہ اپنے اعمال جبکہ مرد اپنے اعمال کا حساب دیں گے۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ مردوں کو عورتوں کے لباس سے قطع نظر اپنی نظروں کا پردہ رکھنا چاہیئے۔ ایک انٹرویو میں حمزہ علی عباسی نے پاکستانی معاشرے میں مذہبی تعلیمات سمیت دیگر سماجی مسائل پر بھی بات کی اور ساتھ ہی اپنی جلد شائع ہونے والی کتاب سے متعلق بھی مداحوں کو بتایا۔ حمزہ علی عباسی نے بتایا کہ جلد ہی ان کی کتاب پڑھنے والوں کے سامنے آئے گی جس میں لوگوں کو ان تمام سوالوں کے جوابات مل جائیں گے جو وہ ان سے کرتے ہیں۔
حمزہ علی عباسی کے مطابق ان کی کتاب بمشکل 100 صفحات پر مشتمل ہوگی اور وہ اسے کتاب نہیں بلکہ ایک دستاویز کا نام دیتے ہیں جس میں صرف ان سوالوں کے جوابات ہوں گے جو ان سے پوچھے جاتے ہیں کہ انہوں نے کیوں مذہبی راہ اختیار کی اور ان کی زندگی میں ایسے کون سے واقعات آئے جن سے تبدیلی ممکن ہوئی؟ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں کتاب لکھنے میں دوسرے لکھاری کی مدد حاصل ہے۔ حمزہ علی عباسی نے مرد و خواتین کے لباس اور معاشرے میں پھیلنے والی بے راہ روی کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کوئی بھی شخص کسی دوسرے کے اعمال کا ذمہ دار نہیں ہے ، ہر کسی کو اپنی نیتوں کا جواب دینا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین جیسا بھی لباس پہنیں، ان کی مرضی ہے مگر وہ اس سے متعلق خود ہی جوابدہ ہیں، ان سے ان کے اعمال، لباس اور طرز زندگی سے متعلق پوچھا جائے گا۔ حمزہ علی عباسی نے کہا کہ اگر روز محشر خواتین بولڈ لباس پہننے کے حوالے سے یہ توجیح دیں گی کہ معاشرہ ہی ایسا تھا جس وجہ سے انہوں نے مختصر لباس پہنا تو ان کا جواب قابل قبول نہیں ہوگا کیونکہ ہر کسی نے اپنے اعمال کا جواب دینا ہے ۔ انہوں نے خصوصی طور پر مرد حضرات کو یاد دلایا کہ وہ اپنے اعمال ٹھیک کرلیں، ان سے ان کی نظروں اور حیا سے متعلق پوچھا جائے گا۔
حمزہ علی عباسی نے کہا کہ ہر مرد کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا اور ان کا بھی یہ جواب قابل قبول نہیں ہو گا کہ معاشرے کی وجہ سے وہ بے راہ روی کا شکار ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ مرد حضرات سے زیادہ سوالات ہوں گے کیونکہ وہی اس وقت بولڈ چیزوں کے استعمال کے سب سے بڑے صارف ہیں، وہی پیسوں سے چیزیں خریدتے ہیں اور پھر بعض خواتین کو ہراساں بھی کرتے ہیں۔ پاکستانی خواتین کے لباس اور ریپ کے واقعات پر وزیر اعظم کے بیان سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ان کے خیال سے عمران کی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، حمزہ علی عباسی کے مطابق کسی حد تک وزیراعظم کی بات ٹھیک تھی کیونکہ عمران خان کا اشارہ مغربی ممالک میں عریانیت کی جانب تھا۔ان کے مطابق وزیر اعظم نے خواتین کے مختصر لباس کی بات اس لیے کی کیونکہ ہمارے ملک میں بولڈ لباس کو معیوب سمجھا جاتا ہے اور ہمارے ہاں قحبہ خانے یا ڈانس کلب بھی نہیں اور نہ ہی ایسی چیزوں کو ہمارا معاشرہ قبول کرتا ہے۔
حمزہ علی عباسی نے کہا کہ مغربی ممالک میں تو لوگ اپنی فرسٹریشن نکالنے کے لیے ڈانس کلبز کا رخ کرتے ہیں مگر ہمارے ہاں ایسی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اپنی فرسٹریشن خواتین و بچوں پر نکالتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ڈانس کلب یا قحبہ خانوں کی حمایت نہیں کر رہے اور نہ ہی خواتین کے مختصر لباس پر تنقید کر رہے ہیں بلکہ وہ عمران خان کی جانب سے دیئے گئے بیان کی اپنے نظریے سے وضاحت کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے رواں برس جون میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ خواتین اگر مختصر لباس پہنیں گی تو اس کا اثر مرد حضرات پر ہوگا۔وزیراعظم کے مذکورہ بیان پر انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا اور بعد ازاں جولائی میں انہوں نے ایک اور امریکی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ خواتین کی مرضی ہے وہ جیسا لباس پہنیں مگر غلط کام کرنے والا مرد ہی مجرم ہوگا۔

Close