جسٹس عائشہ ملک کی عدم تقرری پر خواتین تنظیمیں مایوس

وکلاء کے احتجاج کے بعد لاہور ہائیکورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں ترقی کا معاملہ لٹک جانے پر حقوقِ نسواں کی علمبردار خواتین نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ میں خواتین کی نمائندگی میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان میں حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اعلیٰ عدلیہ میں خواتین کی کم نمائندگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر خواتین کا ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ میں کوٹا بڑھائے جبکہ نچلی عدالتوں میں بھی ان کی نمائندگی میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ دوسری طرف ملک بھر کی وکلاء تنظیموں کی جانب سے اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کے تقرر میں سینیارٹی اصول کو نظر انداز کیے جانے پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔ وکلاء برادری کا کہنا ہے کہ اس نے جسٹس عائشہ کے تقرر کی مخالفت ان کے خاتون ہونے کی وجہ سے نہیں کی بلکہ اصولوں کی بنیاد پر کی ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسویشن نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ اور پنجاب سے جونیئرز ججز کو سپریم کورٹ میں لایا جارہا ہے اور سینیارٹی کے اصول کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ بار نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن یا کسی اور بار ایسوسی ایشن نے جج عائشہ ملک کی مخالفت صنفی بنیادوں پر کی۔
یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں ترقی کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے حالیہ اجلاس میں اکثریتی ووٹ نہ حاصل کرنے پر عائشہ ملک کی تقرری کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔ حقوق نسواں کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے یہ صورتحال مایوس کن ہے۔ ویمن ایکشن فورم سے وابستہ مہناز رحمان کا کہنا ہے کہ خواتین تاریخی طور پر اس شعبے سے دور رہی ہیں کیونکہ تاریخی طور پر اس شعبے میں عورتوں کی تعداد کم رہی ہے اس لیے ان کی اعلیٰ عدلیہ میں نمائندگی بھی کم ہوگئی ہے۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کے اعلیٰ عدلیہ میں اور نچلی عدالتوں میں بھی خواتین کی نمائندگی پچاس فیصد کرے اور اگر 50 فیصد ممکن ہو تو کم از کم یہ تینتسس فیصد ہونی چاہیے۔ مہناز رحمان کا کہنا تھا کہ اصولی طور پر تمام تقرریاں میرٹ کی بنیاد پر ہونی چاہئیں لیکن کئی معاشروں میں ایسا ہوتا ہے کہ جب وہاں کچھ طبقات پیچھے رہ جاتے ہیں تو ان کو آگے لانے کے لیے مختلف نوعیت کے انتظامات کیے جاتے ہیں تاکہ ان کی مناسب نمائندگی مختلف اداروں میں ہو سکے۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ نچلی عدالتوں میں جو تقرریوں کے لیے امتحانات ہوتے ہیں اس کے حوالے سے خواتین کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جائے تاکہ خواتین کی بڑی تعداد ان عدالتوں میں بھی جائے جبکہ اعلیٰ عدالتوں میں بھی ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ ہماری اعلیٰ عدلیہ میں بھی ان کی مناسب نمائندگی ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ اب سول سروسز میں بھی خواتین کی بہت بڑی تعداد آ رہی ہے اور وہ بڑے پیمانے پر مقابلے کے امتحانات میں کامیاب ہو رہی ہیں جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین میں مطلوبہ صلاحیت موجود ہے اور اگر وہ چاہیں تو اپنی صلاحیت کا لوہا ہر شعبے میں منوا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تقرریوں میں بار ایسوسی ایشنز کا بڑا کردار ہوتا ہے اور وہاں پر خواتین کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ بار کے انتخابات میں جو مختلف گروپس حصہ لیتے ہیں ان پر یہ پابندی عائد کی جانی چاہیے کہ وہ اپنے عہدے داروں کا ایک بڑا حصہ خواتین پر مشتمل کرے تاکہ خواتین کی بار ایسوسی ایشنز میں اچھی خاصی نمائندگی ہو جائے۔ نمائندگی مناسب ہوگی تو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں خواتین کو مناسب نمائندگی مل سکے گی۔
اس حوالے سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سربراہ لطیف آفریدی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ وکلاء برادری کسی بھی جج کی تقرری کی مخالفت صنفی بنیادوں پر نہیں کرتی بلکہ اس کا مطالبہ میرٹ کا اور سینیارٹی کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شعبہ وکالت میں خواتین کو بہت سارے مسائل کا سامنا ہے۔ ان کو ہراساں بھی کیا جاتا ہے اور ان کو اور بھی دوسرے مسائل کا سامنا ہے لیکن جج عائشہ ملک کی تقرری کی مخالفت صنفی بنیاد پر نہیں کی گئی ہے بلکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں تقرریاں کرتے وقت سینیارٹی کے اصول کو مدنظر نہیں رکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے وکلاء برادری ان چیزوں کی مخالفت کر رہی ہے اور اس میں صرف کسی خاتون جج کی مخالفت نہیں کی گئی بلکہ ایسے مردوں کی بھی مخالفت کی گئی ہے جو سنیارٹی نہیں رکھتے لیکن وہ اعلیٰ عدالتوں تک پہنچ رہے ہیں۔لطیف آفریدی کے بقول سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دوسری بار ایسوسی ایشنز اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ عدلیہ میں خواتین کی نمائندگی مناسب نہیں ہے اور اس کے لیے انہوں نے تجاویز بھی دی ہیں۔ لطیف آفریدی نے کہا کہ ہماری تجویز یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی موجودہ تعداد سترہ ہے جسے بڑھا کے 27 کر دینا چاہیے اور اس میں کم از کم پانچ خواتین ضرور ہوں۔ بالکل اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ عدلیہ کے مختلف اداروں میں خواتین کی نمائندگی کم از کم 33 فیصد ہونی چاہیے۔

Close