کیا آئین شکنوں کی مخالفت کرنے والے ریاست دشمن ہیں؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ کسی بھی ادارے کو ملک کے سفید سیاہ کا مالک بنا دینا ہمارے متفقہ آئین کی پامالی کے مترادف ہے کیوں کہ آئین یہ اختیار عوام کی منتخب پارلیمنٹ کو دیتا ہے۔ لہازا ایسا کرنا آئینی بدعنوانی کی بدترین قسم ہے۔ پاکستان کی ریاست کا ایک آئین ہے اور اسکے تحت قوانین بھی موجود ہیں جن کی سربلندی ضروری ہے۔ لیکن جب ریاست کا کوئی ادارہ غیر آئینی اقدام کرتا اور اپنے اختیارات سے تجاوز کرتا ہے تو اس عمل کو بدترین آئینی بدعنوانی قرار دینا سو فیصد درست ہے اور اس بدعنوانی کی مخالفت کرنے والوں کو کسی طرح بھی ریاست دشمن قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ہفت روزہ فرائیڈے ٹائمز کے لئے اپنے تازہ ایڈیٹوریل میں نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہیے کہ نواز شریف کوئی فرشتہ نہیں۔ اُنہیں بھی ایک غیر آئینی نظام نے پالا تھا، جیسے آج عمران خان کو پالا جا رہا ہے۔ جیسے تب نواز شریف کی مخالفت کرنا اور انہیں بے نقاب کرنا درست تھا، اسی طرح آج عمران خان کی مخالفت کرنا اور انہیں بے نقاب کرنا بھی غلط نہیں۔ لیکن ہمیں ایک اور حقیقت بھی تسلیم کرنی پڑے گی کہ گزشتہ دہائی میں حاصل ہونے والے تجربات نے نواز شریف کو سیاسی طور پر بالغ اور باشعور کر دیا ہے۔ اب وہ طاقت ور ریاستی اداروں کی پاکستانیوں کی زندگی اور آزادی پر روا رکھی جانے والی غیر آئینی مداخلت کو چیلنج کررہے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے اُنہوں نے اپنے ذاتی تحفظ، مالی وسائل کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ غیر جمہوری طریقے سے اقتدار کی پیش کش کو بھی ٹھکرا دیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں نواز شریف نے اہنے فکری ارتقا کے بعد اس آئینی بدعنوانی کو شناخت کیا ہے اور اپنی تمام تر توانائیوں کا رخ ریاست اور معاشرے کے درمیان پائے جانے والے بنیادی تضاد کو ختم کرنے پر مرکوز کر دیا ہے۔ اس کی پاداش میں اُنہیں قیدو بند اور جلاطنی کا سامنا ہے۔ اور آئینی بدعنوانی کے خلاف انکا یہی سیاسی بیانیہ آج ہماری حمایت کا متقاضی ہے۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ 2013ء میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے ”کرپشن انڈکس“ پر پاکستان 179 ممالک میں 127 ویں درجے پر تھا۔ نواز شریف کے دور یعنی 2014 سے 2018 کے دوران اسکا درجہ کچھ بہتر ہوکر 117 تک آ گیا۔ تو کیا اسکا مطلب یہ ہوا کہ تب کا پاکستان اور اُس کے حکمران ”کم بدعنوان“ تھے؟ 2018 سے 2020 کے دوران عمران خان کے اقتدار کے تین برسوں میں پاکستان دوبارہ 124 ویں درجے پرچلا گیا۔ تو کیا اسکا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اور اس کے حکمران ”زیادہ بدعنوان“ہیں؟ اس کے باوجود شہروں میں رہنے والے زیادہ تر ”تعلیم یافتہ“ پاکستانیوں کا اصرار ہے کہ نواز شریف اور ان کے ساتھی بدعنوانی میں لتھڑے ہوئے تھے جب کہ عمران خان اور ان کے ساتھی دودھ کے دھلے ہیں۔
نجم سیٹھی یاد دلاتے ہیں کہ نواز شریف کو عوامی عہدہ رکھنے سے نااہل قرار دے دیا گیا کیوں کہ وہ ایک معمولی سی رقم اپنے کاغذات میں ظاہر کرنے میں ناکام رہے جو اُنہوں نے وصول بھی نہیں کی تھی۔ اُنہیں ”بدعنوانی“ کی پاداش میں سزا اس لیے ہوئی کیوں کہ وہ اپنے والد مرحوم کی کچھ اثاثوں کی ”تسلی بخش“ منی ٹریل فراہم نہ کر سکے، حالاں کہ بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی تھی۔ لیکن عمران خان اسلام آباد میں اربوں روپوں مالیت کی وسیع وعریض جائیداد میں رہتے ہیں جہاں ان کے سالانہ اخراجات کروڑوں روپے ہوں گے لیکن اس جائیداد کو سی ڈی اے نے برق رفتاری سے ”ریگولر“ کردیا۔ اُن کے زمان پارک، لاہورمیں آبائی گھر کی تزئین و آرائش پربھی کروڑوں روپے خرچ ہوئے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان تحریک انصاف کے غیر ملکی مشکوک عطیات پر فیصلہ لینے سے خائف ہے۔ اس سب کے باوجود وہ وزارت اعظمی کے منصب پر براجمان ہیں کیوں کہ ان سب امور میں کسی کو بدعنوانی کی جھلک دکھائی نہیں دیتی۔
نواز شریف پر 2013 ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا حالاں کہ وہ منظر پر موجود نہیں تھے۔ ایک سابق چیف جسٹس آف پاکستان کے انکوائری کمیشن کے مطابق وہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوئے تھے۔ 2018ء کے عام انتخابات میں نصف شب کو نامعلوم طور پر آرٹی ایس سسٹم بیٹھ گیا اور عمران خان جیت گئے۔ اُس وقت کے نادرا کے سربراہ کا کہنا تھا سسٹم کو جان بوجھ کر بند کیا گیا تھا۔ اسی دوران تحریک انصاف کو چالیس کے قریب اضافی نشستیں دلا دی گئیں۔ نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ اب عمران خان دھاندلی زدہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں، آرٹی ایس اور ستر لاکھ سمندرپار پاکستانیوں کے انٹرنیٹ کے ذریعے ارسال کردہ ووٹوں کے بل بوتے پر دوسری مدت کے لیے جیتنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ الیکشن کمیشن اور حزب اختلاف کی جماعتیں ان اقدامات کے خلاف ہیں۔ لیکن کسی کو ان میں بدعنوانی کا شائبہ تک دکھائی نہیں دیتا۔ نیب نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے راہ نماؤں اور حامیوں کے خلاف بدعنوانی کے درجنوں کیسز کھول رکھے ہیں لیکن گزشتہ تین برسوں میں ایک بھی ثابت نہیں ہوسکا۔دوسری طرف نیب نے تحریک انصاف کے کسی راہ نما کو انگلی تک نہیں لگائی۔ نہ ہی شوگر، گندم، بی آرٹی اور مالم جبہ کک بیکس کی رپوٹوں اور روزانہ کی بنیاد پر پنجاب حکومت میں ہونے والی بھاری بھرکم بدعنوانی پر کوئی پیشانی شکن آلودہوئی۔ تواتر سے ہونے والے اعلیٰ اور نچلی سطح پر تبادلوں اور تقرریوں میں بدعنوانی کاعمل دخل بھی کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔
سیٹھی کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کے سیاست دانوں کی انفرادی بدعنوانی کی یک طرفہ طور پر تیار کردہ غیر ثابت شدہ رپورٹوں کے دوسری طرف ریاستی اداروں کی منظم بدعنوانی ہے۔ سرکاری افسران، جنرل اور جج قیمتی پلاٹ اور سرکاری زمین اپنے نام الاٹ کرا لیتے ہیں۔ وہ سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے بہت سی سہولیات اور فوائد حاصل کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس لیے کر سکتے ہیں کیوں کہ قوانین اُنہیں اس کی اجازت دیتے ہیں۔ اور یہ قوانین اُنہوں نے خود ہی بنائے ہوتے ہیں۔ ان سب کے باوجود وہ باعزت افراد کہلاتے ہیں، اور یہ بدعنوانی نہیں ہے۔ تاجر اور کاروباری افراد واجب الادا ٹیکس نہیں دیتے کیوں کہ وہ ٹیکس جمع کرنے والوں کو رشوت دے سکتے ہیں۔ لیکن انہیں معیشت چلانے والا انجن قرار دیا جاتا ہے۔ اس لیے یہ بھی بدعنوانی نہیں۔ بڑے بڑے جاگیر داروں کی پارلیمنٹ میں توانا موجودگی ہے۔ وہ زرعی آمدنی یا دولت ٹیکس پر قانون سازی نہیں ہونے دیتے۔ لیکن وہ اس دھرتی کے سپوت ہیں، اس لیے ٹیکس نہ دینا کوئی بدعنوانی نہیں۔ بہت سے چوٹی کے پیشہ ور ماہرین اپنی اصل آمدنی کے بہت کم حصے پر ٹیکس دیتے ہیں۔ لیکن اُن کا شمار بھی معاشرے کے معززین میں ہوتا ہے،اور یہ بھی بدعنوانی نہیں۔
نجم سیٹھی کے خیال میں درحقیقت بدعنوانی ایک طرز زندگی ہے جو صرف سیاست دانوں اور ریاست کے افسران تک ہی محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں معاشرے اور اس کے معاشی طور پر خوش حال طبقوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ کم یا زیادہ، کسی نہ کسی شکل میں ہر سیاسی نظام میں موجود رہتی ہے۔ حکمران جمہوری ہوں یا آمر، سولین ہوں یا فوجی، دونوں کا حال اس حمام میں ایک جیسا ہے۔ سرمایہ دارامریکا میں جمہوری حکمران، کارپوریٹ باس، بنکار اور سٹاک بروکر دولت کی مارکیٹ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اسی طرح پنٹاگان کے جنرل، اسلحہ ساز کمپنیاں اور کنٹریکٹر جنگوں کے ذریعے بھاری کمیشن اور بونس وصول کرتے ہیں، جیسا کہ ہم نے مشرق وسطیٰ اور افغانستان میں لڑی جانے والی امریکا کی جنگوں میں کئی ٹریلین ڈالروں کی گردش دیکھی۔
لیکن سیٹھی کے مطابق پاکستان میں مالی بدعنوانی کا دائرہ بہت زیادہ پھیل جانے کا باوجود جناح کے پاکستان کا اصل نقصان ملک میں ہونے والی آئینی بدعنوانی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ لیکن افسوس کہ اس ناقابل معافی اور ناقابل تلافی بدعنوانی کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں ہو رہی جسکی وجہ سے ہمارے معاشرے کی بنیادیں کھوکھلی ہو رہی ہیں اور ملک سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی پن کا شکار ہے؟ سیٹھی کہتے ہیں کہ فوج کی بالادستی، اکثریت کے جبر، انتخابی دھاندلی، انصاف سے محرومی، اور ہائیبرڈ نظام نے اس اعتماد اور یقین کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں جو عوام اور حکمرانوں کے مابین پایا جاتا ہے اور جس پر جدید ریاست اور قوم کی بنیاد استوار ہوتی ہے۔ احتساب سے بالا تر طاقت ور ریاستی اداروں نے پاکستان میں جتنی بھی آئینی حکومتیں ختم کیں، اس کے لیے مالی بدعنوانی کو جواز بنایا گیا۔ لیکن نجم سیٹھی کے مطابق عوام کی منتخب شدہ حکومت کو برطرف کرنا بذات خود ایک آئینی بدعنوانی ہے جو بر طرف کرنے کے جواز سے کہیں بڑھ کرسنگین ہے۔ انتخابی دھاندلی کا ہر اقدام ایک نئی حکومت کی تبدیلی سے بڑی آئینی بدعنوانی ہے۔ کسی بھی ادارے کو ملک کے سفید سیاہ کا مالک بنا دینا ہمارے متفقہ آئین کی پامالی کے مترادف ہے کیوں کہ آئین یہ اختیار عوام کی منتخب پارلیمنٹ کو دیتا ہے۔ لہازا یہ بدعنوانی کی بدترین قسم ہے۔ ریاست پاکستان قانون اور آئین رکھتی ہے، اور انہی کی سربلندی درکار ہے۔ لیکن جب ریاست کا کوئی ادارہ غیر آئینی اقدام کرتا اور اس میں مداخلت کرتا ہے تو اس اقدام کو بدترین بدعنوانی قرار دینا سو فیصد درست ہے اور اس بدعنوانی کی مخالفت کرنے کو کسی بھی صورت ”ریاست دشمنی“ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

Close