کیا طالبان القاعدہ سے قطع تعلقی کا وعدہ نبھائیں گے؟

افغانستان پر طالبان کے مکمل قبضے کے باوجود ابھی تک یہ واضح نہیں ہو پایا کہ آیا کابل کے نئے حکمران دوحہ معاہدے کے مطابق القاعدہ سے مکمل طور پر تعلقات ختم کرنے کا وعدہ نبھائیں گے یا نہیں۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ طالبان نے ابھی تک القاعدہ سے اپنے تعلقات منقطع نہیں کیے اور انکے پاس القاعدہ سے وابستہ ایسے لوگوں کی فہرست موجود ہے جو افغانستان کے مختلف صوبوں میں طالبان کے ہمراہ لڑتے ہوئے مارے گے۔یاد رہے کہ نائن الیون حملوں کے بعد تب کے طالبان امیر ملا عمر نے القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد افغانستان پر امریکی حملے کے نتیجے میں طالبان کو شکست ہو گئی تھی۔

آج بھی افغان طالبان رہنما پرائیویٹ محفلوں میں تو تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے القاعدہ کی خاطر اپنی پچھلی حکومت بھی گنوائی لیکن انہوں نے کبھی کھلے عام یہ نہیں مانا کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کو پناہ دی اور افغانستان کی سرزمین کو نائن الیون حملوں کی تیاری کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی۔ طالبان امور کے ماہر سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی عرب نیوز میں شائع ہونے والے اپنے تازہ تجزیے میں کہتے ہیں کے طالبان اس بارے میں یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ وہ نائن الیون کے حملوں کے بعد افغانستان پر امریکی حملے کے نتیجے میں اپنی طاقت کھو بیٹھے تھے، کیونکہ بش انتظامیہ نے اکتوبر 2001 میں القاعدہ کو تباہ کرنے اور اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کی وجہ سے طالبان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے انتقامی حملے کا آغاز کیا تھا۔ طالبان نے نجی اور عوامی طور پر جو موقف اختیار کیا ہے اس کے درمیان فرق ظاہر کرتا ہے کہ ملا عمر کا بنایا ہوا طالبانی گروہ حملوں کی ذمہ داری نہیں لینا چاہتا- اسامہ کو امریکہ کے حوالے کرنے سے طالبان کے انکار کا مطلب یہ تھا کہ وہ اس کے جرائم بارے بے خبر تھے۔

ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ کیا طالبان نائن الیون کے بعد کے 20 سال میں القاعدہ سے وابستہ رہے ہیں یا نہیں، تاہم امریکہ اور اقوام متحدہ یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ طالبان نے القاعدہ سے اپنے تعلقات منقطع نہیں کیے۔ امریکہ نے قوام متحدہ کو القاعدہ کے ایسے ارکان اور ان سے وابستہ افراد کے نام بھی فراہم کیے ہیں جو افغانستان کے مختلف صوبوں میں طالبان کے ہمراہ لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے ہیں۔ لیکن افغان طالبان نے ان دعوؤں کو پروپیگنڈا قرار دیا ہے اور ان کی تردید کی ہے۔ رحیم اللہ یوسفزئی کے خیال میں یہ ردعمل حیران کن نہیں ہے کیونکہ 29 فروری 2020 میں طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے طالبان دوحہ امن معاہدے کی شرائط کے تحت طالبان کو القاعدہ سے خود کو الگ کرنا لازم قرار پایا تھا۔

طالبان کا القاعدہ کے ساتھ شروع سے ہی ایک پیچیدہ اور متنازع سا تعلق تھا جس کے بارے میں متضاد آرا تھیں کہ آیا ان میں سے کون کس کو کنٹرول کرتا ہے۔ عام مغربی نکتہ نظر یہ تھا کہ القاعدہ نے طالبان کو فنڈز فراہم کیے اور انہیں منظم کیا لیکن طالبان رہنماؤں نے اس دعوے سے اختلاف کیا اور دلیل دی کہ وہ افغانستان میں اقتدار میں تھے اور بااختیار تھے۔ یہ تعلق کافی عجیب تھا کیونکہ طالبان افغان تھے۔ ان کی جنگی مہارت اور تین عالمی طاقتوں (برطانیہ، سوویت یونین اور امریکہ) سمیت دیگر حملہ آوروں کے خلاف مزاحمت کی شہرت تھی۔ دوسری جانب القاعدہ کے اراکین زیادہ تر مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے عرب تھے جو مختلف وجوہات سے متاثر ہو کر جنگ کے وقت افغانستان کی طرف کھنچے چلے آئے تھے۔

رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ اسامہ اور طالبان قیادت کے درمیان پہلی ملاقات 26 ستمبر 1996 کو طالبان کے ہاتھوں سقوط کابل سے چند دن پہلے جلال آباد میں ہوئی تھی۔ ایک طالبان کمانڈر ملا محمد صادق کی قیادت میں ایک وفد کو اسامہ بن لادن کے گھر ملاقات کرنے اور ان کے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں جاننے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ تب کی طالبان قیادت کو کوئی اندازہ نہیں تھا کہ اسامہ جلال آباد میں ہی رہیں گے یا پھر افغانستان چھوڑ دیں گے یا طالبان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کرنے والے افغان مجاہدین کا ساتھ دیں گے۔ انہی دنوں طالبان جنگجوؤں نے جلال آباد پر قبضہ کیا تھا اور وہ کابل کی جانب بڑھ رہے تھے۔

رحیم اللہ یوسفزئی لکھتے ہیں کہ میں اس بات چیت کا گواہ تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ اسامہ کے ساتھ مذاکرات سے پہلے طالبان کا ایک متفقہ موقف ترتیب دیا جا سکے۔ وہاں سب نے اسامہ کے ارادوں کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور القاعدہ کے سربراہ کو طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں رہنے کی اجازت سے قبل دوٹوک موقف اپنانے کا فیصلہ کیا۔ پھر بالآخر یہ مسئلہ حل ہو گیا جب اسامہ نے یقین دہانی کرائی کہ وہ طالبان کے وفادار رہیں گے اور ملا عمر کو امیر المومنین کے طور پر قبول کریں گے۔ اس کے فوراً بعد اسامہ نے ملا عمر کی بیعت کی، جس کی اطلاع ایک انٹرویو کے ذریعے طالبان سربراہ کو پہنچائی گئی۔

رحیم اللہ یوسف زئی کے بقول وہ انٹرویو انہی نے کیا تھا۔ طالبان کے سپریم لیڈر کو امیر المومنین کہا جاتا تھا کیونکہ اس کے پاس اس گروپ سے متعلق ہر معاملے کا حتمی اختیار ہوتا تھا۔ وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں تھا جبکہ ہر رکن اس کے سامنے جواب دہ تھا۔ انکامکہنا ہے کہ طالبان اور القاعدہ دونوں کو اگر کسی مشترک عنصر نے مضبوط اور باہم مربوط رکھا ہوا ہے تو یہ ان کی عسکری گروہوں کے طور پر متحد طریقے سے موجود رہنے کی صلاحیت ہے۔ بصورت دیگر یہ دونوں گروہ کئی بار تقسیم ہو سکتے تھے۔ جب 1994 کے موسم خزاں میں قندھار میں تحریک طالبان ابھری تو ان کا یہ فیصلہ کہ ایک سپریم لیڈر ہونا چاہیے، مختلف گروہوں کو مربوط رکھنے میں اہم ثابت ہوا۔ 27 برس کے اس طویل عرصے میں طالبان اپنے بعض اراکین کے حریف افغان مجاہدین گروپوں کی طرف راغب ہونے کے باجود بڑے پیمانے پر متحد رہے۔

رحیم اللہ کے مطابق تحریک طالبان میں چند معمولی نوعیت کی تقسیمیں ہوئیں لیکن کوئی اتنی بڑی تقسیم نہیں ہوئی جو اسے کمزور کر سکے۔ اب تک طالبان کے تین اعلیٰ رہنما رہے ہیں جن میں سے ایک ملا عمر تھے جو قندھار کے ایک گاؤں کے نیم خواندہ مولوی تھے۔ وہ اس تحریک کے بانی تھے اور 2016 میں اپنی موت تک اس کے سپریم لیڈر رہے۔ ان کی موت کو تقریباً دو سال تک خفیہ رکھا گیا کیونکہ دیگر طالبان رہنماؤں کو خدشہ تھا کہ سپریم لیڈر کی موت کے بعد یہ گروپ ٹوٹ سکتا ہے۔ دیگر دو سپریم لیڈر ملا اختر محمد منصور اور ہبت اللہ اخوندزادہ تھے۔ ملا اختر محمد منصور ایک متنازع کمانڈر تھے جو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے جبکہ تیسرے سپریم کمانڈر ایک معزز مذہبی اسکالر شیخ ہبت اللہ اخوندزادہ ہیں جنہوں نے طالبان کو اپنی اب تک کی سب سے بڑی عسکری فتح کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ افغانستان کے نئے حکمران طالبان دنیا کے ساتھ القاعدہ سے قطع تعلقی کرنے کا وعدہ پورا کرتے ہیں یا نہیں؟

Close