نور کا قاتل ظاہر جعفر خود کو ریمنڈ ڈیوس کیوں سمجھنے لگا؟

اسلام آباد میں ایک سفارتکار کی بیٹی نور مقدم کو سفاکی سے ذبح کرنے والے ظاہر جعفر نے قتل کا اعتراف تو کر لیا ہے لیکن وہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ امریکی شہری ہونے کے باعث اس پر پاکستان میں قتل کا مقدمہ نہیں چل سکتا۔ اس سلسلے میں وہ امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی مثال دے رہا ہے جسے دو پاکستانیوں کے قتل کے باوجود تب کے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے امریکی سی آئی اے کے دباو پر مقدمہ چلائے بغیر ہی پاکستان سے نکال دیا تھا۔
اسلام آباد پولیس نے نور مقدم کیس میں جو چالان جمع کروایا ہے اس کے مطابق اپنی جان بچانے کی سرتوڑ کوشش کرنے والی نور مقدم کو سفاک قاتل ظاہر جعفر کے مالی نے بھاگنے نہیں دیا، کیونکہ وہ اپنی نوکری کر رہا تھا، گھر کے چوکیدار نے اس کے نکلنے کے لیے دروازہ نہیں کھولا کیونکہ وہ اپنی روزی بچا رہا تھا، قاتل باپ نے بیٹے کو دلاسہ دیا کہ پتر ! گھبرا نہیں، میں لڑکی کی لاش ٹھکانے لگانے کے لیے بندے بھیج رہا ہوں، تھراپی ورکس کے ملازمین نے ملزم کو بچانے کیلیے جھوٹ بولا،،قاتل کی ماں نے اپنے سانپ نما بیٹے کو بچانے کیلیے بڑی بڑی ہستیوں کو فون کھڑکا دیے تاکہ اسے راتوں رات بیرون ملک روانہ کیا جا سکے۔ تاہم ظاہر جعفر پولیس کے قابو میں آنے کے بعد اب ٹرائل سے بچنے کے لیے یہ جواز پیش کر رہا ہے کہ اس پر پاکستانی قانون لاگو نہیں ہوتا کیونکہ وہ امریکی شہری ہے۔ لیکن سفاک قاتل یہ بھول رہا ہے کہ وہ امریکی شہری تو ہے لیکن امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس جیسا نہیں ہے جس کی جان بچانے کے لیے امریکہ اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہ میدان میں اتر آئیں گے۔ لہذا قانونی ماہرین کا کہنا ہے ایک معصوم لڑکی کا سر تن سے جدا کرنے والے کا بچنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔
اسلام آباد پولیس نے نور مقدم قتل کیس میں عدالت میں جو عبوری چالان جمع کروایا ہے اس کے مطابق ملزم نے اپنے ارب پتی بزنس میں والد کو قتل کی اطلاع دی تو اُس نے کہا کی بیٹا گھبرانے کی ضرورت نہیں، ہمارے بندے آ رہے ہیں جو لاش وہاں سے نکال کر ٹھکانے لگا دیں گے۔ ایک سابق سفارت کار شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کو اسلام آباد میں رواں سال 20 جولائی کی شام کو قتل کر دیا گیا تھا۔ ظاہر جعفر اس قتل کا مرکزی ملزم ہے جبکہ ملزم کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی اعانتِ جرم کے الزام میں حراست میں ہیں۔ خیال رہے کہ ظاہر کے والدین کی درخواستِ ضمانت مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد کی عدالت نے کہا تھا کہ یہ ’ناقابلِ معافی‘ جرم ہے۔ اب اس کیس کی اگلی سماعت 23 ستمبر ہے جس پر عدالت نے تمام ملزمان بشمول اُن کو جن کی ضمانت ہو چکی ہے، انھیں طلب کر رکھا ہے۔ چالان وہ تفتیشی رپورٹ ہوتی ہے جو پولیس کی جانب سے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد عدالت میں جمع کروائی جاتی ہے۔ چالان ابھی حتمی نہیں ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے جب ظاہر لیپ ٹاپ اور موبائل فونز کی فورینزک رپورٹ سامنے آئے گی تو ایک ضمنی چالان مزید داخل کروایا جائے گا۔
چالان رپورٹ کے مطابق ظاہر جعفر نے نور مقدم کے قتل کا اعتراف کیا ہے جبکہ ڈی این اے رپورٹ میں مقتولہ کے ریپ کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نور مقدم نے ملزم ظاہر جعفر سے شادی سے انکار کیا تو ملزم نے اُسے زبردستی کمرے میں بند کر دیا اور اپنے چوکیدار سے کہا کہ وہ کسی کو بھی گھر کے اندر نہ آنے دیں۔ اس کے بعد ملزم نے نور کو قتل کر کے اُس کا سر دھڑ سے الگ کر کے اُسکا فون دوسرے کمرے میں چھپا دیا جو بعد میں ملزم کی نشان دہی پر اسی گھر کی الماری سے برآمد ہوا۔ پولیس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر ملزم کے والد ذاکر جعفر پولیس کو بروقت اطلاع دے دیتے تو نور مقدم قتل ہونے سے بچ سکتی تھیں۔ پولیس کے مطابق ذاکر جعفر اور اسکی والدہ نے اس واقعے میں اپنے بیٹے کی مدد ہے۔
چالان میں ملزم کا بیان نقل کیا گیا ہے جس کے مطابق تھراپی ورکس کے ملازمین نے ملزم کے قبیح فعل کو چھپانے اور شہادتیں ضائع کرنے کی کوشش کی۔ تھراپی ورکس کے زخمی ملازم امجد نے وقوعہ کا اندراج بھی نہیں کروایا اور طبی رپورٹ میں سڑک پر ہونے والے حادثے کو اپنے زخموں کی وجہ قرار دیا۔ پولیس کی عبوری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقتولہ واش روم سے چھلانگ لگا کر بھاگتی ہوئی گیٹ پر آئیں تو چوکیدار نے اُسے بھاگنے نہیں دیا اور مالی جان محمد نے بھی اُسے گیٹ نہیں کھولنے دیا۔پولیس کا مؤقف ہے کہ اگر مالی نے اُنھیں گیٹ کھولنے دیا ہوتا تو نور مقدم باہر جا سکتی تھیں۔ چالان میں مزید بتایا گیا ہے کہ نور میں زہر یا نشے کے اثرات نہیں پائے گئے ہیں جبکہ ملزمان کے ڈی این اے، مقتولہ اور ملزمان کے فونز اور لیپ ٹاپس کے فورنزک تجزیے کے نتائج اب بھی آنے باقی ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزم نے 19 جولائی کو امریکہ جانے کے لیے فلائٹ بک کروا رکھی تھی تاہم اُس نے سفر نہیں کیا۔
پولیس رپورٹ کے مطابق اس مقدمے میں 12 ملزمان کے خلاف ثبوت دستیاب ہیں اور چالان میں اُن کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے 18 گواہوں کی فہرست عدالت میں جمع کروائی ہے جس میں مدعی شوکت مقدم، تفتیشی انسپکٹر عبدالستار، نور مقدم کا پوسٹ مارٹم اور طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹرز، پولی کلینک ہسپتال کی ڈاکٹر شازیہ اور ڈاکٹر جہاں زیب، جائے وقوعہ سے انگلیوں کے نشانات اکٹھے کرنے والے اے ایس آئی بشارت حسین اور ظاہر جعفر کو قابو کرنے والے اے ایس آئی محمد زبیر مظہر شامل ہیں۔ دوسری جانب ظاہر جعفر امریکی ایمبیسی سے رابطے میں ہے اور اس کا موقف ہے کہ امریکی شہری ہونے کے باعث پاکستان میں اس پر قتل کا مقدمہ نہیں چل سکتا کیونکہ پاکستانی قانون اس پر لاگو نہیں ہوتا۔ تاہم قانونی ماہرین نے اس کا یہ مؤقف رد کیا ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ کیس کے نتیجے میں اسے سزائے موت سنائی جائے گے۔

Close