بھارت کا کشمیری مجاھدین کو بدنام کرنے کا منصوبہ بے نقاب

حکومت پاکستان نے عالمی برادری کے لئے بھارت کے خلاف جاری کردہ ایک ڈوزیئر میں موقف اپنایا ہے کہ انڈین حکومت عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کے تربیتی کیمپ اپنی سرپرستی میں چلا رہی ہے جہاں سے تربیت پانے والے دہشت گردوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھیج کر وہاں کی تحریک آزادی اور مجاھدین کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی جائے گی۔
پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں انڈین فوج کے جنگی جرائم، کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ایک دوزیئر یعنی تفصیلی دستاویز کا اجرا کیا ہے جو وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف اور وفاقی وزیرِ برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں پیش کیں۔ اس موقع پر دفترِ خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی ’سنگین خلاف ورزیوں‘ کے خاتمے کے لیے اقدامات پر مجبور کرنے کے لیے عالمی برادری کو آگاہ کرنا ضروری ہے اور یہ دستاویز اسی سمت میں ایک قدم ہے۔عاصم افتخار نے کہا کہ انڈین حکومت کی سرپرستی میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے تربیتی کیمپ ’شدید تشویش‘ کا باعث ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق انڈیا گلمرگ، رائے پور، جودھپور، انوپ گڑھ اور بیکانیر میں پانچ ایسے تربیتی کیمپ چلا رہا ہے۔اُنھوں نے کہا کہ ’ریاستی تربیت یافتہ داعش کے جنگجوؤں کو بھیج کر انڈیا کوشش کر سکتا ہے کہ تحریکِ آزادی کو بین الاقوامی دہشتگردی سے جوڑا جائے تاکہ آزادی کی جدوجہد کو بدنام کیا جا سکے اور اپنے جرائم کو انسدادِ دہشتگردی کے آپریشنز قرار دیا جائے۔‘
اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت نے یہ دستاویز جاری کرنے کا فیصلہ علیحدگی پسند کشمیری رہنما سید علی گیلانی کی وفات کے بعد انڈین حکام کے اقدامات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ واضح رہے کہ یکم ستمبر کو کشمیر کے عمر رسیدہ سیاسی رہنما سید علی گیلانی کی وفات کے بعد انڈین حکومت نے اُن کے جنازے اور تدفن عوام کو شرکت کی اجازت نہیں دی تھی۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں صورت حال اور وہاں حکومت کی سوچ کو دیکھتے ہوئے ‘ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم ’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘ کہلانے والی حکومت کا حقیقی چہرہ عوام کے سامنے لائیں۔‘
اس دستاویز میں زیادہ تر حوالے بین الاقوامی اور انڈین میڈیا اداروں کے ہیں یا پھر ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسے بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے۔ دستاویز کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں پہلا حصہ انڈین فوج کے جنگی جرائم اور نسل کشی پر مبنی اقدامات، دوسرا حصہ کشمیریوں کی مایوسی اور وہاں پنپنے والی مقامی مزاحمت، اور تیسرا حصہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی کا احاطہ کرتا ہے، جن کے تحت مقبوضہ وادی میں آبادیوں کی تبدیلی کی جا رہی ہے۔ اس دستاویز کو بیرونِ ملک موجود پاکستانی مشنز اور متعدد دیگر فورمز کو بھیجا جا رہا ہے اور اسے ’زیادہ سے زیادہ پھیلانے‘ کے لیے تمام طریقے استعمال کیے جائیں گے۔

Close