نوسرباز نے وفاقی وزیر بن کر قومی سٹارز کو چونا کیسے لگایا؟

اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے طلحہ طالب اور ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے شہروز کاشف نوسر بازوں کے ہاتھوں لاکھوں روپے گنوا بیٹھے۔ نوسر بازی کا شکار ہونے والے کوہ پیما شہروز کاشف کے والد کاشف سلیمان نے بتایا کہ مجھے اندازہ تھا کہ لوگ اس طرح کے فراڈ کرتے ہیں لیکن ہمیں کال کرنے والا شخص ہمارے بارے میں سب جانتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ ہماری وزیراعظم سے ملاقات ہونے والی ہے، ہماری فہمیدہ مرزا سے بھی ملاقات ہوئی۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ جب شہروز ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے جا رہے تھے تو انہوں نے اپنی گاڑی بیچی تھی۔ اسی طرح کاشف سلیمان نے بتایا کہ ہمیں ایک شخص نے کال کر کے بتایا کہ ہولڈ کریں وزیر برائے ایوی ایشن غلام سرور آپ سے بات کرنا چاہ رہے ہیں۔ اس کے بعد ایک اور شخص نے مجھ سے بات کی جو بظاہر وزیر ایوی ایشن خود تھا۔ اس نے مجھ سے شہروز کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں ہے، میں نے انہیں بتایا کہ وہ مناسلو سر کرنے نیپال چلے گئے ہیں۔ کاشف کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بعد اس شخص نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معذرت کی کہ انہیں دو ہفتے پہلے کہا گیا تھا کہ شہروز کی بہترین کارکردگی پر انہیں کوئی انعام دینا ہے اور ان کی وزیراعظم سے ملاقات بھی ہے اور یہ کہ شہروز نے چونکہ اپنی گاڑی بیچی تھی لہازا ہم انہیں ایک گاڑی انعام میں دینا چاہ رہے ہیں۔ پھر مجھ سے شناختی کارڈ مانگا گیا این او سی کے لیے جو میں نے بھجوا دیا۔
کاشف نے بتایا کہ اس دوران ان کی لوگوں سے بات ہوتی رہی جن میں سے ایک غلام سرور بن کر بات کرتا تھا تو دوسرا ان کا پی اے رجب بن کر بات کرتا تھا۔ کاشف نے بتایا کہ کال کے دوران پیچھے سے وائرلیس چلنے کی آوازیں بھی آتی تھیں، جیسے ایک دفتر کا ماحول ہوتا ہے۔ پھر انہیں اسلام آباد آنے کا بھی کہا گیا تا کہ کچھ دستاویزات پر دستخط کروائے جا سکیں۔ اسکے علاوہ شہروز کو پی آئی اے میں نوکری دینے کا بھی کہا گیا۔ بعد ازاں مجھے لاہور میں رشید ہسپتال ڈیفنس روڈ پر بلایا گیا۔ یہ بظاہر ڈی جی کسٹم کا کوئی ماتحت تھا جس نے کہا کہ ڈی جی کسٹمز کی اہلیہ چونکہ کرونا میں مبتلا ہیں اس لیے وہ نہیں آ سکے اور مجھے بھیجا ہے۔ کاشف سلیمان کے مطابق وہاں مجھ سے دو لاکھ 85 ہزار روپے لیے گے اور مجھے ایک لفافہ پکڑا دیا گیا۔ مجھے کہا گیا کہ میں یہ لفافہ ڈرائی پورٹ پر جا کر دوں گا، وہاں انسپکٹر اس لفافے کو کھولے گا اور گاڑی ہمارے حوالے کر دے گا۔ میں اس شخص کو پیسے دے کر وہاں سے نکلا اور اس آدمی کو کال کی جو مجھے وزیر کا پی اے بن کر کال کر رہا تھا۔ اس کا نمبر بند تھا جس پر مجھے کچھ شک ہو گیا لیکن پھر بھی میں وہ لفافہ لے کر ڈرائی پورٹ چلا گیا۔ لیکن وہاں پہنچ کر مجھے معلوم ہوا کہ ایسا کوئی چکر نہیں ہے۔ جب میں نے فافہ کھولا تو اس کے اندر خالی سفید کاغذ تھے۔
کاشف نے بتایا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے انہیں کہا گیا تھا کہ اس واقعے کی ایف آئی آر متعلقہ تھانے میں درج کروا دوں جو میں نے تھانہ برکی روڈ میں درج کروا دی۔ اب دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ چند روز قبل ایسا ہی واقعہ اولمپئن ویٹ لفٹر طلحہ طالب کے ساتھ بھی پیش آیا تھا ، طلحہ نے بتایا کہ انہیں بھی وزیر برائے ایوی ایشن کا پرسنل سیکرٹری بن کر 16 اگست کو کسی نے کال کی تھی اور بتایا کہ وفاقی وزیر غلام سرور انہیں ان کی اچھی کارکردگی پر گاڑی انعام میں دینا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں 20 اگست کو اسی شخص کی جانب سے کال آئی کہ وہ سمبڑیال ڈرائی پورٹ سے اپنی گاڑی لے جائیں لیکن اس کے کچھ ہینڈلنگ چارجز ہیں وہ پہلے جمع کروا دیں، یہ رقم تین لاکھ روپے تھی۔ طلحہ نے بتایا کہ انہیں تین لاکھ روپے کی رقم انہیں اولمپکس میں اچھی کارکردگی دکھانے پر انعام کے طور پر ملی تھی اور ان کے والد نے وہ رقم کال کرنے والے کے بتائے ہوئے بینک اکاؤنٹ میں جمع کروا دی جس کے بعد ہم ڈرائی پورٹ گئے تو وہاں کچھ نہیں تھا۔ ہم نے کال کرنے والے شخص کو کال بھی کی لیکن اس کا فون بند تھا اور ہمیں اس کا کوئی نام و نشان نہ مل سکا۔ طلحہ نے بتایا کہ انہوں نے اس واقعے کی شکایت وزیر اعظم شکایت سیل میں درج کروا رکھی ہے۔

Close