ملا ہیبت اللہ کے بعد ملا عبدالغنی برادر کی موت کی افواہیں

افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے باوجود طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اخونزادہ کے منظر عام پر نہ آنے کے حوالے سے پہلے ہی افواہوں کا سلسلہ جاری تھا لیکن اب افغانستان کے نائب سربراہ ملا عبدالغنی برادر کی موت کی افواہ نے صورت حال اور بھی گھمبیر کردی ہے۔ غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی ایک اندرونی لڑائی میں ملا عبدالغنی برادر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ تاہم افغان طالبان نے اسے ایک افواہ قرار دیا ہے اور ملا عبدالغنی برادر کا ایک آڈیو پیغام جاری کیا ہے۔
افغان طالبان کے نائب وزیراعظم اور تنظیم کے بانی رکن ملا عبدالغنی برادر نے آڈیو بیان میں ااپنی ہلاکت کی خبروں کی تردید کی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آڈیو بیان میں ملا برادار نے اپنی ہلاکت کی خبر کو ’جھوٹا پروپیگینڈا‘ قرار دیا ہے۔ تاہم انکے حوالے سے افواہوں میں سے شدت اس لیے آ گئی ہے کہ ملا برادر نے کوئی ویڈیو پیغام جاری کرنے کی بجائے آڈیو پیغام جاری کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ آڈیو پیغام انہی کا ہے تو وہ شاید زخمی ہیں جس وجہ سے انہوں نے ویڈیو نہیں بنوائی۔
اس وقت طالبان حکومت کے عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن اخند کے معاون ملا عبدالغنی برادر سے متعلق سوشل میڈیا پر خبریں گردش کر رہی ہیں کہ صدارتی محل میں طالبان کے حریف گروہوں کے درمیان تصادم میں ملا برادر گولی لگنے سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب ملا برادر نے آڈیو پیغام میں وضاحت کی کہ ’میڈیا پر میری ہلاکت سے متعلق خبریں چل رہی ہیں حالانکہ کہ میں گزشتہ چند روز سے دوروں پر ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں اس وقت جہاں بھی ہوں، خیریت سے ہوں، اور میرے تمام بھائی اور دوست بھی بخریت ہیں۔‘ ملا برادر نے مزید کہا کہ ’میڈیا ہمیشہ جھوٹا پروپیگینڈا نشر کرتا ہے اس لیے میں بہادری سے ہر جھوٹ کو مسترد کرتا ہوں۔ انکا کہنا تھا کہ میں ایک سو فیصد تصدیق کرتا ہوں کہ ایسا کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘
تاہم دوسری جانب اے ایف پی کے مطابق ملا برادر کے پیغام کی آزاد ذرائع سے تصدیق کروانا ممکن نہیں، افغان طالبان کی سرکاری ویب سائٹ سمیت نئی حکومت کے سیاسی دفتر کے ترجمان کی ویب سائٹ پر بھی ملا برادر آڈیو پیغام نشر کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے افغان طالبان کے امیر ہبت اللہ اخونزادہ سے متعلق بھی افواہیں تھیں کہ وہ کئی سال پہلے ہلاک ہو گئے تھے، تاہم افغانستان کا مکمل قبضہ حاصل کرنے کے دو ہفتے بعد ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا تھا کہ سپریم کمانڈر قندھار میں موجود ہیں۔
پاکستان اور افغانستان میں ہونے والی چہ مگوئیوں کے مطابق ہبت اللہ اخونزادہ کورونا وائرس کا شکار ہو گئے تھے جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک بم حملے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم طالبان ترجمان کا اصرار ہے کہ ہیبت اللہ قندھار میں موجود ہیں۔ دوسری جانب سکیورٹی امور پر گہری نظر رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ملا ہیبت اور عبد الغنی برادر زندہ ہیں تو انہیں یا تو عوام کے سامنے آنا چاہیے یا اپنا تازہ ویڈیو پیغام جاری کرنا چاہیے تاکہ ان سے متعلق افواہوں کا خاتمہ ہو سکے۔

Close