عوام کا اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا وقت آ گیا

سابق وزیراعظم نواز شریف نے پاکستانی عوام، سیاسی جماعتوں، صحافیوں اور تمام مکتبہ فکر کے لوگوں کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کی کال دے دی یے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے پر کل بھی کھڑے تھے اور آج بھی کھڑے ہیں اور جب تک سیاست میں مداخلت بند نہیں کی جائے گی وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
13 ستمبر کو لندن میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بننے کے ساتھ ہی اسٹیبلشمنٹ نے ملکی اور سیاسی معاملات میں مداخلت کرنا شروع کردی تھی۔ جب تک یہ بند نہیں ہوتی، ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ فوج کی موجودہ قیادت سے ان کا کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ہے وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ سیاست اور حکومت کے معاملات میں مداخلت بند کی جائے، آئین کے دائرے میں سب اداروں کو کام کرنے کی اجازت دی جائے، انتخابات چوری نہ کیے جائیں اور ووٹ کو عزت دی جائے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے مستقبل قریب میں اپنے پاکستان واپس جانے کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب مناسب وقت آئے گا تو وہ انشااللہ واپس بھی چلے جائیں گے۔ جب ان سے افغانستان کے حالات کے بارے میں پوچھا گیا تو سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کیا یہ ضروری ہے پاکستان ہر معاملے میں دخل دے۔ گو پاکستانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کر رہی لیکن بظاہر میاں نواز شریف اس سے متفق نظر نہیں آتے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ افغانستان کا حق ہے کہ وہ اپنے فیصلے خود کرے، ہمیں کیوں انھیں بتانا ہے کہ وہ کیا کریں؟‘ انھوں نے کہا کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ افغان صدور حامد کرزئی اور اشرف غنی انڈیا سے تو خوش رہے ہیں لیکن پاکستان سے نالاں رہے۔ نواز شریف نے کہا کہ انھوں نے 1999 سے جو بیانیہ اپنایا ہے اس پر قائم ہیں اور اس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔کارگل کی لڑائی اور ڈان لیکس کے تناظر میں بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ انھوں نے کارگل کے خلاف بھی سٹینڈ لیا اور ہم نے شدت پسندی کے بارے میں جن اقدامات کا کہا وہ انھیں اب سب کرنے پڑ رہے ہیں۔
سابق وزیراعظم نے عدالت کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے پر کہا کہ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ کون عدالتوں سے فیصلے کروا رہا تھا۔ ان کے مطابق جھوٹے کیسوں میں ان کو نااہل کروایا گیا اور وہ فیصلے اب واپس ہونے چاہئیں۔ نواز شریف نے مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کا الزام بھی اسٹیبلشمنٹ پر لگایا اور کہا کہ مجیب الرحمان کے چھ نکات ملک دشمن نہیں تھے۔ ان کے بقول ہم نے بنگالیوں کو الگ ہونے کے لیے مجبور کیا۔ سابق وزیراعظم نے ریٹائر لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ سمیت ان تمام سے رسیدیں دینے کا مطالبہ کیا جنھوں نے کروڑوں ڈالر کی جائیدادیں بنائی ہیں۔میاں نواز شریف نے اپنے دور ھکومت کے بارے میں کہا کہ تب ملک یر شعبے میں ترقی کر رہا تھا لیکن انہیں ہٹا کر اسٹیبلشمنٹ جسے اقتدسر۔میں لائی اس نے ملک کے ہر شعبے میں تباہی مچا دی۔۔ انہوں نے کہا کہ ’سوال یہ ہے کہ عمران کو لانے والے کس ایجنڈے کی تکمیل کے لیے انھیں لائے ہیں؟‘ نواز شریف نے میڈیا ہر مبینہ قدغنوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ سب کی آواز بند کی جارہی ہے لیکن ’ہم سر نہیں جھکائیں گے۔‘

Close