کیا بزدار کو مخالفین بارے اندر کی خبر کپتان دیتا ہے؟

وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلی عثمان بزدار کے مابین مثالی انڈرسٹینڈنگ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صبح سے شام تک حکومت میں موجود بزدار کے مخالف ان کی جتنی بھی شکایات کپتان کو واٹس اپ کرتے ہیں وہ انہیں وزیر اعلیٰ کو فارورڈ کر دیتے ہیں تاکہ انہیں پتہ ہو کہ انکا دوست کون ہے اور دشمن کون؟ یہ انکشاف سینئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چودھری نے اپنی تازہ تحریر میں کیا ہے۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ پنجاب میں ایک مرتبہ پھر چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کی تبدیلی پر ان کے لکھے ہوئے کالم کے ردعمل میں پنجاب حکومت کے ایما پر ایک شخص نے انہیں فون کیا اور لمبی کہانی ڈالی۔ چونکہ وہ اپنا نام خفیہ رکھنا چاہتا تھا اس لیے جاوید چوہدری نے بھی اس شخص کا نام نہیں بتایا۔ فون کرنے والے نے ان سے کہا کہ ’’پنجاب میں بے شک تین برسوں میں ساتواں آئی جی اور پانچواں چیف سیکریٹری آ گیا ہے لیکن اب آنے والے دراصل وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی اپنی مرضی کے پہلے چیف سیکریٹری اور پہلے آئی جی ہیں۔ اسکا کہنا تھا کہ پنجاب کو تین برسوں میں جتنے آئی جی اور چیف سیکریٹری ملے وہ وزیراعظم آفس سے ملے اور وزیراعلیٰ کو صرف وہ برداشت کرنا پڑے لیکن اس بار سی ایم نے پہلی مرتبہ آئی جی اور چیف سیکریٹری کے لیے وزیراعظم سے بات بھی کی اور باقاعدہ خط لکھ کر اپنی مرضی کے آفیسر بھی لیے چناں چہ آپ کو وزیراعلیٰ کی چوائس کو تھوڑا سا وقت دینا چاہیے‘‘۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں نے اس شخص سے اتفاق کیا اور پوچھا کہ ’’لیکن پرانی ٹیم میں کیا خرابی تھی؟‘‘ ذرائع نے مسکرا کر جواب دیا ’’آئی جی انعام غنی کی تمام پرفارمنس بریفنگز اور پریزنٹیشن تک محدود تھی۔
وزیراعلیٰ نے اپنے ذرائع سے پولیس کی کارکردگی کا جائزہ لیا تو پنجاب کی صورت حال بہت خراب نکلی‘ مینار پاکستان کے واقعے سے قبل اسپیشل برانچ نے آئی جی آفس کو مینار پاکستان پر سیکیورٹی کی کم زوریوں سے مطلع کر دیا تھا لیکن یہ خط فائلوں میں پڑا رہ گیا‘ مینار پاکستان کے واقعے کے بعد آئی جی کا ردعمل بھی عمومی تھا‘ وہ اس واقعے کو چھوٹا اور غیر اہم سمجھ رہے تھے جب کہ وزیراعلیٰ کی نظر میں یہ بہت اہم تھا۔ جاوید چوہدری کو فون کرنے والے کا موقف تھا کہ آئی جی نے گھنٹی ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کے گلے میں باندھنے کی کوشش بھی کی لیکن وزیراعلیٰ نے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور ساجد کیانی کو او ایس ڈی بنادیا جب کہ ایس ایس پی آپریشنز سید ندیم عباس اور ایس پی سٹی حسن جہانگیر کو عہدوں سے ہٹا دیا۔آئی جی نے مزاحمت کی کوشش کی اور یوں وہ بھی فارغ ہو گئے۔ اس کا مذید کہنا تھا کہ چیف سیکریٹری جواد رفیق ملک بھلے انسان ہیں لیکن وہ صرف نوکری کر رہے تھے۔ وہ تمام تقرریاں اور تبادلے وزراء اور وزیراعلیٰ آفس کے اشارے پر کرتے تھے اور وزیراعلیٰ کو یہ اچھا نہیں لگتا تھا۔ ان کی خواہش تھی چیف سیکریٹری آدھے ہی سہی لیکن میرٹ پر فیصلے کرے مگر ان می ںشاید اتنی ہمت نہیں تھی چناں چہ یہ بھی چلے گئے۔ چنانچہ وزیراعلیٰ بزدار اس بار خود اپنی مرضی سے تگڑے افسر لے کر آئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پنجاب میں تبدیلی آئے‘‘۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ میں نے فون کرنے والے شخص سے پوچھا پوچھا ’’کیا یہ تبدیلی صرف یہاں تک رہے گی‘‘۔ اس نے ہنس کر جواب دیا: ’’نہیں اب کابینہ میں بھی تبدیلی آئے گی۔ وزیراعلیٰ خود اپنی مرضی کی ٹیم چنیں گے اور انھیں وزیراعظم کی مکمل حمایت حاصل ہو گی‘‘۔ اس نے لمبا سانس لیا اور فرمایا: ’’آپ شاید یہ جان کر حیران ہوں گے ملک میں کوئی اور ایک پیج پر ہو یا نہ ہو لیکن عمران خان اور عثمان بزدار دونوں ون پیج پر ہیں‘‘۔ میں نے پوچھا ’’کس قدر؟‘‘ اس نے ہنس کر جواب دیا ’’آپ دو مثالیں لے لیں۔ پنجاب کے آدھ درجن وزراء واٹس ایپ کے ذریعے وزیراعظم کو روزانہ وزیراعلیٰ کی شکایتیں لگاتے تھے وزیراعلیٰ نے آج فلاں اہم میٹنگ منسوخ کر دی۔ وہ فلاں جگہ پر لیٹ پہنچے۔ وہ اپوزیشن کے فلاں شخص سے مل رہے ہیں۔ وہ اور ان کا خاندان اتنی کرپشن کر رہا ہے اور وزیراعلیٰ نے یہ بات غلط کر دی وغیرہ وغیرہ۔ فون پر گفتگو کرنے والے شخص نے کہا آپ دونوں کے درمیان مثالی کوآرڈی نیشن دیکھیں۔ عمران خان یہ تمام پیغامات وزیراعلیٰ کو بھجوا دیتے تھے چناں چہ سی ایم جانتے ہیں کہ کون ان کا حامی اور کون مخالف ہے؟یہ بس خاموشی سے مناسب وقت کا انتظار کرتے رہے اور وہ وقت آگیا ہے۔
جاوید چوہدری لکھتے ہیں کہ وزیراعلیٰ نے فردوس عاشق اعوان کو ہٹاکر اپنے مسلز چیک کر لیے۔ یہ فیصلہ ان کا تھا اور وزیراعظم نے فردوس بی بی کو ’’آپ اپنے باس سے بات کریں‘‘ کہہ کر وزیراعلیٰ کو پوری سپورٹ دی۔وزیر اعلیٰ اب کابینہ میں بھی باس بن کر دکھائیں گے۔ کابینہ ری شفل ہو گی اور بڑے بڑے وزراء فارغ ہو کر گھر چلے جائیں گے۔ دوسری مثال ملک کے تمام طاقت ور حلقوں‘ اپوزیشن اور پارٹی کے اہم لیڈروں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا لیکن وزیراعظم نے عثمان بزدار کو نہیں ہٹایا۔ اسد عمر تبدیل ہو گئے۔
عمر ایوب‘ خسرو بختیار‘ حماد اظہر‘شبلی فراز‘ فواد چوہدری اور شیخ رشید بدل گئے لیکن عثمان بزدار نہیں بدلے۔ کیا یہ ون پیج نہیں ہے؟‘‘ میں نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ’’یہ دونوں مثالیں حیران کن ہیں اور میرے پاس اعتراف کے سوا کوئی چارہ نہیں‘‘۔

Close